صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
39. باب غزوة خيبر:
باب: غزوہ خیبر کا بیان۔
حدیث نمبر: 4203
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: شَهِدْنَا خَيْبَرَ،فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ مِمَّنْ مَعَهُ يَدَّعِي الْإِسْلَامَ:" هَذَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ"، فَلَمَّا حَضَرَ الْقِتَالُ قَاتَلَ الرَّجُلُ أَشَدَّ الْقِتَالِ حَتَّى كَثُرَتْ بِهِ الْجِرَاحَةُ، فَكَادَ بَعْضُ النَّاسِ يَرْتَابُ، فَوَجَدَ الرَّجُلُ أَلَمَ الْجِرَاحَةِ فَأَهْوَى بِيَدِهِ إِلَى كِنَانَتِهِ فَاسْتَخْرَجَ مِنْهَا أَسْهُمًا فَنَحَرَ بِهَا نَفْسَهُ، فَاشْتَدَّ رِجَالٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، صَدَّقَ اللَّهُ حَدِيثَكَ انْتَحَرَ فُلَانٌ فَقَتَلَ نَفْسَهُ، فَقَالَ:" قُمْ يَا فُلَانُ فَأَذِّنْ أَنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا مُؤْمِنٌ، إِنَّ اللَّهَ يُؤَيِّدُ الدِّينَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ". تَابَعَهُ مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ،
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ‘ ان سے زہری نے بیان کیا ‘ انہیں سعید بن مسیب نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم خیبر کی جنگ میں شریک تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صاحب کے متعلق جو آپ کے ساتھ تھے اور خود کو مسلمان کہتے تھے فرمایا کہ یہ شخص اہل دوزخ میں سے ہے۔ پھر جب لڑائی شروع ہوئی تو وہ صاحب بڑی پامردی سے لڑے اور بہت زیادہ زخمی ہو گئے۔ ممکن تھا کہ کچھ لوگ شبہ میں پڑ جاتے لیکن ان صاحب کے لیے زخموں کی تکلیف ناقابل برداشت تھی۔ چنانچہ انہوں نے اپنے ترکش میں سے تیر نکالا اور اپنے سینہ میں چبھو دیا۔ یہ منظر دیکھ کر مسلمان دوڑتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ نے آپ کا فرمان سچ کر دکھایا۔ اس شخص نے خود اپنے سینے میں تیر چبھو کر خودکشی کر لی ہے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے فلاں! جا اور اعلان کر دے کہ جنت میں صرف مومن ہی داخل ہوں گے۔ یوں اللہ تعالیٰ اپنے دین کی مدد فاجر شخص سے بھی لے لیتا ہے۔ اس روایت کی متابعت معمر نے زہری سے کی۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4203]
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر (پر حملہ کرنے) کے لیے نکلے یا کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر کی طرف متوجہ ہوئے تو لوگوں نے ایک وادی پر چڑھ کر نعرہ تکبیر بلند کیا اور کہنے لگے: «اللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔“ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے آپ پر کچھ نرمی کرو۔ تم کسی بہرے یا غیر حاضر کو نہیں پکار رہے بلکہ تم ایک خوب سننے والے اور انتہائی قریب (اللہ) کو پکار رہے ہو۔ وہ ہر لمحہ تمہارے ساتھ ہے۔“ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے پیچھے تھا۔ آپ نے مجھے یہ کہتے ہوئے سنا: «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ» تو مجھے فرمایا: ”اے عبداللہ بن قیس!“ میں نے عرض کی: ”اللہ کے رسول! میں حاضر ہوں۔“ آپ نے فرمایا: ”کیا میں تجھے ایک کلمہ نہ بتاؤں جو جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے؟“ میں نے کہا: ”اللہ کے رسول! کیوں نہیں آپ ضرور بتائیں، میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں!“ آپ نے فرمایا: ”وہ «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ» ”اللہ کی مدد کے بغیر نہ گناہ سے بچنے کی طاقت ہے اور نہ نیکی کرنے کی ہمت“ ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4203]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥معمر بن أبي عمرو الأزدي، أبو عروة معمر بن أبي عمرو الأزدي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة ثبت فاضل | |
👤←👥أبو هريرة الدوسي أبو هريرة الدوسي ← معمر بن أبي عمرو الأزدي | صحابي | |
👤←👥سعيد بن المسيب القرشي، أبو محمد سعيد بن المسيب القرشي ← أبو هريرة الدوسي | أحد العلماء الأثبات الفقهاء الكبار | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← سعيد بن المسيب القرشي | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥شعيب بن أبي حمزة الأموي، أبو بشر شعيب بن أبي حمزة الأموي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة حافظ متقن | |
👤←👥الحكم بن نافع البهراني، أبو اليمان الحكم بن نافع البهراني ← شعيب بن أبي حمزة الأموي | ثقة ثبت |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
4203
| هذا من أهل النار فلما حضر القتال قاتل الرجل أشد القتال حتى كثرت به الجراحة فوجد الرجل ألم الجراحة فأهوى بيده إلى كنانته فاستخرج منها أسهما فنحر بها نفسه لا يدخل الجنة إلا مؤمن الله يؤيد الدين بالرجل الفاجر |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4203 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4203
حدیث حاشیہ:
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بذریعہ وحی اس شخص کا انجام معلوم ہوچکا تھا۔
جیسا کہ آپ نے فرمایا ویسا ہی ہوا کہ وہ شخص خود کشی کرکے حرام موت مر گیا اور دوزخ میں داخل ہوا۔
اسی لیے انجام کا فکر ضروری ہے کہ فیصلہ انجام ہی کے مطابق ہوتا ہے۔
اللہ تعالی خاتمہ بالخیر نصیب کرے۔
اس حدیث میں جنگ خیبر کا ذکر ہے۔
یہی باب سے مطابقت ہے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بذریعہ وحی اس شخص کا انجام معلوم ہوچکا تھا۔
جیسا کہ آپ نے فرمایا ویسا ہی ہوا کہ وہ شخص خود کشی کرکے حرام موت مر گیا اور دوزخ میں داخل ہوا۔
اسی لیے انجام کا فکر ضروری ہے کہ فیصلہ انجام ہی کے مطابق ہوتا ہے۔
اللہ تعالی خاتمہ بالخیر نصیب کرے۔
اس حدیث میں جنگ خیبر کا ذکر ہے۔
یہی باب سے مطابقت ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4203]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4203
حدیث حاشیہ:
1۔
اس قصے کے متعلق مختلف روایات ہیں کہ یہ غزوہ اُحد میں پیش آیا یا خیبر میں۔
آگے آنے والی حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت میں وضاحت ہے کہ خیبر کے وقت یہ واقعہ ہواتھا۔
2۔
امام بخاری ؒ نے اس روایت کو غزوہ خیبر کے عنوان میں بیان کرکے اپنا رجحان بتایا ہے کہ یہ واقعہ خیبر میں پیش آیا تھا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس شخص کا انجام بذریعہ وحی معلوم ہوچکا تھا کہ وہ مومن نہیں بلکہ منافق ہے، یاخود کشی کو حلال سمجھنے کی وجہ سے مرتد ہے یا معصیت کی سزا بھگت کر بالآخر جہنم سے نکل آئے گا۔
بہرحال انسان کو اپنے اپنے انجام کی فکر کرنی چاہیے کیونکہ آخری فیصلہ انسان کے انجام پر ہوگا۔
اللہ تعالیٰ ہماراخاتمہ ایمان پرفرمائے۔
آمین
1۔
اس قصے کے متعلق مختلف روایات ہیں کہ یہ غزوہ اُحد میں پیش آیا یا خیبر میں۔
آگے آنے والی حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت میں وضاحت ہے کہ خیبر کے وقت یہ واقعہ ہواتھا۔
2۔
امام بخاری ؒ نے اس روایت کو غزوہ خیبر کے عنوان میں بیان کرکے اپنا رجحان بتایا ہے کہ یہ واقعہ خیبر میں پیش آیا تھا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس شخص کا انجام بذریعہ وحی معلوم ہوچکا تھا کہ وہ مومن نہیں بلکہ منافق ہے، یاخود کشی کو حلال سمجھنے کی وجہ سے مرتد ہے یا معصیت کی سزا بھگت کر بالآخر جہنم سے نکل آئے گا۔
بہرحال انسان کو اپنے اپنے انجام کی فکر کرنی چاہیے کیونکہ آخری فیصلہ انسان کے انجام پر ہوگا۔
اللہ تعالیٰ ہماراخاتمہ ایمان پرفرمائے۔
آمین
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4203]
Sahih Bukhari Hadith 4203 in Urdu
معمر بن أبي عمرو الأزدي ← محمد بن شهاب الزهري