🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
39. باب غزوة خيبر:
باب: غزوہ خیبر کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4243
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" مَا شَبِعْنَا حَتَّى فَتَحْنَا خَيْبَرَ".
ہم سے حسن نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے قرہ بن حبیب نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن دینار نے بیان کیا ‘ ان سے ان کے والد نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب تک خیبر فتح نہیں ہوا تھا ہم تنگی میں تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4243]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم نے کبھی پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھایا تھا حتی کہ ہم نے خیبر فتح کیا، تب سیر شکم ہوئے۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4243]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥عبد الله بن دينار القرشي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن دينار القرشي ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة
👤←👥عبد الرحمن بن عبد الله العدوي
Newعبد الرحمن بن عبد الله العدوي ← عبد الله بن دينار القرشي
صدوق يخطئ
👤←👥قرة بن حبيب التستري، أبو علي
Newقرة بن حبيب التستري ← عبد الرحمن بن عبد الله العدوي
ثقة
👤←👥الحسن بن محمد الزعفراني، أبو علي
Newالحسن بن محمد الزعفراني ← قرة بن حبيب التستري
ثقة
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4243 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4243
حدیث حاشیہ:
فتح خیبر کے بعد مسلمانوں کو کشادگی نصیب ہوئی وہاں سے بکثرت کھجوریں آنے لگیں۔
خیبر کی زمین کھجوروں کی پیداوار کے لیے مشہور تھی۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4243]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4243
حدیث حاشیہ:

ان احادیث سے معلوم ہوا کہ فتح خیبر کے بعد مسلمانوں کومالی اعتبار سے کشادگی نصیب ہوئی اور خیبر کی سرزمین کھجوروں کی پیداوار کے لیے بہت مشہور تھی، وہاں سے یہ پھل بکثرت آنے لگا تو صحابہ کرام ؓ کو پیٹ بھر کر کھانا نصیب ہوا۔
اس سے پہلے ان کی معیشت اور اقتصادی حالت بہت کمزورتھی۔
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ دو، دوتین، تین ماہ تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں میں آگ نہ جلتی تھی، صرف کھجوروں اور پانی پر گزارا ہوتا تھا۔
(صحیح البخاري، الرقاقم حدیث: 6459۔
)
ایک روایت میں ہے کہ مدینہ آنے کے بعد گندم کی چپاتی سے کبھی آل محمد نے پیٹ نہیں بھراتھا، تین، تین دن اسی حالت میں گزرجاتے۔
(صحیح البخاري، الرقاق، حدیث: 6454۔
)

بہرحال جب خیبر فتح ہوا تو معاشی حالت بہتر ہوگئی، گندم، جواور کھجور وغیرہ کی فراوانی ہوگئی۔
واللہ اعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4243]

Sahih Bukhari Hadith 4243 in Urdu