🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
79. بَابُ غَزْوَةُ تَبُوكَ، وَهْيَ غَزْوَةُ الْعُسْرَةِ:
باب: غزوہ تبوک کا بیان، اس کا دوسرا غزوہ عسرت یعنی (تنگی کا غزوہ) بھی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4415
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَرْسَلَنِي أَصْحَابِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْأَلُهُ الْحُمْلَانَ لَهُمْ، إِذْ هُمْ مَعَهُ فِي جَيْشِ الْعُسْرَةِ وَهِيَ غَزْوَةُ تَبُوكَ، فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنَّ أَصْحَابِي أَرْسَلُونِي إِلَيْكَ لِتَحْمِلَهُمْ، فَقَالَ:" وَاللَّهِ لَا أَحْمِلُكُمْ عَلَى شَيْءٍ"، وَوَافَقْتُهُ وَهُوَ غَضْبَانُ وَلَا أَشْعُرُ، وَرَجَعْتُ حَزِينًا مِنْ مَنْعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمِنْ مَخَافَةِ أَنْ يَكُونَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ فِي نَفْسِهِ عَلَيَّ، فَرَجَعْتُ إِلَى أَصْحَابِي فَأَخْبَرْتُهُمُ الَّذِي قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ أَلْبَثْ إِلَّا سُوَيْعَةً إِذْ سَمِعْتُ بِلَالًا يُنَادِي: أَيْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ، فَأَجَبْتُهُ، فَقَالَ: أَجِبْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُوكَ، فَلَمَّا أَتَيْتُهُ، قَالَ:" خُذْ هَذَيْنِ الْقَرِينَيْنِ، وَهَذَيْنِ الْقَرِينَيْنِ لِسِتَّةِ أَبْعِرَةٍ، ابْتَاعَهُنَّ حِينَئِذٍ مِنْ سَعْدٍ، فَانْطَلِقْ بِهِنَّ إِلَى أَصْحَابِكَ، فَقُلْ: إِنَّ اللَّهَ، أَوْ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْمِلُكُمْ عَلَى هَؤُلَاءِ، فَارْكَبُوهُنَّ"، فَانْطَلَقْتُ إِلَيْهِمْ بِهِنَّ، فَقُلْتُ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْمِلُكُمْ عَلَى هَؤُلَاءِ، وَلَكِنِّي وَاللَّهِ لَا أَدَعُكُمْ حَتَّى يَنْطَلِقَ مَعِي بَعْضُكُمْ إِلَى مَنْ سَمِعَ مَقَالَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَا تَظُنُّوا أَنِّي حَدَّثْتُكُمْ شَيْئًا لَمْ يَقُلْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا لِي: وَاللَّهِ إِنَّكَ عِنْدَنَا لَمُصَدَّقٌ، وَلَنَفْعَلَنَّ مَا أَحْبَبْتَ، فَانْطَلَقَ أَبُو مُوسَى بِنَفَرٍ مِنْهُمْ حَتَّى أَتَوْا الَّذِينَ سَمِعُوا قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْعَهُ إِيَّاهُمْ، ثُمَّ إِعْطَاءَهُمْ بَعْدُ، فَحَدَّثُوهُمْ بِمِثْلِ مَا حَدَّثَهُمْ بِهِ أَبُو مُوسَى.
مجھ سے محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے برید بن عبداللہ بن ابی بردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مجھے میرے ساتھیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کے لیے سواری کے جانوروں کی درخواست کروں۔ وہ لوگ آپ کے ساتھ جیش عسرت (یعنی غزوہ تبوک) میں شریک ہونا چاہتے تھے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے ساتھیوں نے مجھے آپ کی خدمت میں بھیجا ہے تاکہ آپ ان کے لیے سواری کے جانوروں کا انتظام کرا دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں تم کو سواری کے جانور نہیں دے سکتا۔ میں جب آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا تو آپ غصہ میں تھے اور میں اسے معلوم نہ کر سکا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انکار سے میں بہت غمگین واپس ہوا۔ یہ خوف بھی تھا کہ کہیں آپ سواری مانگنے کی وجہ سے خفا نہ ہو گئے ہوں۔ میں اپنے ساتھیوں کے پاس آیا اور انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کی خبر دی، لیکن ابھی کچھ زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ میں نے بلال رضی اللہ عنہ کی آواز سنی، وہ پکار رہے تھے، اے عبداللہ بن قیس! میں نے جواب دیا تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں بلا رہے ہیں۔ میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ دو جوڑے اور یہ دو جوڑے اونٹ کے لے جاؤ۔ آپ نے چھ اونٹ عنایت فرمائے۔ ان اونٹوں کو آپ نے اسی وقت سعد رضی اللہ عنہ سے خریدا تھا اور فرمایا کہ انہیں اپنے ساتھیوں کو دے دو اور انہیں بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے یا آپ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہاری سواری کے لیے انہیں دیا ہے، ان پر سوار ہو جاؤ۔ میں ان اونٹوں کو لے کر اپنے ساتھیوں کے پاس گیا اور ان سے میں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہاری سواری کے لیے یہ عنایت فرمائے ہیں لیکن اللہ کی قسم! کہ اب تمہیں ان صحابہ رضی اللہ عنہم کے پاس چلنا پڑے گا، جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار فرمانا سنا تھا، کہیں تم یہ خیال نہ کر بیٹھو کہ میں نے تم سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے متعلق غلط بات کہہ دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ تمہاری سچائی میں ہمیں کوئی شبہ نہیں ہے لیکن اگر آپ کا اصرار ہے تو ہم ایسا بھی کر لیں گے۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ ان میں سے چند لوگوں کو لے کر ان صحابہ رضی اللہ عنہم کے پاس آئے جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ ارشاد سنا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے تو دینے سے انکار کیا تھا لیکن پھر عنایت فرمایا۔ ان صحابہ رضی اللہ عنہم نے بھی اسی طرح حدیث بیان کی جس طرح ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4415]
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ مجھے میرے دوستوں نے، جو جیشِ عسرت یعنی غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جانے والے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سواریوں کے لیے بھیجا۔ میں نے آ کر خدمتِ اقدس میں عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں سواریاں مہیا فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں تمہیں کوئی سواری دینے والا نہیں ہوں۔ اتفاق سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت غصے میں تھے لیکن مجھے معلوم نہ تھا۔ میں بہت رنجیدہ ہو کر واپس لوٹا۔ مجھے ایک رنج تو یہ تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سواریاں نہیں دیں اور دوسرا یہ رنج تھا کہ کہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے سواری مانگنے پر ناراض نہ ہو گئے ہوں۔ میں اپنے ساتھیوں کے پاس آیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمایا تھا، وہ ان سے کہہ دیا۔ تھوڑی ہی دیر بعد میں نے سنا کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ پکار رہے ہیں: اے عبداللہ بن قیس! میں ان کے پاس گیا تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں یاد فرمایا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھ تیار اونٹوں کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: لے جاؤ ان دو اونٹوں کو، اور ان دو اونٹوں کو (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات تین دفعہ فرمائی)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ چھ اونٹ اسی وقت حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے خریدے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید فرمایا: ان اونٹوں کو اپنے ساتھیوں کے پاس لے جاؤ اور ان سے کہہ دو کہ اللہ تعالیٰ نے، یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اونٹ تمہیں سواری کے لیے دیے ہیں، لہٰذا تم ان پر سوار ہو جاؤ۔ پھر میں ان اونٹوں کو لے کر ان کے پاس آیا اور کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہاری سواری کے لیے یہ اونٹ عنایت فرمائے ہیں لیکن اللہ کی قسم! میں تمہیں ہرگز چھوڑنے والا نہیں ہوں یہاں تک کہ تم میں سے کچھ لوگ میرے ساتھ اس شخص کے پاس چلیں جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گفتگو سنی تھی تاکہ تمہیں یہ خیال نہ ہو کہ میں نے اپنی طرف سے تمہیں ایسی بات کہہ دی تھی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کہی تھی۔ انہوں نے کہا: (نہیں، اس اہتمام کی چنداں ضرورت نہیں)۔ ہم تجھے سچا سمجھتے ہیں اور اگر تم تصدیق کرانا چاہتے ہو تو ہم ایسا ہی کریں گے۔ چنانچہ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ چند آدمیوں کو لے کر ان لوگوں کے پاس آئے جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی (پہلی) گفتگو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار سنا تھا مگر اس کے بعد سواری عنایت فرمائی، تو انہوں نے بھی اسی طرح بیان کیا جس طرح حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا تھا، یعنی حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کی تصدیق کی۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4415]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن قيس الأشعري، أبو موسىصحابي
👤←👥أبو بردة بن أبي موسى الأشعري، أبو بردة
Newأبو بردة بن أبي موسى الأشعري ← عبد الله بن قيس الأشعري
ثقة
👤←👥بريد بن عبد الله الأشعري، أبو بردة
Newبريد بن عبد الله الأشعري ← أبو بردة بن أبي موسى الأشعري
ثقة
👤←👥حماد بن أسامة القرشي، أبو أسامة
Newحماد بن أسامة القرشي ← بريد بن عبد الله الأشعري
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن العلاء الهمداني، أبو كريب
Newمحمد بن العلاء الهمداني ← حماد بن أسامة القرشي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
6678
لا أحملكم على شيء ووافقته وهو غضبان فلما أتيته قال انطلق إلى أصحابك فقل إن الله أو إن رسول الله يحملكم
صحيح البخاري
4415
لا أحملكم على شيء ووافقته وهو غضبان ولا أشعر ورجعت حزينا من منع النبي ومن مخافة أن يكون النبي وجد في نفسه علي فرجعت إلى أصحابي فأخبرتهم الذي قال النبي فلم ألبث إلا سويعة إذ سمعت بلالا ينادي
صحيح مسلم
4264
لا أحملكم على شيء ووافقته وهو غضبان ولا أشعر فرجعت حزينا من منع رسول الله ومن مخافة أن يكون رسول الله قد وجد في نفسه علي فرجعت إلى أصحابي فأخبرتهم الذي قال رسول الله فلم ألبث إلا سويعة إذ سمعت
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4415 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4415
حدیث حاشیہ:
روایت میں حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ کا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سواریاں مانگنے کا ذکر ہے۔
اتفاق سے اس وقت سواریاں موجودنہ تھیں۔
لہٰذا آنحضر ت انے انکار فرما دیا۔
تھوڑی دیر بعد سواریاں مہیا ہوگئیں اور رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوموسیٰ ؓ کو واپس بلوا کر پانچ چھ اونٹ ان کو دلوا دئیے۔
اب ابو موسیٰ ؓ کو یہ ڈر ہوا کہ میرے ساتھی مجھ کو جھوٹا نہ سمجھ بیٹھيں کہ ابھی تو اس نے یہ کہا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سواری نہیں دے رہے ہیں اور ابھی سواریاں لے کر آگیا۔
اس لیے حضرت ابوموسیٰ ؓ نے ان سے یہ کہا کہ میرے ہمراہ چل کر میری بات کی تصدیق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کرلو تاکہ میری بات کا تم کو یقین ہوجائے۔
چنانچہ ابو موسیٰ ؓ کے اصرار شدید پر چھ آدمی خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوئے اور انہوں نے ابو موسیٰ ؓ کے بیان کی تصدیق کی۔
حضرت ابو موسیٰ عبد اللہ بن قیس اشعری ؓ مشہور مہاجر صحابی ہیں۔
جنہوں نے حبشہ کی طرف بھی ہجرت کی تھی اور یہ اہل سفینہ کے ساتھ مدینہ آئے تھے جبکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خیبر میں تھے۔
حضرت فاروق اعظم ؓ نے 20ھ میں ان کو بصرہ کا حاکم مقرر کیا اور خلافت عثمانی میں ان کو کوفہ کا حاکم مقرر کیا گیا۔
جب ہی یہ مکہ آگئے تھے۔
52ھ میں مکہ ہی میں ان کا انتقال ہوا، رضي اللہ عنه و أرضاہ۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4415]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4415
حدیث حاشیہ:

اس حدیث میں حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سواریاں طلب کرنے کا ذکر ہے، اتفاق سے اس وقت سواریاں موجود نہ تھیں لہذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار فرما دیا۔
تھوڑی دیر بعد سواریاں مہیا ہوگئیں اورآپ نے حضرت موسیٰ اشعری ؓ کو بلا کر چند سواریاں مہیا کر دیں۔
اب حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ کو ڈر پیدا ہوا کہ میرے ساتھی مجھے جھوٹا کہیں گے یعنی ابھی تو اس نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سواریاں نہیں ہیں اوربھی سواریاں لے کر بھی آگئے۔
اس بنا پر انھوں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ تم میرے ہمراہ چل کر میری بات کی تصدیق کرلو تاکہ تمھیں میری بات کا یقین ہوجائے، چنانچہ ان کے اصرار پر چھ آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انھوں نے حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ کے بیان کی تصدیق کی۔

قدوم اشعریین کے باب میں پانچ اونٹوں کا ذکر تھا اور اس روایت میں چھ اونٹوں کاذکر ہے؟ ممکن ہے کہ واقعات متعدد ہوں۔
جب اشعری حضرات آئے تو انھیں پانچ اونٹ دیے اور غزوہ تبوک میں شمولیت کے لیے چھ اونٹ دیے کیونکہ اشعری حضرات سات ہجری میں آئے تھے جبکہ غزوہ تبوک نوہجری میں ہوا تھا، اس کےعلاوہ تھوڑی تعداد زیادہ کے منافی نہیں ہوتی۔
واللہ اعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4415]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6678
6678. حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا: مجھے میرے ساتھیوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا تاکہ میں آپ سے سواریوں کا مطالبہ کروں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں تمہیں کسی چیز پر سوار نہیں کروں گا۔ اس وقت میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حالت میں پایا کہ آپ غصے میں تھے۔ پھر جب میں دوبارہ آپ کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا: تم اپنے ساتھیوں کے پاس جاؤ اور ان سے کہو: اللہ تعالٰی نے یا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں سواریاں مہیا کی ہیں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6678]
حدیث حاشیہ:
بعد میں انتظام ہو جانے پر آپ نے اپنی قسم کو توڑ دیا اور اس کا کفارہ ادا فرما دیا۔
باب اور حدیث میں مطابقت ظاہر ہے۔
حضرت ابوموسیٰ عبداللہ بن قیس اشعری مکہ میں اسلام لائے، حبشہ کی طرف ہجرت کی اور اہل سفینہ کے ساتھ حبشہ سے واپس ہوئے۔
20ھ میں حضرت فاروق نے ان کو بصرہ کا حاکم بنا دیا۔
52ھ میں وفات پائی۔
رضي اللہ عنه و أرضاہ۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6678]

الشيخ محمد حسين ميمن حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري 6678
ملک حاصل ہونے سے پہلے یا گناہ کی بات کے لیے یا غصہ کی حالت میں قسم کھانے کا کیا حکم ہے؟
«. . . عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: أَرْسَلَنِي أَصْحَابِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَسْأَلُهُ الْحُمْلَانَ، فَقَالَ:" وَاللَّهِ لَا أَحْمِلُكُمْ عَلَى شَيْءٍ"، وَوَافَقْتُهُ وَهُوَ غَضْبَانُ، فَلَمَّا أَتَيْتُهُ، قَالَ:" انْطَلِقْ إِلَى أَصْحَابِكَ، فَقُلْ:" إِنَّ اللَّهَ، أَوْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَحْمِلُكُمْ . . .»
. . . ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میرے ساتھیوں نے مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سواری کے جانور مانگنے کے لیے بھیجا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی قسم میں تمہارے لیے کوئی سواری کا جانور نہیں دے سکتا (کیونکہ موجود نہیں ہیں) جب میں آپ کے سامنے آیا تو آپ کچھ خفگی میں تھے۔ پھر جب دوبارہ آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے ساتھیوں کے پاس جا اور کہہ کہ اللہ تعالیٰ نے یا (یہ کہا کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارے لیے سواری کا انتظام کر دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ: 6678]
صحیح بخاری کی حدیث نمبر: 6678کا باب: «بَابُ الْيَمِينِ فِيمَا لاَ يَمْلِكُ، وَفِي الْمَعْصِيَةِ، وَفِي الْغَضَبِ:»
باب اور حدیث میں مناسبت:
ترجمۃ الباب میں امام بخاری رحمہ اللہ نے اس بات کو ظاہر فرمایا کہ ملکیت سے قبل غصہ کی حالت میں قسم کھا لے تو اس کا کیا کفارہ ہو گا؟ اور اگر وہ چیز بعد میں ملکیت میں داخل ہو جائے تو پھر اس مسئلے کا کیا حل ہو گا؟ تحت الباب حدیث میں سواریاں دینے کی قسم کا ذکر فرمایا ہے، اس وقت جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھائی تھی تو اس وقت سواریاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملک میں نہ تھیں، جب ملک میں آئیں اس وقت دینے سے نہ قسم ٹوٹی اور نہ کفارہ لازم ہوا، اس حدیث سے غصہ کی حالت میں قسم کھا لینے کی بھی مثال ہو سکتی ہے، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ رقمطراز ہیں:
«و الذى يظهر أن البخاري قصد غير هذا و هو أن النبى صلى الله عليه وسلم حلف أن لا يحملهم فلما حملهم راجعوه فى يمينه فقال: ما أنا حملتكم ولكنا الله حملكم، فبين أن يمينه انما انعقدت فيما يملك فلو حملهم على ما يملك لحنت و كفّر.» (1)
جو بات ظاہر ہے، وہ یہ ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ کا قصد یہ نہیں ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھائی کہ انہیں سواریاں نہ دیں گے، پھر جب عطا کیں تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم یاد دلائی تو فرمایا: یہ میں نے تمہیں سوار نہیں کرایا، بلکہ اللہ تعالی نے سوار کرایا ہے، تو بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم کا تعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملک سے ہے، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ملک کی سواریوں پر انہیں سوار کرتے تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم حانث ہو جاتے اور کفارہ ادا کرتے۔
ابن المنیر رحمہ اللہ کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حلف اٹھایا تھا کہ میں آپ کو سواری نہیں دوں گا، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سواری عطا فرمائی تو اپنے یمین میں ان کو لوٹایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ سواریاں میں نے آپ کو نہیں دیں، بلکہ اللہ تعالی نے دی ہیں، مزید ابن المنیر رحمہ اللہ اس مسئلے پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں:
«فلو حملهم على ما يملكه لكفّر، و لا خلاف فيما إذا حلف على شيئي و ليس فى ملكه انه لا يفعل فعلاً متعلقًا بذالك الشيئي مثل قوله: والله لا ركبت هذا البعير و لم يكن البعير فى ملكه، فلو ملكه و ركبه حنث و كفّر و ليس هذا من تعليق العتق على الملك.» (1)
پس اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اس پر سوار کرتے جس کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ملک ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا کفارہ دیتے، کہتے ہیں کہ اس امر میں اختلاف نہیں ہے کہ جس نے کسی شئی کی قسم اٹھائی اور وہ اس کے ملک میں نہیں کہ وہ کوئی ایسا فعل نہ کرے گا جو اس شئی کے ساتھ معلق ہو، مثلا کہے کہ اگر تم اس اونٹ پر سوار ہوتے تو واللہ میں یہ کروں گا، اور وہ اونٹ اس کی ملک میں نہ ہو تو اگر وہ کبھی اس کا مالک ہوا پھر اس پر سوار ہوا تو حانث ہوا، اور یہ ملک ہر قسم کو معلق کرنے کے باب سے نہیں۔
ان گفتگو کا حاصل یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ یہ سواریاں اللہ تعالی نے تمہیں عطا کی ہیں، اگر یہ سواریاں خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی ملک میں ہوتیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قسم کا کفارہ دیتے۔
اب باب اور حدیث میں مناسبت ظاہر ہے۔
دراصل امام بخاری رحمہ اللہ نے جو ترجمۃ الباب قائم فرمایا ہے، اس کے تین اجزاء ہیں، پہلا جزء «يمين» یعنی قسم، دوسرا جزء «في المعصية» یعنی نافرمانی، تیسرا جزء «في حالة الغضب» یعنی غصے میں قسم کھانا۔
ان تینوں اجزاء کو ثابت کرنے کے لیے امام بخاری رحمہ اللہ نے تحت الباب تین احادیث کا انتخاب فرمایا ہے اور تینوں سے باب کا مطلب ظاہر ہوتا ہے۔
پہلی حدیث جو سیدنا ابوموسی رضی اللہ عنہ سے نقل فرمائی ہے، اس میں باب سے مطابقت کچھ یوں ہے، علامہ عینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«مطابقة للجزء الأول للترجمة و هو اليمين فيما لا يملك.» (2)
پہلے جزء سے حدیث کی مناسبت اس قسم سے ہے جس کا وہ مالک نہ ہو۔
دوسرے جزء کی مطابقت، دوسری حدیث سے یوں ہے۔ علامہ عینی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
«مطابقة للجزء الثاني للترجمة فى قوله: و الله لا أنفق على مسطح شيئًا أبدًا و هو مطابق لترك اليمين فى المعصية.» (3)
دوسرے جزء کی مناسبت دوسری حدیث کے ساتھ ان الفاظوں کے ساتھ ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا: اللہ کی قسم! میں مسطح رضی اللہ عنہ پر اب کبھی خرچ نہیں کروں گا، یہ مطابقت ہے اس قسم کو ترک کرنے کی جو معاصیت پر قائم ہو۔
تیسرے جزء کی مناسبت تیسری حدیث کے ساتھ ان الفاظوں میں ہے، علامہ عینی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
«مطابقة للجزء الثالث من الترجمة فى قوله: فوافقته و هو غضبان، فاستحملناه فخلف أن لا يحملنا.» (1)
تیسرے جزء کی مطابقت ان الفاظوں میں ہے: جب میں آپ کے پاس آیا تو آپ غصہ میں تھے، پھر ہم نے آپ سے سواری کا جانور مانگا تو آپ نے قسم کھا لی کہ آپ ہمارے لیے اس کا انتظام نہیں کر سکتے۔
[عون الباری فی مناسبات تراجم البخاری ، جلد دوئم، حدیث/صفحہ نمبر: 238]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6678
6678. حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا: مجھے میرے ساتھیوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا تاکہ میں آپ سے سواریوں کا مطالبہ کروں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں تمہیں کسی چیز پر سوار نہیں کروں گا۔ اس وقت میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حالت میں پایا کہ آپ غصے میں تھے۔ پھر جب میں دوبارہ آپ کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا: تم اپنے ساتھیوں کے پاس جاؤ اور ان سے کہو: اللہ تعالٰی نے یا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں سواریاں مہیا کی ہیں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6678]
حدیث حاشیہ:
اس حدیث سے تینوں اجزاء ثابت کیے جا سکتے ہیں، جس کی تفصیل حسب ذیل ہے:
٭ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب قسم اٹھائی تو آپ اس وقت سواریوں کے مالک نہ تھے۔
٭ قسم اٹھاتے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غصے کی حالت میں تھے۔
٭ سواری مہیا کرنا نیکی ہے۔
اس کے ترک پر آپ نے قسم اٹھائی۔
ایسے حالات میں اگر قسم اٹھا لی جائے تو واقع ہو جاتی ہے۔
اس کا خلاف کرنے پر کفارہ دینا ہو گا جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قسم کا کفارہ دیا اور حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اور آپ کے ساتھیوں نے اس سے یہی سمجھا اور دوبارہ واپس آ کر معذرت کی اور خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کی وضاحت فرمائی کہ اگر میں کسی کام کے متعلق قسم اٹھا لوں، بعد میں مجھے اس کام کے اچھے ہونے کا پتا چلے تو میں وہ کام کر لیتا ہوں اور اپنی قسم کا کفارہ دے دیتا ہوں۔
(فتح الباري: 689/11)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6678]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4264
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے میرے ساتھیوں نے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سواری مانگنے کے لیے بھیجا، کیونکہ وہ بھی تنگی کی جنگ یعنی غزوہ تبوک میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھے، تو میں نے عرض کیا، اے اللہ کے نبی! میرے ساتھیوں نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے کہ آپ انہیں بھی سواریاں دیں، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اللہ کی قسم! میں تمہیں کوئی سواری مہیا نہیں کروں گا۔ اور میں آپ کو اس وقت ملا جبکہ آپ غصہ... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:4264]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم اٹھائی تھی کہ میرے پاس سواریوں کا انتظام نہیں،
(مَا عِندِي مَا اَحمِلُكُم عَلَيه)
اس لیے میں تمہیں سواریاں مہیا نہیں کروں گا،
پھر جب اللہ تعالیٰ نے سواریاں خریدنے کی صورت پیدا کر دی،
تو آپ نے انہیں سواریاں مہیا کر دیں،
لیکن چونکہ ابو موسیٰ اشعری یہ سمجھتے تھے،
شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قسم بھول گئے ہیں،
اس لیے یہ ہمارے لیے باعث برکت نہیں ہوں گی،
وہ چونکہ اپنی قوم کے نمائندہ تھے،
اس لیے بعض دفعہ ذکر سب کا کیا گیا،
اور بعض دفعہ صرف ان کی آمد کا تذکرہ کیا گیا،
اور حقیقت کے اعتبار سے وہ اکیلے ہی آئے تھے،
اس لیے انہیں آپ کے پہلے جواب پر ساتھیوں کو اعتماد میں لینے کے لیے،
دوبارہ ساتھ لے جانے کی ضرورت پیش آئی،
چونکہ سواریاں آپ نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے مہیا کی تھیں،
اپنی طرف سے مہیا نہیں کی تھیں،
اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،
میں نے تمہیں سوار نہیں کیا،
اللہ نے سوار کیا ہے۔
اس اعتبار سے آپ کی قسم نہیں ٹوٹی،
کیونکہ آپ نے اس بنا پر انکار کیا تھا،
اور قسم اٹھائی تھی،
کہ میرے پاس اس کا انتظام نہیں ہے،
جب اللہ تعالیٰ نے انتظام کر دیا،
تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سواریاں دے دیں،
دوسرے لفظوں میں آپ نے اپنی ملکیت سے دینے سے انکار کیا تھا،
بعد میں بیت المال کے خرچ پر مہیا کیں،
اس لیے آپ کی قسم نہیں ٹوٹی،
لیکن آپ نے مسئلہ کی وضاحت کی خاطر بتا دیا،
اگر مجھے تمہیں سواریاں مہیا کرنے کی صورت میں اپنی قسم بھی توڑنی پڑتی،
تو میں اپنی قسم توڑ دیتا،
کیونکہ قسم کے کفارہ سے بچنے کے لیے بہتر کام ترک کرنا درست نہیں ہے،
بلکہ بہتر کام کرنا چاہیے اور قسم کا کفارہ ادا کرنا چاہیے،
دوسرا معنی یہ بھی ہو سکتا ہے کہ میں نے یہ کام بھول کر نہیں کیا،
بلکہ اس لیے کیا ہے کہ قسم پر قائم رہنے سے بہتر یہی تھا کہ میں قسم توڑ کر تمہیں سواریاں مہیا کرتا،
اور میرا اصول یہی ہے کہ کام کرنا،
قسم پر اڑنے سے بہتر ہو تو میں قسم پر نہیں اڑتا،
اس کو توڑ کر اس کا کفارہ ادا کر دیتا ہوں۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4264]

Sahih Bukhari Hadith 4415 in Urdu