صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
39. باب غزوة خيبر:
باب: غزوہ خیبر کا بیان۔
حدیث نمبر: 4204
وَقَالَ شَبِيبٌ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ الْمُسَيَّبِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ، أن أبا هريرة، قَالَ: شَهِدْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُنَيْنًا، وَقَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَابَعَهُ صَالِحٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، وَقَالَ الزُّبَيْدِيُّ: أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ كَعْبٍ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْ شَهِدَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ، قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَأَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَسَعِيدٌ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
اور شبیب نے یونس سے بیان کیا ‘ انہوں نے ابن شہاب زہری سے ‘ انہیں سعید بن مسیب اور عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کعب نے خبر دی ‘ ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ خیبر میں موجود تھے اور ابن مبارک نے بیان کیا ‘ ان سے یونس نے ‘ ان سے زہری نے ‘ ان سے سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے۔ اس روایت کی متابعت صالح نے زہری سے کی اور زبیدی نے بیان کیا ‘ انہیں زہری نے خبر دی ‘ انہیں عبدالرحمٰن بن کعب نے خبر دی اور انہیں عبیداللہ بن کعب نے خبر دی کہ مجھے ان صحابی نے خبر دی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ خیبر میں موجود تھے۔ زہری نے بیان کیا اور مجھے عبیداللہ بن عبداللہ اور سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ نے خبر دی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4204]
حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ خیبر کے مقام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مشرکین آمنے سامنے ہوئے تو خوب لڑائی ہوئی۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لشکر کی طرف واپس آ گئے اور مشرکین اپنے لشکر کی طرف لوٹ گئے، اس دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں میں ایک ایسا شخص تھا جو جماعت سے الگ ہو جانے والے یا تنہا رہ جانے والے مشرک کو نہیں چھوڑتا تھا۔ وہ اس کا پیچھا کرتا اور اپنی تلوار سے اسے موت کے گھاٹ اتار دیتا۔ اس کے متعلق چرچا ہونے لگا کہ جتنا کام اس نے کیا ہے ہم میں سے کسی نے بھی اتنا کام نہیں کیا۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق فرمایا: ”تم آگاہ رہو کہ یہ شخص دوزخی ہے۔“ قوم میں سے ایک آدمی نے کہا: ”میں اس شخص کے ساتھ رہتا ہوں“، چنانچہ وہ اس کے ساتھ رہا۔ جہاں وہ ٹھہرتا یہ بھی ٹھہر جاتا اور جب وہ تیز چلتا تو یہ بھی اس کے ساتھ تیز چلنے لگتا۔ جب وہ شخص زخموں سے نڈھال ہو گیا تو اس نے جلدی مرنا چاہا، اس لیے اس نے اپنی تلوار زمین پر رکھی اور اس کی تیز نوک اپنے سینے پر رکھی، پھر اپنی تلوار پر زور دیا، اس طرح اس نے خودکشی کر لی۔ دوسرا شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا: ”اللہ کے رسول! میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔“ آپ نے فرمایا: ”کیا بات ہے؟“ اس نے کہا: ”جس آدمی کے متعلق آپ نے ابھی ابھی ذکر کیا تھا کہ وہ جہنمی ہے اور لوگوں پر یہ بات بڑی گراں گزری تھی، میں نے اس کے متعلق ذمہ داری اٹھائی تھی، چنانچہ میں اس کی تلاش میں نکلا، وہ سخت زخمی ہو گیا اور جلدی مرنا چاہا تو اس نے اپنی تلوار کی نوک زمین پر رکھی، پھر اسے اپنے سینے کے درمیان کر کے اس پر جھول گیا اور خودکشی کر لی۔“ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی بظاہر لوگوں کے سامنے اہل جنت والے کام کرتا ہے، حالانکہ وہ جہنمی ہوتا ہے اور اسی طرح کوئی آدمی بظاہر لوگوں کے سامنے اہل جہنم والے کام کرتا ہے لیکن انجام کار وہ جنتی ہوتا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4204]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
Sahih Bukhari Hadith 4204 in Urdu
عبيد الله بن عبد الله الهذلي ← سعيد بن المسيب القرشي