یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
55. باب قول الله تعالى: {ويوم حنين إذ أعجبتكم كثرتكم فلم تغن عنكم شيئا وضاقت عليكم الأرض بما رحبت ثم وليتم مدبرين ثم أنزل الله سكينته} إلى قوله: {غفور رحيم} :
باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان اور اللہ تعالیٰ کا فرمان (سورۃ التوبہ میں) کہ ”یاد کرو تم کو اپنی کثرت تعداد پر گھمنڈ ہو گیا تھا پھر وہ کثرت تمہارے کچھ کام نہ آئی اور تم پر زمین باوجود اپنی فراخی کے تنگ ہونے لگی، پھر تم پیٹھ دے کر بھاگ کھڑے ہوئے، اس کے بعد اللہ نے تم پر اپنی طرف سے تسلی نازل کی“ «غفور رحيم» تک۔
حدیث نمبر: 4314
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ:" رَأَيْتُ بِيَدِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى ضَرْبَةً، قَالَ: ضُرِبْتُهَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ"، قُلْتُ:" شَهِدْتَ حُنَيْنًا؟" قَالَ:" قَبْلَ ذَلِكَ".
ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، کہا ہم کو اسماعیل بن ابی خالد نے خبر دی، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما کے ہاتھ میں زخم کا نشان دیکھا پھر انہوں نے بتلایا کہ یہ زخم اس وقت آیا تھا جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ حنین میں شریک تھا۔ میں نے کہا، آپ حنین میں شریک تھے؟ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے بھی میں کئی غزوات میں شریک ہو چکا ہوں۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4314]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4314 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4314
حدیث حاشیہ:
1۔
سائل کا مقصد یہ تھا کہ حنین سے پہلے کون سے غزوے میں شرکت کی تھی؟ انھوں نے بتایا کہ کئی ایک غزوات میں شریک رہا ہوں۔
انھوں نے صلح حدیبیہ میں شرکت کی تھی۔
2۔
بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ غزوہ خندق میں بھی موجود تھے۔
وہ صحابی بن صحابی ہیں۔
۔
۔
رضي اللہ تعالیٰ عنه۔
(فتح الباري: 36/8)
وہ درخت کے نیچے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کرنے والوں میں سے ہیں۔
یہ آخری صحابی ہیں، جنھوں نے کوفے میں وفات پائی۔
واضح رہے کہ ان کی وفات 86ہجری میں ہوئی۔
(عمدة القاري: 287/12)
1۔
سائل کا مقصد یہ تھا کہ حنین سے پہلے کون سے غزوے میں شرکت کی تھی؟ انھوں نے بتایا کہ کئی ایک غزوات میں شریک رہا ہوں۔
انھوں نے صلح حدیبیہ میں شرکت کی تھی۔
2۔
بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ غزوہ خندق میں بھی موجود تھے۔
وہ صحابی بن صحابی ہیں۔
۔
۔
رضي اللہ تعالیٰ عنه۔
(فتح الباري: 36/8)
وہ درخت کے نیچے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کرنے والوں میں سے ہیں۔
یہ آخری صحابی ہیں، جنھوں نے کوفے میں وفات پائی۔
واضح رہے کہ ان کی وفات 86ہجری میں ہوئی۔
(عمدة القاري: 287/12)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4314]
Sahih Bukhari Hadith 4314 in Urdu
إسماعيل بن أبي خالد البجلي ← عبد الله بن أبي أوفى الأسلمي