صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
39. بَابُ غَزْوَةُ خَيْبَرَ:
باب: غزوہ خیبر کا بیان۔
حدیث نمبر: 4231
فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنَّ عُمَرَ قَالَ كَذَا وَكَذَا، قَالَ:" فَمَا قُلْتِ لَهُ؟"، قَالَتْ: قُلْتُ لَهُ كَذَا وَكَذَا، قَالَ:" لَيْسَ بِأَحَقَّ بِي مِنْكُمْ وَلَهُ وَلِأَصْحَابِهِ هِجْرَةٌ وَاحِدَةٌ، وَلَكُمْ أَنْتُمْ أَهْلَ السَّفِينَةِ هِجْرَتَانِ"، قَالَتْ: فَلَقَدْ رَأَيْتُ أَبَا مُوسَى وَأَصْحَابَ السَّفِينَةِ يَأْتُونِي أَرْسَالًا يَسْأَلُونِي عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، مَا مِنَ الدُّنْيَا شَيْءٌ هُمْ بِهِ أَفْرَحُ وَلَا أَعْظَمُ فِي أَنْفُسِهِمْ مِمَّا قَالَ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو بُرْدَةَ: قَالَتْ أَسْمَاءُ: فَلَقَدْ رَأَيْتُ أَبَا مُوسَى وَإِنَّهُ لَيَسْتَعِيدُ هَذَا الْحَدِيثَ مِنِّي.
چنانچہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو انہوں نے عرض کیا: یا نبی اللہ! عمر رضی اللہ عنہ اس طرح کی باتیں کرتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ پھر تم نے انہیں کیا جواب دیا؟ انہوں نے عرض کیا کہ میں نے انہیں یہ یہ جواب دیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ وہ تم سے زیادہ مجھ سے قریب نہیں ہیں۔ انہیں اور ان کے ساتھیوں کو صرف ایک ہجرت حاصل ہوئی اور تم کشتی والوں نے دو ہجرتوں کا شرف حاصل کیا۔ انہوں نے بیان کیا کہ اس واقعہ کے بعد ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ اور تمام کشتی والے میرے پاس گروہ در گروہ آنے لگے اور مجھ سے اس حدیث کے متعلق پوچھنے لگے۔ ان کے لیے دنیا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ان کے متعلق اس ارشاد سے زیادہ خوش کن اور باعث فخر اور کوئی چیز نہیں تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4231]
(انہوں نے مزید کہا:) پھر جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے عرض کی: ”اللہ کے نبی! حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ اور یہ باتیں کی ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے عمر کو کیا جواب دیا ہے؟“ انہوں نے کہا: ”میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے یہ اور یہ کہا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تم سے زیادہ مجھ پر حق نہیں رکھتے۔ ان کی اور ان کے ساتھیوں کی ایک ہجرت ہے اور اے کشتی والو! تمہاری دو ہجرتیں ہوئی ہیں۔“ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا: ”اس واقعے کے بعد میں نے دیکھا کہ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اور تمام کشتی والے میرے پاس گروہ در گروہ آنے لگے اور مجھ سے اس حدیث کے متعلق دریافت کرتے۔ ان کے لیے دنیا میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ان کے متعلق اس (حوصلہ افزا) ارشاد سے زیادہ خوش کن اور باعث فخر کوئی اور چیز نہیں تھی۔“ حضرت ابوبردہ رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”بلاشبہ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ مجھ سے اس حدیث کو بار بار سنتے تھے۔“ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4231]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
تخریج وتحقیقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
الجامع الكامل حدیث نمبر :
9058
الجامع الكامل حدیث نمبر :
9058
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
3876
| وافقنا النبي حين افتتح خيبر لكم أنتم يا أهل السفينة هجرتان |
صحيح البخاري |
3136
| بعثنا هاهنا وأمرنا بالإقامة فأقيموا معنا وافقنا النبي حين افتتح خيبر فأسهم لنا منها وما قسم لأحد غاب عن فتح خيبر منها شيئا إلا لمن شهد معه إلا أصحاب سفينتنا مع جعفر وأصحابه قسم لهم معهم |
صحيح البخاري |
4231
| وافقنا النبي حين افتتح خيبر ليس بأحق بي منكم وله ولأصحابه هجرة واحدة ولكم أنتم أهل السفينة هجرتان |
صحيح البخاري |
4233
| قسم لنا ولم يقسم لأحد لم يشهد الفتح غيرنا |
صحيح مسلم |
6410
| بعثنا هاهنا وأمرنا بالإقامة فأقيموا معنا وافقنا رسول الله حين افتتح خيبر فأسهم لنا منها وما قسم لأحد غاب عن فتح خيبر منها شيئا إلا لمن شهد معه إلا لأصحاب سفينتنا مع جعفر وأصحابه قسم لهم معهم ليس بأحق بي منكم وله ولأصحابه هجرة واحدة ولكم أنتم أهل السفينة ه |
جامع الترمذي |
1559
| أسهم لنا مع الذين افتتحوها |
سنن أبي داود |
2725
| ما قسم لأحد غاب عن فتح خيبر منها شيئا إلا لمن شهد معه إلا أصحاب سفينتنا جعفر وأصحابه |
Sahih Bukhari Hadith 4231 in Urdu