یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
71. باب وفد بني حنيفة، وحديث ثمامة بن أثال:
باب: وفد بنو حنیفہ اور ثمامہ بن اثال کے واقعات کا بیان۔
حدیث نمبر: 4376
حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مَهْدِيَّ بْنَ مَيْمُونٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيَّ، يَقُولُ:" كُنَّا نَعْبُدُ الْحَجَرَ، فَإِذَا وَجَدْنَا حَجَرًا هُوَ أَخْيَرُ مِنْهُ أَلْقَيْنَاهُ وَأَخَذْنَا الْآخَرَ، فَإِذَا لَمْ نَجِدْ حَجَرًا جَمَعْنَا جُثْوَةً مِنْ تُرَابٍ، ثُمَّ جِئْنَا بِالشَّاةِ فَحَلَبْنَاهُ عَلَيْهِ، ثُمَّ طُفْنَا بِهِ، فَإِذَا دَخَلَ شَهْرُ رَجَبٍ، قُلْنَا: مُنَصِّلُ الْأَسِنَّةِ، فَلَا نَدَعُ رُمْحًا فِيهِ حَدِيدَةٌ وَلَا سَهْمًا فِيهِ حَدِيدَةٌ إِلَّا نَزَعْنَاهُ وَأَلْقَيْنَاهُ شَهْرَ رَجَبٍ.
ہم سے صلت بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے مہدی بن میمون سے سنا کہ میں نے ابورجاء عطاردی رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ ہم پہلے پتھر کی پوجا کرتے تھے اور اگر کوئی پتھر ہمیں اس سے اچھا مل جاتا تو اسے پھینک دیتے اور اس دوسرے کی پوجا شروع کر دیتے۔ اگر ہمیں پتھر نہ ملتا تو مٹی کا ایک ٹیلہ بنا لیتے اور بکری لا کر اس پر دوہتے اور اس کے گرد طواف کرتے۔ جب رجب کا مہینہ آ جاتا تو ہم کہتے کہ یہ مہینہ نیزوں کو دور رکھنے کا ہے۔ چنانچہ ہمارے پاس لوہے سے بنے ہوئے جتنے بھی نیزے یا تیر ہوتے ہم رجب کے مہینے میں انہیں اپنے سے دور رکھتے اور انہیں کسی طرف پھینک دیتے۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4376]
مہدی بن میمون رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے ابورجاء عطاردی رحمہ اللہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: ”ہم پتھروں کی عبادت کیا کرتے تھے، چنانچہ جب ہم کوئی ایسا پتھر دیکھتے جو پہلے پتھر سے اچھا ہوتا تو پہلے کو پھینک کر اسے پکڑ لیتے تھے۔ اگر ہمیں کوئی پتھر نہ ملتا تو مٹی کا ڈھیر بنا لیتے، پھر بکری لاتے اور اس پر بکری کا دودھ دوہتے، پھر اس کا طواف کرتے تھے۔ جب رجب کا مہینہ آتا تو ہم کہتے: یہ «مُنْصِلُ الْأَسِنَّةِ» ”تیروں سے پھل الگ کر دینے کا مہینہ“ ہے، لہذا ہم کوئی نیزہ نہیں چھوڑتے تھے جس میں لوہا لگا ہوتا اور نہ کوئی تیر ہی جس میں پھل ہوتا مگر اسے نکال پھینکتے تھے۔ الغرض ہم اسے ماہ رجب میں پھینک دیتے تھے۔“ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4376]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عمران بن ملحان العطاردي، أبو رجاء | ثقة | |
👤←👥مهدي بن ميمون الأزدي، أبو يحيى مهدي بن ميمون الأزدي ← عمران بن ملحان العطاردي | ثقة | |
👤←👥الصلت بن محمد الخاركي، أبو همام الصلت بن محمد الخاركي ← مهدي بن ميمون الأزدي | صدوق حسن الحديث |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
4376
| كنا نعبد الحجر فإذا وجدنا حجرا هو أخير منه ألقيناه وأخذنا الآخر فإذا لم نجد حجرا جمعنا جثوة من تراب ثم جئنا بالشاة فحلبناه عليه ثم طفنا به فإذا دخل شهر رجب قلنا منصل الأسنة فلا ندع رمحا فيه حديدة ولا سهما فيه حديدة إلا نزعناه |
Sahih Bukhari Hadith 4376 in Urdu
مهدي بن ميمون الأزدي ← عمران بن ملحان العطاردي