🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
54. باب:
باب:۔۔۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4303
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ اللَّيْثُ: حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ عُتْبَةُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ عَهِدَ إِلَى أَخِيهِ سَعْدٍ أَنْ يَقْبِضَ ابْنَ وَلِيدَةِ زَمْعَةَ، وَقَالَ عُتْبَةُ: إِنَّهُ ابْنِي، فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ فِي الْفَتْحِ، أَخَذَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ ابْنَ وَلِيدَةِ زَمْعَةَ، فَأَقْبَلَ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَقْبَلَ مَعَهُ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ، فَقَالَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ: هَذَا ابْنُ أَخِي عَهِدَ إِلَيَّ أَنَّهُ ابْنُهُ، قَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا أَخِي، هَذَا ابْنُ زَمْعَةَ، وُلِدَ عَلَى فِرَاشِهِ، فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى ابْنِ وَلِيدَةِ زَمْعَةَ فَإِذَا أَشْبَهُ النَّاسِ بِعُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هُوَ لَكَ، هُوَ أَخُوكَ يَا عَبْدُ بْنَ زَمْعَةَ مِنْ أَجْلِ أَنَّهُ وُلِدَ عَلَى فِرَاشِهِ"، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" احْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ" لِمَا رَأَى مِنْ شَبَهِ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: قَالَتْ عَائِشَةُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ"، وَقَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَصِيحُ بِذَلِكَ.
مجھ سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ بن زبیر نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے (دوسری سند اور لیث بن سعد نے کہا مجھ سے یونس نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، انہیں عروہ بن زبیر نے خبر دی اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ عتبہ بن ابی وقاص نے (مرتے وقت زمانہ جاہلیت میں) اپنے بھائی (سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) کو وصیت کی تھی کہ وہ زمعہ بن لیثی کی باندی سے پیدا ہونے والے بچے کو اپنے قبضے میں لے لیں۔ عتبہ نے کہا تھا کہ وہ میرا لڑکا ہو گا۔ چنانچہ جب فتح مکہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے تو سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اس بچے کو لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان کے ساتھ عبد بن زمعہ بھی آئے۔ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے تو یہ کہا کہ یہ میرے بھائی کا لڑکا ہے۔ لیکن عبد بن زمعہ نے کہا: یا رسول اللہ! یہ میرا بھائی ہے (میرے والد) زمعہ کا بیٹا ہے کیونکہ انہیں کے بستر پر پیدا ہوا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمعہ کی باندی کے لڑکے کو دیکھا تو وہ واقعی (سعد کے بھائی) عتبہ بن ابی وقاص کی شکل پر تھا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (قانون شریعت کے مطابق) فیصلے میں یہ کہا کہ اے عبد بن زمعہ! تمہیں اس بچے کو رکھو، یہ تمہارا بھائی ہے، کیونکہ یہ تمہارے والد کے فراش پر (اس کی باندی کے بطن سے پیدا ہوا ہے۔ لیکن دوسری طرف ام المؤمنین سودہ رضی اللہ عنہا سے جو زمعہ کی بیٹی تھیں فرمایا سودہ! اس لڑکے سے پردا کیا کرنا کیونکہ آپ نے اس لڑکے میں عتبہ بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی شباہت پائی تھی۔ ابن شہاب نے کہا ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ لڑکا اس کا ہوتا ہے جس کی جورو یا لونڈی کے پیٹ سے پیدا ہوا ہو اور زنا کرنے والے کے حصے میں سنگ ہی ہیں۔ ابن شہاب نے بیان کیا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اس حدیث کو پکار پکار کر بیان کیا کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4303]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← أبو هريرة الدوسي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله
Newعائشة بنت أبي بكر الصديق ← محمد بن شهاب الزهري
صحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة فقيه مشهور
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← عروة بن الزبير الأسدي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥يونس بن يزيد الأيلي، أبو يزيد، أبو بكر
Newيونس بن يزيد الأيلي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث
Newالليث بن سعد الفهمي ← يونس بن يزيد الأيلي
ثقة ثبت فقيه إمام مشهور
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله
Newعائشة بنت أبي بكر الصديق ← الليث بن سعد الفهمي
صحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة فقيه مشهور
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← عروة بن الزبير الأسدي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله
Newمالك بن أنس الأصبحي ← محمد بن شهاب الزهري
رأس المتقنين وكبير المتثبتين
👤←👥عبد الله بن مسلمة الحارثي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن مسلمة الحارثي ← مالك بن أنس الأصبحي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
4303
هو أخوك يا عبد بن زمعة من أجل أنه ولد على فراشه احتجبي منه يا سودة
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4303 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4303
حدیث حاشیہ:
حدیث میں ایک موقع پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فتح مکہ میں مکہ میں داخلہ کا ذکر ہے۔
باب سے مطابقت یہی ہے حدیث سے ایک اسلامی قانون کا بھی اثبات ہوا کہ بچہ جس بستر پر پیدا ہو بستر والے کا مانا جائے گا، زانی کے لیے سنگ ساری ہے اور بچہ بستر والے کا ہے۔
اس قانون کی وسعت پر غور کرنے سے معلوم ہوگا کہ اس سے کتنی برائیوں کا سد باب ہو گیا ہے۔
بستر کا مطلب یہ بھی ہے کہ جس کی بیوی یا لونڈی کے بطن سے وہ بچہ پیدا ہو اہے وہ اس کا مانا جائے گا۔
حضرت سودہ نامی خاتون بنت زمعہ ام المومنین ؓ ہیں۔
یہ اپنے چچا کے بیٹے سکران بن عمر ؓ کے نکا ح میں تھیں۔
ان کے انتقال پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حرم میں داخل ہوئیں۔
آپ کی نکا ح حضرت خدیجہ ؓ کی وفات کے بعد حضرت عائشہ ؓ کے نکاح سے پہلے ہوا۔
ماہ شوال54 ھ میں مدینہ میں ان کا انتقال ہوا۔
رضي اللہ عنها
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4303]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4303
حدیث حاشیہ:

اس حدیث میں فتح مکہ کے وقت پیش آنے والے ایک واقعے کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔
اسی مناسبت سے امام بخاری ؒ نے اس حدیث کو یہاں بیان کیا ہے۔

اس حدیث سے ایک اسلامی قانون کا اثبات ہوتا ہے کہ بچہ جس بستر پر پیدا ہو وہ بستر والے کا تسلیم کیا جائے گا۔
اس سلسلے میں زانی کے دعوی کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے اسے سنگسارکیا جائےگا۔
اس قانون کی وسعت پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے بہت سی برائیوں کا سد باب ہو گیا بصورت دیگر زنا کار جس بچے کے متعلق بھی اقرار کرتا اسے حق نسب دے دیا جاتا۔
اس سے بد کاری اور بے حیائی کا دروازہ بھی کھلتا ہے اس لیے اسلام نے زانی کے دعوے کوکوئی حیثیت نہیں دی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک طرف شریعت کی پاسداری کی تو دوسری طرف احتیاط کے پہلو کو بھی نظر انداز نہیں کیا، چنانچہ حضرت سودہ ؓ سے فرمایا:
"تونے اس بچے سے پردہ کرنا ہے۔
" حضرت سودہ ؓ نے اس حدیث پرعمل کیا اور زندگی بھر اس بچے کو نہیں دیکھا چنانچہ ایک دوسری حدیث میں اس کی وضاحت ہے کہ حضرت سودہ بنت زمعہ ؓ جب تک زندہ رہیں، اس کے سامنے نہیں آئیں۔
(صحیح البخاري، البیوع، حدیث: 2053۔
)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4303]

Sahih Bukhari Hadith 4303 in Urdu