🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
45. باب غزوة موتة من أرض الشأم:
باب: غزوہ موتہ کا بیان جو سر زمین شام میں سنہ ۸ ھ میں ہوا تھا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4268
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْثَرُ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ: أُغْمِيَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ بِهَذَا، فَلَمَّا مَاتَ لَمْ تَبْكِ عَلَيْهِ.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبثر بن قاسم نے بیان کیا ‘ ان سے حصین نے ‘ ان سے شعبی نے اور ان سے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو بے ہوشی ہو گئی تھی ‘ پھر اوپر کی حدیث کی طرح بیان کیا۔ چنانچہ جب (غزوہ موتہ) میں وہ شہید ہوئے تو ان کی بہن ان پر نہیں روئیں۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4268]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥النعمان بن بشير الأنصاري، أبو عبد اللهصحابي صغير
👤←👥عامر الشعبي، أبو عمرو
Newعامر الشعبي ← النعمان بن بشير الأنصاري
ثقة
👤←👥الحصين بن عبد الرحمن السلمي، أبو الهذيل
Newالحصين بن عبد الرحمن السلمي ← عامر الشعبي
ثقة متقن
👤←👥عبثر بن القاسم الزبيدي، أبو زبيد
Newعبثر بن القاسم الزبيدي ← الحصين بن عبد الرحمن السلمي
ثقة
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء
Newقتيبة بن سعيد الثقفي ← عبثر بن القاسم الزبيدي
ثقة ثبت
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4268 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4268
حدیث حاشیہ:
ان کو معلوم ہو گیا تھا کہ میت پر نوحہ کرنا خود میت کے لیے باعث عذاب ہے۔
اس لیے انہوں نے اس حرکت سے پرہیز اختیار کیا خالی آنسو اگر جاری ہوں تو یہ منع نہیں ہے چلا کر رونا اور میت کے اوصاف بیان کرنا منع ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4268]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4268
حدیث حاشیہ:

حضرت عبداللہ بن رواحہ ؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مدح خواں تھے۔
جب وہ بیمار ہوئے تو ان پر بے ہوشی کادورہ پڑا۔
ان کی اس حالت کو دیکھ کر ان کی ہمشیر نے ان پر نوحہ کیا جس کا حدیث میں ذکر ہے۔
حضرت عبداللہ بن رواحہ ؓ کو اسی وقت افاقہ محسوس ہوا اور کہا کہ ایک فرشتے نے میرے سرپر لوہے کاہتھوڑا اٹھایا اور کہا:
کیا تو واقعی ایسا ہے جیسا کہ تیری بہن کہہ رہی ہے؟ اگر میں ہاں کہہ دیتاتو وہ میرا سرہتھوڑے سے کچل دیتا۔
ایک روایت میں ہے کہ اس واقعے کے بعد انھوں نے اپنی کو رونے سے منع کردیا، چنانچہ جب اسے جنگ موتہ میں ان کی شہادت کی خبر ملی تو ان کی ہمشیر نے صبر کیا اور ہرگز نہ روئی۔

امام بخاری ؒ نے اسی لیے اس حدیث کو یہاں بیان کیا ہے کہ جس مرض میں وہ بے ہوش ہوئے تھے اس میں ان کی وفات نہیں ہوئی تھی۔
ان کی وفات اس واقعے کے بعد جنگ موتہ میں ہوئی۔
(فتح الباري: 647/7۔
)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4268]