صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
36. بَابُ غَزْوَةِ الْحُدَيْبِيَةِ:
باب: غزوہ حدیبیہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 4186
حَدَّثَنِي شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ , سَمِعَ النَّضْرَ بْنَ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا صَخْرٌ , عَنْ نَافِعٍ , قَالَ:" إِنَّ النَّاسَ يَتَحَدَّثُونَ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَسْلَمَ قَبْلَ عُمَرَ وَلَيْسَ كَذَلِكَ , وَلَكِنْ عُمَرُ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ أَرْسَلَ عَبْدَ اللَّهِ إِلَى فَرَسٍ لَهُ عِنْدَ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ يَأْتِي بِهِ لِيُقَاتِلَ عَلَيْهِ , وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَايِعُ عِنْدَ الشَّجَرَةِ , وَعُمَرُ لَا يَدْرِي بِذَلِكَ , فَبَايَعَهُ عَبْدُ اللَّهِ ثُمَّ ذَهَبَ إِلَى الْفَرَسِ , فَجَاءَ بِهِ إِلَى عُمَرَ وَعُمَرُ يَسْتَلْئِمُ لِلْقِتَالِ , فَأَخْبَرَهُ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَايِعُ تَحْتَ الشَّجَرَةِ , قَالَ: فَانْطَلَقَ فَذَهَبَ مَعَهُ حَتَّى بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهِيَ الَّتِي يَتَحَدَّثُ النَّاسُ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَسْلَمَ قَبْلَ عُمَرَ".
مجھ سے شجاع بن ولید نے بیان کیا ‘ انہوں نے نضر بن محمد سے سنا ‘ کہا ہم سے صخر بن جویریہ نے بیان کیا اور ان سے نافع نے بیان کیا کہ لوگ کہتے ہیں کہ عبداللہ، عمر رضی اللہ عنہ سے پہلے اسلام میں داخل ہوئے تھے، حالانکہ یہ غلط ہے۔ البتہ عمر رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو اپنا ایک گھوڑا لانے کے لیے بھیجا تھا ‘ جو ایک انصاری صحابی کے پاس تھا تاکہ اسی پر سوار ہو کر جنگ میں شریک ہوں۔ اسی دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم درخت کے نیچے بیٹھ کر بیعت لے رہے تھے۔ عمر رضی اللہ عنہ کو ابھی اس کی اطلاع نہیں ہوئی تھی۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے پہلے بیعت کی پھر گھوڑا لینے گئے۔ جس وقت وہ اسے لے کر عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو وہ جنگ کے لیے اپنی زرہ پہن رہے تھے۔ انہوں نے اس وقت عمر رضی اللہ عنہ کو بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم درخت کے نیچے بیعت لے رہے ہیں۔ بیان کیا کہ پھر آپ اپنے لڑکے کو ساتھ لے گئے اور بیعت کی۔ اتنی سی بات تھی جس پر لوگ اب کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ سے پہلے ابن عمر رضی اللہ عنہما اسلام لائے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4186]
حضرت نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”لوگ باتیں کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنے والد گرامی حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے پہلے مسلمان ہوئے تھے، حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ اصل واقعہ یہ ہے کہ حدیبیہ کے روز حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کو ایک انصاری کے پاس اپنا گھوڑا لانے کے لیے بھیجا تاکہ اسے جہاد میں استعمال کریں۔ اس دوران میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم درخت کے نیچے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بیعت لے رہے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اس کا علم نہیں تھا۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کی بیعت کی، پھر گھوڑا لینے کے لیے گئے اور اسے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس لائے، اس وقت حضرت عمر رضی اللہ عنہ جہاد کے لیے زرہ پہن رہے تھے۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے آپ کو بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم درخت کے نیچے بیعت لے رہے ہیں۔ تب حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنے بیٹے عبداللہ رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے کر گئے حتی کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی۔ یہ ہے اصل واقعہ جس کے متعلق لوگ باتیں کرتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنے باپ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے پہلے مسلمان ہوئے ہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4186]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
تخریج وتحقیقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
الجامع الكامل حدیث نمبر :
8989
الجامع الكامل حدیث نمبر :
8989
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله | ثقة ثبت مشهور | |
👤←👥صخر بن جويرية البصري، أبو نافع صخر بن جويرية البصري ← نافع مولى ابن عمر | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥النضر بن محمد الجرشي، أبو محمد النضر بن محمد الجرشي ← صخر بن جويرية البصري | ثقة له أفراد | |
👤←👥شجاع بن الوليد البخاري، أبو الليث شجاع بن الوليد البخاري ← النضر بن محمد الجرشي | صدوق حسن الحديث |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
4186
| يبايع عند الشجرة وعمر لا يدري بذلك فبايعه عبد الله ثم ذهب إلى الفرس فجاء به إلى عمر وعمر يستلئم للقتال فأخبره أن رسول الله يبايع تحت الشجرة قال فانطلق فذهب معه حتى بايع رسول الله فهي التي يتحدث الناس أن ابن عمر أسلم |
المعجم الصغير للطبراني |
579
| أشهدت بيعة الرضوان مع رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال نعم قال قلت فما كان عليه قال قميص من قطن وجبة محشوة ورداء وسيف ورأيت النعمان بن مقرن المزني قائما على رأسه قد رفع أغصان الشجرة عن رأسه والناس يبايعونه |
Sahih Bukhari Hadith 4186 in Urdu
صخر بن جويرية البصري ← نافع مولى ابن عمر