🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
39. باب غزوة خيبر:
باب: غزوہ خیبر کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4227
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الحُسَيْنِ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" لَا أَدْرِي أَنَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَجْلِ أَنَّهُ كَانَ حَمُولَةَ النَّاسِ فَكَرِهَ أَنْ تَذْهَبَ حَمُولَتُهُمْ، أَوْ حَرَّمَهُ فِي يَوْمِ خَيْبَرَ لَحْمَ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ؟".
مجھ سے محمد بن ابی الحسین نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا ‘ کہا مجھ سے میرے والد نے ‘ ان سے ابوعاصم نے بیان کیا ‘ ان سے عامر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ مجھے معلوم نہیں کہ آیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گدھے کا گوشت کھانے سے اس لیے منع کیا تھا کہ اس سے بوجھ ڈھونے والے کا کام لیا جاتا ہے اور آپ نے پسند نہیں فرمایا کہ بوجھ ڈھونے والے جانور ختم ہو جائیں یا آپ نے صرف غزوہ خیبر کے موقع پر پالتو گدھوں کے گوشت کی ممانعت کی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4227]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥عامر الشعبي، أبو عمرو
Newعامر الشعبي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥عاصم الأحول، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن
Newعاصم الأحول ← عامر الشعبي
ثقة
👤←👥حفص بن غياث النخعي، أبو عمر
Newحفص بن غياث النخعي ← عاصم الأحول
ثقة
👤←👥عمر بن حفص النخعي، أبو حفص
Newعمر بن حفص النخعي ← حفص بن غياث النخعي
ثقة
👤←👥محمد بن الحسين السمناني، أبو جعفر
Newمحمد بن الحسين السمناني ← عمر بن حفص النخعي
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
4227
لا أدري أنهى عنه رسول الله من أجل أنه كان حمولة الناس
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4227 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4227
حدیث حاشیہ:

خیبر کے دن ذبح کیے جانے والے گدھوں کی تعداد بیس یا تیس تھی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت طلحہ ؓ کو اعلان کرنے کے لیے بھیجاکہ گوشت کی ہنڈیوں کو الٹ دیا جائے اور کسی صورت میں اس کا گوشت استعمال نہ کیاجائے۔
(صحیح البخاري، الذبائح والصید، حدیث: 5510۔
)

ان گھریلو گدھوں کی حرمت کا کیا سبب تھا، اس میں علمائے اُمت کا اتفاق ہے جیسا کہ مذکورہ روایات سے معلوم ہوتا ہے۔
حرمت کے اسباب حسب ذیل بیان کیے گئے ہیں۔
۔
مال ِغنیمت کے یہ گدھے تقسیم سے پہلے پکائے گئے تھے۔
ان کا خمس ادا نہیں کیا گیاتھا۔
۔
باربردار کے گدھوں کے ختم ہونے کا اندیشہ تھا۔
مدینے تک پہنچنے کے لیے وافر مقدار میں سواریاں نہ تھیں۔
۔
ذاتی طور پر ان میں حلت کا کوئی پہلو نہ تھا۔
ذاتی حرمت کی وجوہات حسب ذیل بیان کی جاتی ہیں۔
۔
ان کا تعلق ایسے حیوانات سے ہے جونیش دار(کچلی والے)
ہوتے ہیں۔
۔
ان میں حماقت کا پہلو نمایاں ہوتا ہے۔
ان کے کھانے سے انسانی عقل متاثر ہوتی ہے۔
جیسا کہ خنزیر کا گوشت کھانے سے بے حیائی اور بے غیرتی درآتی ہے۔
۔
یہ گدھے نجاست کھاتے ہیں، اس لیے ان کا گوشت بھی پلید ہوتا ہے۔
بہرحال جمہور ائمہ کا مسلک ہے کہ گدھوں کی حرمت قطعی اور ہمیشہ کے لیے ہے۔
اس کے متعلق تفصیل آئندہ کتاب الذبائح میں بیان ہوگی۔
باذن اللہ تعالیٰ۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4227]

Sahih Bukhari Hadith 4227 in Urdu