🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
71. باب وفد بني حنيفة، وحديث ثمامة بن أثال:
باب: وفد بنو حنیفہ اور ثمامہ بن اثال کے واقعات کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4377
وَسَمِعْتُ أَبَا رَجَاءٍ، يَقُولُ: كُنْتُ يَوْمَ بُعِثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُلَامًا أَرْعَى الْإِبِلَ عَلَى أَهْلِي، فَلَمَّا سَمِعْنَا بِخُرُوجِهِ فَرَرْنَا إِلَى النَّارِ إِلَى مُسَيْلِمَةَ الْكَذَّابِ".
اور میں نے ابورجاء سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تو میں ابھی کم عمر تھا اور اپنے گھر کے اونٹ چرایا کرتا تھا پھر جب ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی فتح (مکہ کی خبر سنی) تو ہم آپ کو چھوڑ کر دوزخ میں چلے گئے، یعنی مسیلمہ کذاب کے تابعدار بن گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4377]
(مہدی بن میمون ہی نے کہا کہ) میں نے ابورجاء رحمہ اللہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تو میں کمسن لڑکا تھا، اپنے گھر والوں کے اونٹ چرایا کرتا تھا۔ جب ہمیں آپ کے غلبے کی خبر ملی تو ہم بھاگ کر آگ کی طرف چلے گئے، یعنی مسیلمہ کذاب کو نبی مان لیا۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4377]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4377 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4377
حدیث حاشیہ:
حضرت ابورجاء پہلے مسیلمہ کذاب کے تابعدار بن گئے تھے پھر اللہ نے ان کو اسلام کی توفیق دی، مگر انہوں نے آنحضر ت صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4377]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4377
حدیث حاشیہ:

دور جاہلیت میں لوگ ماہ رجب کی بہت تعظیم کرتے تھے۔
جب یہ مہینہ آجاتا تو باہمی جنگ و جدال ختم کردیتے اور کہتے کہ رجب کا مہینہ ہتھیاروں کو خالی کرنے والا مہینہ ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ابو رجاء ان لوگوں میں سے تھے جنھوں نے مسیلمہ کذاب کی قوم میں سے اس کی بیعت کی تھی اور اس کی فرمانبرداری کو قبول کر لیا تھا۔
اس کا سبب یہ تھا کہ بنو تمیم سے ایک سجاح نامی عورت نے بھی دعوائے نبوت کیا تھا۔
اس کی قوم نے اس کی بیعت کر لی۔
پھر اسے مسیلمہ کذاب کےحالات کا علم ہوا تو اس کے پاس آئی اس نے دھوکے سے اس کے ساتھ نکاح کر لیا اور پھر دونوں میاں بیوی کی قوم نے مسیلمہ کی اطاعت پر اتفاق کر لیا۔
(فتح الباري: 114/8)
ابو رجاء نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عہد پایا تھا لیکن شرف صحابیت سے محروم رہے اس کے بعد مسلمان ہوئے تو جنگ جمل میں حضرت عائشہ ؓ کا ساتھ دیا۔
اس حدیث میں مسیلمہ کذاب کا ذکر ہے، اس لیے امام بخاری ؒ نے اسے یہاں بیان کیا ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4377]

Sahih Bukhari Hadith 4377 in Urdu