🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
39. باب غزوة خيبر:
باب: غزوہ خیبر کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4219
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ، وَرَخَّصَ فِي الْخَيْلِ".
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے حماد بن زید نے ‘ ان سے عمرو نے ان سے محمد بن علی نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے موقع پر گدھے کے گوشت کھانے کی ممانعت کی تھی اور گھوڑوں کے گوشت کھانے کی اجازت دی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4219]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا اور گھوڑوں کا گوشت کھانے کی اجازت دی۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4219]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥محمد الباقر، أبو جعفر
Newمحمد الباقر ← جابر بن عبد الله الأنصاري
ثقة
👤←👥عمرو بن دينار الجمحي، أبو محمد
Newعمرو بن دينار الجمحي ← محمد الباقر
ثقة ثبت
👤←👥حماد بن زيد الأزدي، أبو إسماعيل
Newحماد بن زيد الأزدي ← عمرو بن دينار الجمحي
ثقة ثبت فقيه إمام كبير مشهور
👤←👥سليمان بن حرب الواشحي، أبو أيوب
Newسليمان بن حرب الواشحي ← حماد بن زيد الأزدي
ثقة إمام حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
4219
نهى عن لحوم الحمر الأهلية رخص في الخيل
صحيح مسلم
5022
نهى عن لحوم الحمر الأهلية أذن في لحوم الخيل
جامع الترمذي
1478
كل ذي ناب من السباع ذي مخلب من الطير
بلوغ المرام
1136
نهى رسول الله يوم خيبر عن لحوم الحمر الاهلية واذن في لحوم الخيل
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4219 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4219
حدیث حاشیہ:
امام شافعی ؒ نے بھی اس حدیث کی بنا پر گھوڑے کے گوشت کو حلال قرار دیا ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4219]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4219
حدیث حاشیہ:

حضرت جابر ؓ کی روایت میں گدھوں سے مراد گھریلو اور پالتو گدھے ہیں۔
یہ حرمت قطعی اور ہمیشہ کے لیے ہے، البتہ جنگلی گدھا اس حدیث میں شامل نہیں ہے جسے حمار وحشی(گورخر)
کہا جاتا ہے۔
وہ نہایت چست وچالاک ہوتا ہے اور نجاست بھی نہیں کھاتا، اس لیے اس کا کھانا اب بھی جائز ہے اور اسکی حلت پر تمام علماء کا اتفاق ہے۔

اس حدیث میں گھوڑے کی حلت کا ذکر ہے، بلاشبہ گھوڑا ایک حلال جانور ہے۔
اس واضح نص کے باوجود بھی کچھ فقہاء نے اسے حرام قراردیا ہے۔
حضرت اسماء ؓ فرماتی ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدمبارک میں گھوڑا ذبح کیا اور اس کا گوشت کھایا تھا۔
(شرح صحیح مسلم للنووي: 255/9، 259)
بہرحال گھوڑا حلال ہے، اگر کسی کا دل نہ چاہے تو نہ کھائے لیکن اس کی حرمت کا فتوی جاری نہ کرے۔
اس کی تفصیل ہم آئندہ کتاب الاطعمہ میں بیان کریں گے۔
باذن اللہ تعالیٰ۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4219]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 1136
(کھانے کے متعلق احادیث)
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے روز گھریلو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا تھا اور گھوڑوں کے گوشت کی اجازت کی تھی۔ (بخاری و مسلم) اور بخاری کی روایت میں ہے «أذن» کے بجائے «رخص» کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رخصت دی۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1136»
تخریج:
«أخرجه البخاري، المغازي، باب غزوة خيبر، حديث:4219، ومسلم، الصيد والذبائح، باب إباحة أكل لحم الخيل، حديث:1941.»
تشریح:
1. اس حدیث سے معلوم ہوا کہ خیبر کے روز گھریلو گدھوں کا گوشت کھانا حرام قرار دیا گیا۔
اس سے پہلے اس کی اجازت تھی۔
تو گویا احکام بتدریج نافذ کیے گئے ہیں۔
2. حرام کیے جانے کی وجہ جیسا کہ بخاری میں بھی آیا ہے کہ یہ ناپاک و پلید حیوان ہے۔
جمہور علماء‘ صحابہ و تابعین وغیرہ اسی طرف گئے ہیں۔
3. یہ بھی معلوم ہوا کہ گھوڑے کا گوشت حلال ہے۔
4. رخصت اور اذن کا لفظ غالباً اس لیے فرمایا کہ گھوڑوں کی کمی کی وجہ سے تنزیہی طور پر ممنوع قرار دیا تھا‘ پھر رخصت دے دی۔
زیدبن علی‘ امام شافعی اور امام ابوحنیفہ رحمہم اللہ کے شاگردان رشید ابویوسف اور محمد اور امام احمد اور اسحٰق بن راہویہ اور سلف و خلف رحمہم اللہ کے سب علماء اس کی حلت کے قائل ہیں لیکن امام مالک اور ابوحنیفہ رحمہما اللہ کے نزدیک گھوڑے کا گوشت حرام ہے۔
مگر یہ اور اسی موضوع کی دوسری احادیث صریحاً ان کے خلاف ہیں۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1136]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5022
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن گھریلو گدھوں کے گوشت سے منع فرمایا اور گھوڑوں کے گوشت کی اجازت دی۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5022]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ گھوڑے کا گوشت حلال ہے،
جمہور سلف و خلف کا یہی نظریہ ہے،
علقمہ،
اسود،
نخعی،
حماد بن سلیمان اور صاحبین کا بھی یہی قول ہے اور امام مالک اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک مکروہ ہے،
بعض کے بقول امام ابوحنیفہ کے نزدیک مکروہ تحریمی ہے اور بعض کے نزدیک مکروہ تنزیہی،
سعیدی صاحب نے ائمہ احناف کے اقوال نقل کرنے کے بعد آخر میں لکھا ہے،
اس باب میں جو احادیث صحیحہ وارد ہیں،
وہ سب گھوڑے کی حلت میں نصوص صریحہ ہیں اور قرآن مجید اور احادیث صحیحہ کی صراحت کے بعد پھر کسی اور چیز کی ضرورت نہیں ہے۔
(شرح صحیح مسلم،
ج 6،
ص 105)
۔
اس سے پہلے لکھا ہے،
قرآن مجید اور احادیث کی روشنی میں گھوڑے کا گوشت کھانا بلا کراہت جائز ہے،
وجہ استدلال یہ ہے کہ گھوڑا پاک اور طیب جانور ہے،
اس بنا پر فقہائے احناف نے بھی گھوڑے کا جوٹھا پاک قرار دیا ہے،
(ص 104،
ج 6)
۔
علامہ تقی نے لکھا ہے،
امام ابوحنیفہ نے گھوڑے کو اس کے احترام اور آلات جہاد میں سے ہونے کے باعث مکروہ قرار دیا ہے،
(تکملہ ج 3،
ص 529)
۔
اور اب صورتحال یہ ہے کہ جدید اسلحہ کے سبب اب اس کو مرکزی اہمیت حاصل نہیں ہے،
اس لیے یہ سبب اگر اس کو سبب مان لیا جائے تو ختم ہو چکا ہے،
کہ بقول امام حصفکی امام صاحب نے اپنی موت سے تین دن قبل،
حرمت کے قول سے رجوع کر لیا تھا۔
(تکملہ ج 3 ص 525۔
درمختار علی حاشیہ رد المختار ج 5 ص 265)
۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5022]

Sahih Bukhari Hadith 4219 in Urdu