یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
78. باب حجة الوداع:
باب: حجۃ الوداع کا بیان۔
حدیث نمبر: 4411
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، أَخْبَرَهُ ابْنُ عُمَرَ:" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَلَقَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَأُنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ وَقَصَّرَ بَعْضُهُمْ".
ہم سے عبیداللہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن بکر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن جریج نے بیان کیا، ان سے موسیٰ بن عقبہ نے، انہیں نافع نے اور انہیں ابن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے بعض اصحاب نے حجۃ الوداع کے موقع پر سر منڈوایا تھا اور بعض دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم نے صرف ترشوا لیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4411]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے حجۃ الوداع کے موقع پر سر منڈوائے تھے اور کچھ ساتھیوں نے بال کٹوائے تھے۔“ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4411]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
4411
| حلق في حجة الوداع وأناس من أصحابه وقصر بعضهم |
صحيح البخاري |
4410
| حلق رأسه في حجة الوداع |
صحيح البخاري |
1726
| حلق رسول الله في حجته |
صحيح البخاري |
1729
| حلق النبي وطائفة من أصحابه وقصر بعضهم |
صحيح مسلم |
3151
| حلق رأسه في حجة الوداع |
صحيح مسلم |
3144
| حلق رسول الله وحلق طائفة من أصحابه وقصر بعضهم رحم الله المحلقين مرة أو مرتين ثم قال والمقصرين |
سنن أبي داود |
1980
| حلق رأسه في حجة الوداع |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4411 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4411
حدیث حاشیہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر ارکان حج سے فراغت کے بعد اپنے سر مبارک کے بال منڈوائے اور جن اصحاب نے بال منڈوائے تھے ان کے لیے تین مرتبہ رحم وکرم کی دعا فرمائی اور جنھوں نے بال کٹوائے تھے ان کے لیے صرف ایک مر تبہ دعا کی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حج وعمرہ کے علاوہ کبھی سرکے بال منڈوانے کا ثبوت نہیں ملتا بلکہ آپ نے اپنے بالوں کو نہایت اعزاز و احترام سے رکھا۔
آپ کے بال کبھی کانوں تک اور کبھی گردن کے برابر ہوتے۔
جب دیر ہوجاتی تو آپ کے بال مینڈھوں کی صورت اختیار کرلیتے۔
چونکہ ان احادیث میں حجۃ الوداع کا ذکر ہے، اس لیے امام بخاری ؒ نے انھیں ذکر کیا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر ارکان حج سے فراغت کے بعد اپنے سر مبارک کے بال منڈوائے اور جن اصحاب نے بال منڈوائے تھے ان کے لیے تین مرتبہ رحم وکرم کی دعا فرمائی اور جنھوں نے بال کٹوائے تھے ان کے لیے صرف ایک مر تبہ دعا کی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حج وعمرہ کے علاوہ کبھی سرکے بال منڈوانے کا ثبوت نہیں ملتا بلکہ آپ نے اپنے بالوں کو نہایت اعزاز و احترام سے رکھا۔
آپ کے بال کبھی کانوں تک اور کبھی گردن کے برابر ہوتے۔
جب دیر ہوجاتی تو آپ کے بال مینڈھوں کی صورت اختیار کرلیتے۔
چونکہ ان احادیث میں حجۃ الوداع کا ذکر ہے، اس لیے امام بخاری ؒ نے انھیں ذکر کیا ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4411]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 3151
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں سر منڈوایا تھا۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:3151]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
سرمنڈانا بالاتفاق کٹوانے سے افضل ہے اور تحلیق وتقصیر حج کی عبادات میں سے ایک عبادت ہے۔
ائمہ اربعہ کا صحیح قول یہی ہے احرام کھولنے کے لیے حلق یا تقصیر واجب ہے۔
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ۔
امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ۔
اور اسحاق رحمۃ اللہ علیہ وغیرہم کے نزدیک اگراحرام کھولنے کے بعد حلق یا تقصیر کرے گا،
تو اس کو ایک جانور کی قربانی کرنا ہو گی۔
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ،
امام احمد رحمۃ اللہ علیہ۔
اورابویوسف رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک قربانی کے آخری دن تک تحلیق یا تقصیر کر سکتا ہے اگر اس سے بھی تاخیر کرے گا تو امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک دم پڑے گا۔
امام احمد رحمۃ اللہ علیہ اور امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک پورا سر منڈوانا فرض ہے۔
امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک چوتھائی سرمنڈوانا فرض ہے۔
اورامام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک تین بال منڈوانا فرض ہے۔
لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل ہی ہمارے لیے اسوہ ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پورا سر منڈوایا تھا اور عمرہ میں بال بھی مکمل کٹوائے تھے اور عورتوں کے لیے سرمنڈوا ناجائز ہے۔
لیکن چند بالوں کو کٹوا لینا درست ہے اور حلق میں امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے سوا باقی ائمہ کے نزدیک سر کے دائیں حصہ کو پہلے منڈوانا مستحب ہے اگر کسی کے سر کے بال نہ ہوں تو اس کے سر پر استرا پھیر دیا جائے گا۔
فوائد ومسائل:
سرمنڈانا بالاتفاق کٹوانے سے افضل ہے اور تحلیق وتقصیر حج کی عبادات میں سے ایک عبادت ہے۔
ائمہ اربعہ کا صحیح قول یہی ہے احرام کھولنے کے لیے حلق یا تقصیر واجب ہے۔
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ۔
امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ۔
اور اسحاق رحمۃ اللہ علیہ وغیرہم کے نزدیک اگراحرام کھولنے کے بعد حلق یا تقصیر کرے گا،
تو اس کو ایک جانور کی قربانی کرنا ہو گی۔
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ،
امام احمد رحمۃ اللہ علیہ۔
اورابویوسف رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک قربانی کے آخری دن تک تحلیق یا تقصیر کر سکتا ہے اگر اس سے بھی تاخیر کرے گا تو امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک دم پڑے گا۔
امام احمد رحمۃ اللہ علیہ اور امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک پورا سر منڈوانا فرض ہے۔
امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک چوتھائی سرمنڈوانا فرض ہے۔
اورامام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک تین بال منڈوانا فرض ہے۔
لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل ہی ہمارے لیے اسوہ ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پورا سر منڈوایا تھا اور عمرہ میں بال بھی مکمل کٹوائے تھے اور عورتوں کے لیے سرمنڈوا ناجائز ہے۔
لیکن چند بالوں کو کٹوا لینا درست ہے اور حلق میں امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے سوا باقی ائمہ کے نزدیک سر کے دائیں حصہ کو پہلے منڈوانا مستحب ہے اگر کسی کے سر کے بال نہ ہوں تو اس کے سر پر استرا پھیر دیا جائے گا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3151]
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1726
1726. حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حج کے موقع پر سر کو منڈوایا تھا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1726]
حدیث حاشیہ:
معلوم ہوا کہ سر منڈانا یا بال کتروانا بھی حج کا ایک کام ہے۔
معلوم ہوا کہ سر منڈانا یا بال کتروانا بھی حج کا ایک کام ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1726]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1726
1726. حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حج کے موقع پر سر کو منڈوایا تھا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1726]
حدیث حاشیہ:
(1)
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے اس سال حج کا ارادہ کیا جب حجاج بن یوسف نے حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ کے خلاف لشکر کشی کی تھی۔
حضرت ابن عمر ؓ نے احرام باندھا، یہاں تک کہ ذوالحجہ کی دسویں تاریخ کو قربانی کی اور سر منڈوایا، پھر فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنے حج کے موقع پر ایسے ہی کیا تھا۔
(صحیح مسلم، الحج، حدیث: 2992(1230) (2)
اس حدیث سے امام بخاری ؒ نے احرام کھولتے وقت سر منڈوانا ثابت کیا ہے جبکہ عنوان میں بال کتروانے کا بھی ذکر ہے، چنانچہ بعض روایات میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام ؓ نے سر منڈوائے تھے اور کچھ حضرات نے بال کتروائے تھے۔
(صحیح البخاري، المغازي، حدیث: 4411)
لیکن عورتوں کے لیے بال منڈوانا جائز نہیں بلکہ وہ اپنی چٹیا کے چند ایک بال لے لیں، چنانچہ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”عورتوں کے لیے بال منڈوانا نہیں بلکہ صرف ترشوانا ہے۔
“ (سنن أبي داود، المناسك، حدیث: 1984)
بہرحال حج یا عمرے کے اختتام پر مردوں کے لیے بال منڈوانا افضل اور کتروانا جائز ہے جیسا کہ آئندہ احادیث سے معلوم ہو گا۔
(1)
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے اس سال حج کا ارادہ کیا جب حجاج بن یوسف نے حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ کے خلاف لشکر کشی کی تھی۔
حضرت ابن عمر ؓ نے احرام باندھا، یہاں تک کہ ذوالحجہ کی دسویں تاریخ کو قربانی کی اور سر منڈوایا، پھر فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنے حج کے موقع پر ایسے ہی کیا تھا۔
(صحیح مسلم، الحج، حدیث: 2992(1230) (2)
اس حدیث سے امام بخاری ؒ نے احرام کھولتے وقت سر منڈوانا ثابت کیا ہے جبکہ عنوان میں بال کتروانے کا بھی ذکر ہے، چنانچہ بعض روایات میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام ؓ نے سر منڈوائے تھے اور کچھ حضرات نے بال کتروائے تھے۔
(صحیح البخاري، المغازي، حدیث: 4411)
لیکن عورتوں کے لیے بال منڈوانا جائز نہیں بلکہ وہ اپنی چٹیا کے چند ایک بال لے لیں، چنانچہ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”عورتوں کے لیے بال منڈوانا نہیں بلکہ صرف ترشوانا ہے۔
“ (سنن أبي داود، المناسك، حدیث: 1984)
بہرحال حج یا عمرے کے اختتام پر مردوں کے لیے بال منڈوانا افضل اور کتروانا جائز ہے جیسا کہ آئندہ احادیث سے معلوم ہو گا۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1726]
Sahih Bukhari Hadith 4411 in Urdu
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي