صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
39. بَابُ غَزْوَةُ خَيْبَرَ:
باب: غزوہ خیبر کا بیان۔
حدیث نمبر: 4195
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ سُوَيْدَ بْنَ النُّعْمَانِ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ:" خَرَجَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ خَيْبَرَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالصَّهْبَاءِ وَهِيَ مِنْ أَدْنَى خَيْبَرَ صَلَّى الْعَصْرَ، ثُمَّ دَعَا بِالْأَزْوَادِ فَلَمْ يُؤْتَ إِلَّا بِالسَّوِيقِ، فَأَمَرَ بِهِ، فَثُرِّيَ فَأَكَلَ وَأَكَلْنَا، ثُمَّ قَامَ إِلَى الْمَغْرِبِ، فَمَضْمَضَ وَمَضْمَضْنَا، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ".
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا ‘ ان سے امام مالک رحمہ اللہ نے ‘ ان سے یحییٰ بن سعید نے ‘ ان سے بشیر بن یسار نے اور انہیں سوید بن نعمان رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ غزوہ خیبر کے لیے وہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے تھے۔ (بیان کیا) جب ہم مقام صہبا میں پہنچے جو خیبر کے نشیب میں واقع ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھی پھر آپ نے توشہ سفر منگوایا۔ ستو کے سوا اور کوئی چیز آپ کی خدمت میں نہیں لائی گئی۔ وہ ستو آپ کے حکم سے بھگویا گیا اور وہی آپ نے بھی کھایا اور ہم نے بھی کھایا۔ اس کے بعد مغرب کی نماز کے لیے آپ کھڑے ہوئے (چونکہ وضو پہلے سے موجود تھا) اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی صرف کلی کی اور ہم نے بھی ‘ پھر نماز پڑھی اور اس نماز کے لیے نئے سرے سے وضو نہیں کیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4195]
حضرت سوید بن نعمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بتایا کہ وہ خیبر کے سال نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے۔ فرماتے ہیں کہ ”جب ہم مقام صہباء پر پہنچے جو خیبر کے قریب ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں نماز عصر ادا کی، پھر کھانا طلب فرمایا۔ آپ کو صرف ستو پیش کیے گئے۔ آپ کے حکم کے مطابق انہیں پانی میں گھول دیا گیا۔ پھر آپ نے وہ تیار شدہ ستو کھائے اور ہم نے بھی کھائے۔ اس کے بعد آپ نماز مغرب ادا کرنے کے لیے اٹھے۔ آپ نے صرف کلی کی اور ہم نے بھی ایسا ہی کیا۔ پھر آپ نے نماز مغرب ادا کی اور نئے سرے سے وضو نہیں کیا۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4195]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4196
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَيْبَرَ، فَسِرْنَا لَيْلًا، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ لِعَامِرٍ: يَا عَامِرُ، أَلَا تُسْمِعُنَا مِنْ هُنَيْهَاتِكَ؟ وَكَانَ عَامِرٌ رَجُلًا شَاعِرًا، فَنَزَلَ يَحْدُو بِالْقَوْمِ يَقُولُ: اللَّهُمَّ لَوْلَا أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا فَاغْفِرْ فِدَاءً لَكَ مَا أَبْقَيْنَا وَأَلْقِيَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا وَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا إِنَّا إِذَا صِيحَ بِنَا أَبَيْنَا وَبِالصِّيَاحِ عَوَّلُوا عَلَيْنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ هَذَا السَّائِقُ؟"، قَالُوا: عَامِرُ بْنُ الْأَكْوَعِ، قَالَ:" يَرْحَمُهُ اللَّهُ"، قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: وَجَبَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، لَوْلَا أَمْتَعْتَنَا بِهِ فَأَتَيْنَا خَيْبَرَ فَحَاصَرْنَاهُمْ حَتَّى أَصَابَتْنَا مَخْمَصَةٌ شَدِيدَةٌ، ثُمَّ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى فَتَحَهَا عَلَيْهِمْ، فَلَمَّا أَمْسَى النَّاسُ مَسَاءَ الْيَوْمِ الَّذِي فُتِحَتْ عَلَيْهِمْ أَوْقَدُوا نِيرَانًا كَثِيرَةً، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا هَذِهِ النِّيرَانُ؟ عَلَى أَيِّ شَيْءٍ تُوقِدُونَ؟"، قَالُوا: عَلَى لَحْمٍ، قَالَ:" عَلَى أَيِّ لَحْمٍ؟"، قَالُوا: لَحْمِ حُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَهْرِيقُوهَا وَاكْسِرُوهَا"، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَوْ نُهَرِيقُهَا وَنَغْسِلُهَا؟، قَالَ:" أَوْ ذَاكَ"، فَلَمَّا تَصَافَّ الْقَوْمُ كَانَ سَيْفُ عَامِرٍ قَصِيرًا , فَتَنَاوَلَ بِهِ سَاقَ يَهُودِيٍّ لِيَضْرِبَهُ وَيَرْجِعُ ذُبَابُ سَيْفِهِ، فَأَصَابَ عَيْنَ رُكْبَةِ عَامِرٍ فَمَاتَ مِنْهُ، قَالَ: فَلَمَّا قَفَلُوا , قَالَ سَلَمَةُ: رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ آخِذٌ بِيَدِي قَالَ:" مَا لَكَ؟"، قُلْتُ لَهُ: فَدَاكَ أَبِي وَأُمِّي زَعَمُوا أَنَّ عَامِرًا حَبِطَ عَمَلُهُ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَذَبَ مَنْ قَالَهُ، إِنَّ لَهُ لَأَجْرَيْنِ، وَجَمَعَ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ إِنَّهُ لَجَاهِدٌ مُجَاهِدٌ , قَلَّ عَرَبِيٌّ مَشَى بِهَا مِثْلَهُ". حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، قَالَ: نَشَأَ بِهَا.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے حاتم بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ ان سے یزید بن ابی عبید نے اور ان سے سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر کی طرف نکلے۔ رات کے وقت ہمارا سفر جاری تھا کہ ایک صاحب (اسید بن حضیر) نے عامر سے کہا: عامر! اپنے کچھ شعر سناؤ ‘ عامر شاعر تھے۔ اس فرمائش پر وہ سواری سے اتر کر حدی خوانی کرنے لگے۔ کہا ”اے اللہ! اگر تو نہ ہوتا تو ہمیں سیدھا راستہ نہ ملتا ‘ نہ ہم صدقہ کر سکتے اور نہ ہم نماز پڑھ سکتے۔ پس ہماری جلدی مغفرت کر، جب تک ہم زندہ ہیں ہماری جانیں تیرے راستے میں فدا ہیں اور اگر ہماری مڈبھیڑ ہو جائے تو ہمیں ثابت رکھ ہم پر سکینت نازل فرما، ہمیں جب (باطل کی طرف) بلایا جاتا ہے تو ہم انکار کر دیتے ہیں، آج چلا چلا کر وہ ہمارے خلاف میدان میں آئے ہیں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کون شعر کہہ رہا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ عامر بن اکوع ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ اس پر اپنی رحمت نازل فرمائے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے تو انہیں شہادت کا مستحق قرار دے دیا ‘ کاش! ابھی اور ہمیں ان سے فائدہ اٹھانے دیتے۔ پھر ہم خیبر آئے اور قلعہ کا محاصرہ کیا ‘ اس دوران ہمیں سخت تکالیف اور فاقوں سے گزرنا پڑا۔ آخر اللہ تعالیٰ نے ہمیں فتح عطا فرمائی۔ جس دن قلعہ فتح ہونا تھا ‘ اس کی رات جب ہوئی تو لشکر میں جگہ جگہ آگ جل رہی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ آگ کیسی ہے ‘ کس چیز کے لیے اسے جگہ جگہ جلا رکھا ہے؟ صحابہ رضی اللہ عنہم بولے کہ گوشت پکانے کے لیے ‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کس جانور کا گوشت ہے؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے بتایا کہ پالتو گدھوں کا ‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمام گوشت پھینک دو اور ہانڈیوں کو توڑ دو۔ ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ایسا نہ کر لیں کہ گوشت تو پھینک دیں اور ہانڈیوں کو دھو لیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یوں ہی کر لو پھر (دن میں جب صحابہ رضی اللہ عنہم نے جنگ کے لیے) صف بندی کی تو چونکہ عامر رضی اللہ عنہ کی تلوار چھوٹی تھی ‘ اس لیے انہوں نے جب ایک یہودی کی پنڈلی پر (جھک کر) وار کرنا چاہا تو خود انہیں کی تلوار کی دھار سے ان کے گھٹنے کا اوپر کا حصہ زخمی ہو گیا اور ان کی شہادت اسی میں ہو گئی۔ بیان کیا کہ پھر جب لشکر واپس ہو رہا تھا تو سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا اور میرا ہاتھ پکڑ کر فرمایا ‘ کیا بات ہے؟ میں نے عرض کیا ‘ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ‘ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ عامر رضی اللہ عنہ کا سارا عمل اکارت ہو گیا (کیونکہ خود اپنی ہی تلوار سے ان کی وفات ہوئی)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جھوٹا ہے وہ شخص جو اس طرح کی باتیں کرتا ہے ‘ انہیں تو دوہرا اجر ملے گا پھر آپ نے اپنی دونوں انگلیوں کو ایک ساتھ ملایا ‘ انہوں نے تکلیف اور مشقت بھی اٹھائی اور اللہ کے راستے میں جہاد بھی کیا ‘ شاید ہی کوئی عربی ہو ‘ جس نے ان جیسی مثال قائم کی ہو۔ ہم سے قتیبہ نے بیان کیا ‘ ان سے حاتم نے (بجائے «مشى بها» کے) «نشأ بها» نقل کیا یعنی کوئی عرب مدینہ میں عامر رضی اللہ عنہ جیسا نہیں ہوا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4196]
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ خیبر کی طرف نکلے تو ہم رات بھر چلتے رہے۔ ایک آدمی نے حضرت عامر رضی اللہ عنہ سے کہا: ”اے عامر! تم ہمیں اپنے شعر کیوں نہیں سناتے ہو؟“ حضرت عامر رضی اللہ عنہ شاعر تھے، اپنی سواری سے اتر کر حدی خوانی کرتے ہوئے یہ شعر سنانے لگے: ”گر نہ ہوتی تیری رحمت اے شاہِ عالی صفات، تو نمازیں ہم نہ پڑھتے اور نہ دیتے ہم زکاۃ؛ تجھ پر صدقے جب تلک ہم زندہ رہیں؛ بخش دے ہم کو لڑائی میں عطا کر ثبات؛ اپنی رحمت ہم پہ نازل کر شہِ والا صفات؛ جب وہ ناحق چیختے سنتے نہیں ہم ان کی بات؛ چیخ چلا کر انہوں نے ہم سے چاہی ہے نجات۔“ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کون حدی خواں ہے؟“ لوگوں نے کہا: ”حضرت عامر بن اکوع رضی اللہ عنہ!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ان پر اپنی رحمت نازل فرمائے۔“ یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اللہ کے رسول! اب تو حضرت عامر رضی اللہ عنہ کے لیے شہادت یا جنت لازم ہو گئی۔ کاش! آپ ہمیں ان سے مزید فائدہ اٹھانے دیتے۔“ پھر ہم خیبر آئے اور اہل خیبر کا محاصرہ کر لیا۔ اس دوران میں ہمیں سخت بھوک لگی۔ آخر اللہ تعالیٰ نے ہمیں فتح عطا فرمائی۔ جس دن خیبر فتح ہوا اس رات لوگوں نے جگہ جگہ آگ روشن کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کیسی آگ ہے؟“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: ”لوگ گوشت پکا رہے ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کس جانور کا گوشت ہے؟“ انہوں نے کہا: ”پالتو گدھوں کا گوشت ہے۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس گوشت کو پھینک دو اور ہنڈیوں کو توڑ دو۔“ ایک شخص نے عرض کی: ”اللہ کے رسول! ہم (ایسا نہ کریں کہ) گوشت کو پھینک کر ہنڈیوں کو دھو لیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یوں ہی کر لو۔“ پھر جب قوم صف بندی کر چکی تو حضرت عامر رضی اللہ عنہ نے اپنی تلوار جو چھوٹی تھی ایک یہودی کی پنڈلی پر ماری تو اس کی نوک پلٹ کر حضرت عامر رضی اللہ عنہ کے گھٹنے پر لگی۔ حضرت عامر رضی اللہ عنہ اس زخم سے فوت ہو گئے۔ راوی کا بیان ہے کہ جب سب لوگ واپس آئے تو سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے (مغموم) دیکھ کر میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: ”کیا بات ہے؟“ میں نے عرض کی: ”میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! لوگ کہتے ہیں کہ عامر کی نیکیاں بے کار گئیں۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جھوٹا ہے وہ شخص جو اس طرح کی باتیں کرتا ہے۔ حضرت عامر رضی اللہ عنہ کو تو دوہرا اجر ملے گا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دونوں انگلیوں کو ایک ساتھ ملایا اور فرمایا: ”عامر نے تکلیف اور مشقت بھی اٹھائی اور اللہ کے راستے میں جہاد بھی کیا۔ شاید ہی کوئی ایسا عربی ہو جس نے ان جیسی مثال قائم کی ہو۔“ ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، ان سے حاتم نے بیان کیا کہ: ”کوئی عرب مدینہ طیبہ میں عامر جیسا پیدا نہیں ہوا۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4196]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4197
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى خَيْبَرَ لَيْلًا، وَكَانَ إِذَا أَتَى قَوْمًا بِلَيْلٍ لَمْ يُغِرْ بِهِمْ حَتَّى يُصْبِحَ، فَلَمَّا أَصْبَحَ خَرَجَتْ الْيَهُودُ بِمَسَاحِيهِمْ وَمَكَاتِلِهِمْ، فَلَمَّا رَأَوْهُ قَالُوا: مُحَمَّدٌ وَاللَّهِ مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَرِبَتْ خَيْبَرُ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف تینسی نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی ‘ انہیں حمید طویل نے اور انہیں انس رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر رات کے وقت پہنچے۔ آپ کا قاعدہ تھا کہ جب کسی قوم پر حملہ کرنے کے لیے رات کے وقت موقع پر پہنچتے تو فوراً ہی حملہ نہیں کرتے بلکہ صبح ہو جاتی جب کرتے۔ چنانچہ صبح کے وقت یہودی اپنے کلہاڑے اور ٹوکرے لے کر باہر نکلے لیکن جب انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو شور کرنے لگے کہ محمد ‘ اللہ کی قسم! محمد لشکر لے کر آ گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خیبر برباد ہوا ‘ ہم جب کسی قوم کے میدان میں اتر جاتے ہیں تو ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بری ہو جاتی ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4197]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت خیبر پہنچے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی کہ جب کسی قوم کے پاس رات کے وقت پہنچتے تو صبح ہونے تک ان پر حملہ نہیں کرتے تھے، چنانچہ جب صبح ہوئی تو یہودی کلہاڑے اور ٹوکریاں لے کر باہر نکلے، جب انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو کہنے لگے: ”اللہ کی قسم! یہ تو محمد اور ان کا لشکر ہے۔ اللہ کی قسم! یہ تو محمد اور ان کا لشکر ہے۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «خَرِبَتْ خَيْبَرُ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ» ”خیبر تباہ ہو گیا، جب ہم کسی قوم کے میدان میں اتر پڑیں تو ڈرائے ہوئے لوگوں کے لیے صبح بہت بری ہوتی ہے۔“ ﴿فَإِذَا نَزَلَ بِسَاحَتِهِمْ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ﴾ [سورة الصافات: 177] ۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4197]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4198
أَخْبَرَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: صَبَّحْنَا خَيْبَرَ بُكْرَةً، فَخَرَجَ أَهْلُهَا بِالْمَسَاحِي، فَلَمَّا بَصُرُوا بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا: مُحَمَّدٌ , وَاللَّهِ مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ، فقال النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّهُ أَكْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ"، فَأَصَبْنَا مِنْ لُحُومِ الْحُمُرِ، فَنَادَى مُنَادِي النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يَنْهَيَانِكُمْ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ فَإِنَّهَا رِجْسٌ.
ہمیں صدقہ بن فضل نے خبر دی ‘ کہا ہم کو ابن عیینہ نے خبر دی ‘ کہا ہم سے ایوب نے بیان کیا ‘ ان سے محمد بن سیرین نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم خیبر صبح کے وقت پہنچے ‘ یہودی اپنے پھاؤڑے وغیرہ لے کر باہر آئے لیکن جب انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو چلانے لگے محمد! اللہ کی قسم محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) لشکر لے کر آ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی ذات سب سے بلند و برتر ہے۔ یقیناً جب ہم کسی قوم کے میدان میں اتر جائیں تو پھر ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بری ہو جاتی ہے۔ پھر ہمیں وہاں گدھے کا گوشت ملا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اعلان کرنے والے نے اعلان کیا کہ اللہ اور اس کے رسول تمہیں گدھے کا گوشت کھانے سے منع کرتے ہیں کہ یہ ناپاک ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4198]
حضرت انس رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم نے صبح کے وقت خیبر پر حملہ کیا۔ اس وقت یہودی اپنے کلہاڑے اور ٹوکریاں لیے باہر نکل رہے تھے۔ جب انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو کہنے لگے: ”(حضرت) محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) آ گئے ہیں، اللہ کی قسم! محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) لشکر لے کر حملہ آور ہوئے ہیں۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللّٰهُ أَكْبَرُ، خَرِبَتْ خَيْبَرُ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ» ”اللہ کی ذات سب سے بلند و برتر ہے۔ خیبر تباہ و برباد ہو گیا۔ جب ہم کسی قوم کے میدان میں اتر پڑیں تو ﴿فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ﴾ [سورة الصافات: 177] ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بہت بری ہوتی ہے۔“ ہمیں وہاں گدھوں کا گوشت ملا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ایک اعلان کرنے والے نے اعلان کیا کہ «إِنَّ اللّٰهَ وَرَسُولَهُ يَنْهَيَانِكُمْ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ، فَإِنَّهَا رِجْسٌ» ”اللہ اور اس کے رسول تمہیں گدھوں کے گوشت سے منع کرتے ہیں کیونکہ یہ پلید اور نجس ہیں۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4198]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4199
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَهُ جَاءٍ , فَقَالَ: أُكِلَتِ الْحُمُرُ؟ فَسَكَتَ، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّانِيَةَ , فَقَالَ: أُكِلَتِ الْحُمُرُ؟، فَسَكَتَ، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّالِثَةَ , فَقَالَ: أُفْنِيَتِ الْحُمُرُ؟ فَأَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى فِي النَّاسِ:" إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يَنْهَيَانِكُمْ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ"، فَأُكْفِئَتِ الْقُدُورُ وَإِنَّهَا لَتَفُورُ بِاللَّحْمِ.
ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدالوہاب نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ایوب نے بیان کیا ‘ ان سے محمد نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک آنے والے نے حاضر ہو کر عرض کیا کہ گدھے کا گوشت کھایا جا رہا ہے۔ اس پر آپ نے خاموشی اختیار کی پھر دوبارہ وہ حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ گدھے کا گوشت کھایا جا رہا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس مرتبہ بھی خاموش رہے ‘ پھر وہ تیسری مرتبہ آئے اور عرض کیا کہ گدھے ختم ہو گئے۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک منادی سے اعلان کرایا کہ اللہ اور اس کے رسول تمہیں پالتو گدھوں کے گوشت کے کھانے سے منع کرتے ہیں۔ چنانچہ تمام ہانڈیاں الٹ دی گئیں حالانکہ وہ گوشت کے ساتھ جوش مار رہی تھیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4199]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک آنے والے نے آ کر کہا: ”گدھوں کا گوشت کھایا جا رہا ہے۔“ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاموشی اختیار کی۔ پھر وہ دوبارہ آیا اور کہا: ”گدھوں کا گوشت کھایا جا رہا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس مرتبہ بھی خاموش رہے۔ پھر وہ تیسری مرتبہ حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا کہ ”گدھے ختم ہو رہے ہیں۔“ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک منادی کے ذریعے سے اعلان کرایا: ”اللہ اور اس کے رسول تمہیں پالتو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع کرتے ہیں“، چنانچہ اس (اعلان) کے بعد تمام ہانڈیاں الٹ دی گئیں، حالانکہ ان میں گوشت پک رہا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4199]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4200
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ قَرِيبًا مِنْ خَيْبَرَ بِغَلَسٍ، ثُمَّ قَالَ:" اللَّهُ أَكْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ"، فَخَرَجُوا يَسْعَوْنَ فِي السِّكَكِ، فَقَتَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُقَاتِلَةَ، وَسَبَى الذُّرِّيَّةَ، وَكَانَ فِي السَّبْيِ صَفِيَّةُ فَصَارَتْ إِلَى دَحْيَةَ الْكَلْبِيِّ، ثُمَّ صَارَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا، فَقَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ لِثَابِتٍ: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ آنْتَ قُلْتَ لِأَنَسٍ: مَا أَصْدَقَهَا؟ فَحَرَّكَ ثَابِتٌ رَأْسَهُ تَصْدِيقًا لَهُ.
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ‘ ان سے ثابت نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز خیبر کے قریب پہنچ کر ادا کی ‘ ابھی اندھیرا تھا پھر فرمایا ‘ اللہ کی ذات سب سے بلند و برتر ہے۔ خیبر برباد ہوا ‘ یقیناً جب ہم کسی قوم کے میدان میں اتر جاتے ہیں تو ڈرائے لوگوں کی صبح بری ہو جاتی ہے۔ پھر یہودی گلیوں میں ڈرتے ہوئے نکلے۔ آخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے جنگ کرنے والے لوگوں کو قتل کرا دیا اور عورتوں اور بچوں کو قید کر لیا۔ قیدیوں میں ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں جو دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کے حصہ میں آئی تھیں۔ پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آ گئیں۔ چنانچہ آپ نے ان سے نکاح کر لیا اور مہر میں انہیں آزاد کر دیا۔ عبدالعزیز بن صہیب نے ثابت سے پوچھا: ابو محمد! کیا تم نے یہ پوچھا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ رضی اللہ عنہا کو مہر کیا دیا تھا؟ ثابت رضی اللہ عنہ نے اثبات میں سر ہلایا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4200]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ فجر خیبر کے قریب پہنچ کر اندھیرے میں ادا کی، پھر فرمایا: «اللهُ أَكْبَرُ، خَرِبَتْ خَيْبَرُ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ ﴿فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ﴾ [سورة الصافات: 177] » ”اللہ سب سے بڑا ہے، خیبر برباد ہو گیا، یقیناً جب ہم کسی قوم کے میدان میں اترتے ہیں تو ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بہت بری ہوتی ہے۔“ اس کے بعد یہودی گلیوں میں دوڑتے ہوئے نکلے۔ آخر کار نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگجو نوجوانوں کو قتل کر دیا، عورتوں اور بچوں کو قیدی بنا لیا۔ ان قیدی عورتوں میں حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں جو حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کے حصے میں آئیں۔ پھر وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حصے میں آ گئیں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آزادی کو حق مہر ٹھہرا کر ان سے نکاح کر لیا۔ (راویِ حدیث) عبدالعزیز بن صہیب رحمہ اللہ نے ثابت رحمہ اللہ سے پوچھا: ”اے ابو محمد! کیا تم نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو) حق مہر کیا دیا تھا؟“ ثابت رحمہ اللہ نے اثبات میں اپنا سر ہلا دیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4200]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4201
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ:" سَبَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفِيَّةَ فَأَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا"، فَقَالَ ثَابِتٌ لِأَنَسٍ: مَا أَصْدَقَهَا؟ قَالَ:" أَصْدَقَهَا نَفْسَهَا فَأَعْتَقَهَا".
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے بیان کیا ‘ ان سے عبدالعزیز بن صہیب نے بیان کیا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ صفیہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قیدیوں میں تھیں لیکن آپ نے انہیں آزاد کر کے ان سے نکاح کر لیا تھا۔ ثابت رضی اللہ عنہ نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مہر کیا دیا تھا؟ انہوں نے کہا کہ خود انہیں کو ان کے مہر میں دیا تھا یعنی انہیں آزاد کر دیا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4201]
حضرت انس رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو قیدی بنا لیا، پھر انہیں آزاد کر کے ان سے نکاح کر لیا۔“ (راوی حدیث) ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کیا حق مہر دیا تھا؟“ انہوں نے جواب دیا: ”خود ان کی ذات ہی حق مہر تھا، یعنی انہیں آزاد کر دیا تھا۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4201]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4202
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْتَقَى هُوَ وَالْمُشْرِكُونَ فَاقْتَتَلُوا، فَلَمَّا مَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَسْكَرِهِ وَمَالَ الْآخَرُونَ إِلَى عَسْكَرِهِمْ، وَفِي أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ لَا يَدَعُ لَهُمْ شَاذَّةً وَلَا فَاذَّةً إِلَّا اتَّبَعَهَا يَضْرِبُهَا بِسَيْفِهِ، فَقِيلَ: مَا أَجْزَأَ مِنَّا الْيَوْمَ أَحَدٌ كَمَا أَجْزَأَ فُلَانٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَا إِنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ"، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أَنَا صَاحِبُهُ، قَالَ: فَخَرَجَ مَعَهُ، كُلَّمَا وَقَفَ وَقَفَ مَعَهُ، وَإِذَا أَسْرَعَ أَسْرَعَ مَعَهُ، قَالَ: فَجُرِحَ الرَّجُلُ جُرْحًا شَدِيدًا، فَاسْتَعْجَلَ الْمَوْتَ، فَوَضَعَ سَيْفَهُ بِالْأَرْضِ وَذُبَابَهُ بَيْنَ ثَدْيَيْهِ، ثُمَّ تَحَامَلَ عَلَى سَيْفِهِ فَقَتَلَ نَفْسَهُ، فَخَرَجَ الرَّجُلُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ، قَالَ:" وَمَا ذَاكَ؟"، قَالَ الرَّجُلُ: الَّذِي ذَكَرْتَ آنِفًا أَنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَأَعْظَمَ النَّاسُ ذَلِكَ، فَقُلْتُ: أَنَا لَكُمْ بِهِ، فَخَرَجْتُ فِي طَلَبِهِ، ثُمَّ جُرِحَ جُرْحًا شَدِيدًا فَاسْتَعْجَلَ الْمَوْتَ، فَوَضَعَ نَصْلَ سَيْفِهِ فِي الْأَرْضِ وَذُبَابَهُ بَيْنَ ثَدْيَيْهِ، ثُمَّ تَحَامَلَ عَلَيْهِ فَقَتَلَ نَفْسَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ:" إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ عَمَلَ أَهْلِ الْجَنَّةِ فِيمَا يَبْدُو لِلنَّاسِ وَهُوَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ عَمَلَ أَهْلِ النَّارِ فِيمَا يَبْدُو لِلنَّاسِ وَهُوَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ".
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یعقوب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا ‘ ان سے ابوحازم نے اور ان سے سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اپنے لشکر کے ساتھ) مشرکین (یعنی) یہود خیبر کا مقابلہ کیا۔ دونوں طرف سے لوگوں نے جنگ کی ‘ پھر جب آپ اپنے خیمے کی طرف واپس ہوئے اور یہودی بھی اپنے خیموں میں واپس چلے گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی کے متعلق کسی نے ذکر کیا کہ یہودیوں کا کوئی بھی آدمی اگر انہیں مل جائے تو وہ اس کا پیچھا کر کے اسے قتل کئے بغیر نہیں رہتے۔ کہا گیا کہ آج فلاں شخص ہماری طرف سے جتنی بہادری اور ہمت سے لڑا ہے شاید اتنی بہادری سے کوئی بھی نہیں لڑا ہو گا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے متعلق فرمایا کہ وہ اہل دوزخ میں سے ہے۔ ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا کہ پھر میں ان کے ساتھ ساتھ رہوں گا، بیان کیا کہ پھر وہ ان کے پیچھے ہو لیے جہاں وہ ٹھہرتے یہ بھی ٹھہر جاتے اور جہاں وہ دوڑ کر چلتے یہ بھی دوڑنے لگتے۔ بیان کیا کہ پھر وہ صاحب زخمی ہو گئے ‘ انتہائی شدید طور پر اور چاہا کہ جلدی موت آ جائے۔ اس لیے انہوں نے اپنی تلوار زمین میں گاڑ دی اور اس کی نوک سینہ کے مقابل کر کے اس پر گر پڑے اور اس طرح خودکشی کر لی۔ اب دوسرے صحابی (جو ان کی جستجو میں لگے ہوئے تھے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ پوچھا کیا بات ہے؟ ان صحابی نے عرض کیا کہ جن کے متعلق ابھی آپ نے فرمایا تھا کہ وہ اہل دوزخ میں سے ہیں تو لوگوں پر آپ کا یہ فرمانا بڑا شاق گزرا تھا۔ میں نے ان سے کہا کہ میں تمہارے لیے ان کے پیچھے پیچھے جاتا ہوں۔ چنانچہ میں ان کے ساتھ ساتھ رہا۔ ایک موقع پر جب وہ شدید زخمی ہو گئے تو اس خواہش میں کہ موت جلدی آ جائے اپنی تلوار انہوں نے زمین میں گاڑ دی اور اس کی نوک کو اپنے سینہ کے سامنے کر کے اس پر گر پڑ ے اور اس طرح انہوں نے خود اپنی جان کو ہلاک کر دیا۔ اسی موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انسان زندگی بھر جنت والوں کے عمل کرتا ہے حالانکہ وہ اہل دوزخ میں سے ہوتا ہے۔ اسی طرح دوسرا شخص زندگی بھر اہل دوزخ کے عمل کرتا ہے حالانکہ وہ جنتی ہوتا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4202]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جنگ حنین میں تھے۔“ ابن مبارک نے یونس کے ذریعے سے امام زہری سے، انہوں نے سعید بن مسیب سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا۔ صالح نے زہری سے روایت کرنے میں ابن مبارک کی متابعت کی ہے۔ زبیدی نے کہا: ”مجھے زہری نے خبر دی کہ عبدالرحمٰن بن کعب نے ان سے بیان کیا، ان سے عبید اللہ بن کعب نے، انہوں نے کہا: مجھے اس صحابی نے بتایا جو غزوہ خیبر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھے۔“ زہری نے بیان کیا کہ ”مجھے عبید اللہ بن عبداللہ اور سعید بن مسیب نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے خبر دی۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4202]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4203
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: شَهِدْنَا خَيْبَرَ،فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ مِمَّنْ مَعَهُ يَدَّعِي الْإِسْلَامَ:" هَذَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ"، فَلَمَّا حَضَرَ الْقِتَالُ قَاتَلَ الرَّجُلُ أَشَدَّ الْقِتَالِ حَتَّى كَثُرَتْ بِهِ الْجِرَاحَةُ، فَكَادَ بَعْضُ النَّاسِ يَرْتَابُ، فَوَجَدَ الرَّجُلُ أَلَمَ الْجِرَاحَةِ فَأَهْوَى بِيَدِهِ إِلَى كِنَانَتِهِ فَاسْتَخْرَجَ مِنْهَا أَسْهُمًا فَنَحَرَ بِهَا نَفْسَهُ، فَاشْتَدَّ رِجَالٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، صَدَّقَ اللَّهُ حَدِيثَكَ انْتَحَرَ فُلَانٌ فَقَتَلَ نَفْسَهُ، فَقَالَ:" قُمْ يَا فُلَانُ فَأَذِّنْ أَنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا مُؤْمِنٌ، إِنَّ اللَّهَ يُؤَيِّدُ الدِّينَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ". تَابَعَهُ مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ،
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ‘ ان سے زہری نے بیان کیا ‘ انہیں سعید بن مسیب نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم خیبر کی جنگ میں شریک تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صاحب کے متعلق جو آپ کے ساتھ تھے اور خود کو مسلمان کہتے تھے فرمایا کہ یہ شخص اہل دوزخ میں سے ہے۔ پھر جب لڑائی شروع ہوئی تو وہ صاحب بڑی پامردی سے لڑے اور بہت زیادہ زخمی ہو گئے۔ ممکن تھا کہ کچھ لوگ شبہ میں پڑ جاتے لیکن ان صاحب کے لیے زخموں کی تکلیف ناقابل برداشت تھی۔ چنانچہ انہوں نے اپنے ترکش میں سے تیر نکالا اور اپنے سینہ میں چبھو دیا۔ یہ منظر دیکھ کر مسلمان دوڑتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ نے آپ کا فرمان سچ کر دکھایا۔ اس شخص نے خود اپنے سینے میں تیر چبھو کر خودکشی کر لی ہے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے فلاں! جا اور اعلان کر دے کہ جنت میں صرف مومن ہی داخل ہوں گے۔ یوں اللہ تعالیٰ اپنے دین کی مدد فاجر شخص سے بھی لے لیتا ہے۔ اس روایت کی متابعت معمر نے زہری سے کی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4203]
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر (پر حملہ کرنے) کے لیے نکلے یا کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر کی طرف متوجہ ہوئے تو لوگوں نے ایک وادی پر چڑھ کر نعرہ تکبیر بلند کیا اور کہنے لگے: «اللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔“ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے آپ پر کچھ نرمی کرو۔ تم کسی بہرے یا غیر حاضر کو نہیں پکار رہے بلکہ تم ایک خوب سننے والے اور انتہائی قریب (اللہ) کو پکار رہے ہو۔ وہ ہر لمحہ تمہارے ساتھ ہے۔“ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے پیچھے تھا۔ آپ نے مجھے یہ کہتے ہوئے سنا: «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ» تو مجھے فرمایا: ”اے عبداللہ بن قیس!“ میں نے عرض کی: ”اللہ کے رسول! میں حاضر ہوں۔“ آپ نے فرمایا: ”کیا میں تجھے ایک کلمہ نہ بتاؤں جو جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے؟“ میں نے کہا: ”اللہ کے رسول! کیوں نہیں آپ ضرور بتائیں، میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں!“ آپ نے فرمایا: ”وہ «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ» ”اللہ کی مدد کے بغیر نہ گناہ سے بچنے کی طاقت ہے اور نہ نیکی کرنے کی ہمت“ ہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4203]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4204
وَقَالَ شَبِيبٌ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ الْمُسَيَّبِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ، أن أبا هريرة، قَالَ: شَهِدْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُنَيْنًا، وَقَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَابَعَهُ صَالِحٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، وَقَالَ الزُّبَيْدِيُّ: أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ كَعْبٍ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْ شَهِدَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ، قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَأَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَسَعِيدٌ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
اور شبیب نے یونس سے بیان کیا ‘ انہوں نے ابن شہاب زہری سے ‘ انہیں سعید بن مسیب اور عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کعب نے خبر دی ‘ ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ خیبر میں موجود تھے اور ابن مبارک نے بیان کیا ‘ ان سے یونس نے ‘ ان سے زہری نے ‘ ان سے سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے۔ اس روایت کی متابعت صالح نے زہری سے کی اور زبیدی نے بیان کیا ‘ انہیں زہری نے خبر دی ‘ انہیں عبدالرحمٰن بن کعب نے خبر دی اور انہیں عبیداللہ بن کعب نے خبر دی کہ مجھے ان صحابی نے خبر دی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ خیبر میں موجود تھے۔ زہری نے بیان کیا اور مجھے عبیداللہ بن عبداللہ اور سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ نے خبر دی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4204]
حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ خیبر کے مقام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مشرکین آمنے سامنے ہوئے تو خوب لڑائی ہوئی۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لشکر کی طرف واپس آ گئے اور مشرکین اپنے لشکر کی طرف لوٹ گئے، اس دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں میں ایک ایسا شخص تھا جو جماعت سے الگ ہو جانے والے یا تنہا رہ جانے والے مشرک کو نہیں چھوڑتا تھا۔ وہ اس کا پیچھا کرتا اور اپنی تلوار سے اسے موت کے گھاٹ اتار دیتا۔ اس کے متعلق چرچا ہونے لگا کہ جتنا کام اس نے کیا ہے ہم میں سے کسی نے بھی اتنا کام نہیں کیا۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق فرمایا: ”تم آگاہ رہو کہ یہ شخص دوزخی ہے۔“ قوم میں سے ایک آدمی نے کہا: ”میں اس شخص کے ساتھ رہتا ہوں“، چنانچہ وہ اس کے ساتھ رہا۔ جہاں وہ ٹھہرتا یہ بھی ٹھہر جاتا اور جب وہ تیز چلتا تو یہ بھی اس کے ساتھ تیز چلنے لگتا۔ جب وہ شخص زخموں سے نڈھال ہو گیا تو اس نے جلدی مرنا چاہا، اس لیے اس نے اپنی تلوار زمین پر رکھی اور اس کی تیز نوک اپنے سینے پر رکھی، پھر اپنی تلوار پر زور دیا، اس طرح اس نے خودکشی کر لی۔ دوسرا شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا: ”اللہ کے رسول! میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔“ آپ نے فرمایا: ”کیا بات ہے؟“ اس نے کہا: ”جس آدمی کے متعلق آپ نے ابھی ابھی ذکر کیا تھا کہ وہ جہنمی ہے اور لوگوں پر یہ بات بڑی گراں گزری تھی، میں نے اس کے متعلق ذمہ داری اٹھائی تھی، چنانچہ میں اس کی تلاش میں نکلا، وہ سخت زخمی ہو گیا اور جلدی مرنا چاہا تو اس نے اپنی تلوار کی نوک زمین پر رکھی، پھر اسے اپنے سینے کے درمیان کر کے اس پر جھول گیا اور خودکشی کر لی۔“ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی بظاہر لوگوں کے سامنے اہل جنت والے کام کرتا ہے، حالانکہ وہ جہنمی ہوتا ہے اور اسی طرح کوئی آدمی بظاہر لوگوں کے سامنے اہل جہنم والے کام کرتا ہے لیکن انجام کار وہ جنتی ہوتا ہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4204]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة