علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
82. باب:
باب:۔۔۔
حدیث نمبر: 4422
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، عَنْ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ، قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ حَتَّى إِذَا أَشْرَفْنَا عَلَى الْمَدِينَةِ، قَالَ:" هَذِهِ طَابَةُ، وَهَذَا أُحُدٌ جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ".
ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عمرو بن یحییٰ نے بیان کیا، ان سے عباس بن سہل بن سعد نے اور ان سے ابوحمید رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم غزوہ تبوک سے واپس آ رہے تھے۔ جب آپ مدینہ کے قریب پہنچے تو (مدینہ کی طرف اشارہ کر کے) فرمایا کہ یہ «طابة» ہے اور یہ احد پہاڑ ہے، یہ ہم سے محبت رکھتا ہے اور ہم اس سے محبت رکھتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4422]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
4422
| هذه طابة وهذا أحد جبل يحبنا ونحبه |
صحيح البخاري |
1872
| أقبلنا مع النبي من تبوك حتى أشرفنا على المدينة فقال هذه طابة |
صحيح مسلم |
3371
| هذه طابة وهذا أحد وهو جبل يحبنا ونحبه |
صحيح مسلم |
5948
| ستهب عليكم الليلة ريح شديدة فلا يقم فيها أحد منكم فمن كان له بعير فليشد عقاله فهبت ريح شديدة فقام رجل فحملته الريح حتى ألقته بجبلي طيئ وجاء رسول ابن العلماء صاحب أيلة إلى رسول الله بكتاب وأهدى له بغلة بيضاء فكتب إليه رسول الله وأهدى له بردا ثم أقبلنا حتى |
سنن أبي داود |
3079
| اخرصوا فخرص رسول الله عشرة أوسق فقال للمرأة أحصي ما يخرج منها فأتينا تبوك فأهدى ملك أيلة إلى رسول الله بغلة بيضاء وكساه بردة وكتب له يعني ببحره قال فلما أتينا وادي القرى قال للمرأة كم كان في حديقتك قالت عشرة أوسق خرص رسول الله فقال رسول الله إني متعجل إلى |
صحيح البخاري |
1481
| اما إنها ستهب الليلة ريح شديدة فلا يقومن احد |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4422 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4422
حدیث حاشیہ:
طابہ، مدینہ طیبہ کا نام ہے اور اُحد پہاڑ کا محبت کرنا مبنی برحقیقت ہے۔
اللہ تعالیٰ کائنات کی ہرچیز میں قوتِ ادراک اور احساس پیدا کرنے پر قادر ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
”کائنات کی ہر چیز اللہ کی تسبیح کرتی ہے لیکن تم اس کی تسبیح نہیں سمجھتے۔
“ (بنی إسرائیل: 44: 17)
چونکہ اس حدیث میں غزوہ تبوک کا ذکر ہے، اس لیے امام بخاری ؒ نے اسے ذکر کیا ہے۔
واللہ المستعان۔
طابہ، مدینہ طیبہ کا نام ہے اور اُحد پہاڑ کا محبت کرنا مبنی برحقیقت ہے۔
اللہ تعالیٰ کائنات کی ہرچیز میں قوتِ ادراک اور احساس پیدا کرنے پر قادر ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
”کائنات کی ہر چیز اللہ کی تسبیح کرتی ہے لیکن تم اس کی تسبیح نہیں سمجھتے۔
“ (بنی إسرائیل: 44: 17)
چونکہ اس حدیث میں غزوہ تبوک کا ذکر ہے، اس لیے امام بخاری ؒ نے اسے ذکر کیا ہے۔
واللہ المستعان۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4422]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ غلام مصطفٰے ظهير امن پوري حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري 1481
اللہ تعالیٰ نے بعض واقعات سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلے ہی باخبر کر دیا
«. . . قَالَ: أَمَا إِنَّهَا سَتَهُبُّ اللَّيْلَةَ رِيحٌ شَدِيدَةٌ فَلَا يَقُومَنَّ أَحَدٌ، وَمَنْ كَانَ مَعَهُ بَعِيرٌ فَلْيَعْقِلْهُ، فَعَقَلْنَاهَا . . .»
”. . . آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آج رات بڑے زور کی آندھی چلے گی اس لیے کوئی شخص کھڑا نہ رہے۔ اور جس کے پاس اونٹ ہوں تو وہ اسے باندھ دیں . . .“ [صحيح البخاري/كِتَاب الزَّكَاة: 1481]
«. . . قَالَ: أَمَا إِنَّهَا سَتَهُبُّ اللَّيْلَةَ رِيحٌ شَدِيدَةٌ فَلَا يَقُومَنَّ أَحَدٌ، وَمَنْ كَانَ مَعَهُ بَعِيرٌ فَلْيَعْقِلْهُ، فَعَقَلْنَاهَا . . .»
”. . . آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آج رات بڑے زور کی آندھی چلے گی اس لیے کوئی شخص کھڑا نہ رہے۔ اور جس کے پاس اونٹ ہوں تو وہ اسے باندھ دیں . . .“ [صحيح البخاري/كِتَاب الزَّكَاة: 1481]
فقہ الحدیث:
غزوہ تبوک کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو یہ فرمایا:
«اما إنها ستهب الليلة ريح شديدة فلا يقومن احد، ومن كان معه بعير فليعقله»
”آج رات بڑے زور کی آندھی چلے گی اس لیے کوئی شخص کھڑا نہ رہے۔ اور جس کے پاس اونٹ ہوں تو وہ اسے باندھ دیں۔“
↰ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی وحی سے فرمایا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلے ہی باخبر کر دیا تھا۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو آندھی آنے سے قبل ہی اس کی خبر مل گئی تھی، لیکن کوئی بھی اس خبر ملنے کی بنا پر صحابہ کرام کو عالم الغیب ثابت نہیں کرتا، تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر ملنے پر عالم الغیب ثابت کرنا کیسے درست ہے؟حالانکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اور خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے فرامین میں جا بجا اس بات کی صراحت فرما دی ہے کہ علم غیب اللہ تعالیٰ ہی کا خاصہ ہے، اس کے سوا کوئی غیب نہیں جانتا!
غزوہ تبوک کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو یہ فرمایا:
«اما إنها ستهب الليلة ريح شديدة فلا يقومن احد، ومن كان معه بعير فليعقله»
”آج رات بڑے زور کی آندھی چلے گی اس لیے کوئی شخص کھڑا نہ رہے۔ اور جس کے پاس اونٹ ہوں تو وہ اسے باندھ دیں۔“
↰ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی وحی سے فرمایا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلے ہی باخبر کر دیا تھا۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو آندھی آنے سے قبل ہی اس کی خبر مل گئی تھی، لیکن کوئی بھی اس خبر ملنے کی بنا پر صحابہ کرام کو عالم الغیب ثابت نہیں کرتا، تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر ملنے پر عالم الغیب ثابت کرنا کیسے درست ہے؟حالانکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اور خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے فرامین میں جا بجا اس بات کی صراحت فرما دی ہے کہ علم غیب اللہ تعالیٰ ہی کا خاصہ ہے، اس کے سوا کوئی غیب نہیں جانتا!
[ماہنامہ السنہ جہلم، شمارہ 71، حدیث/صفحہ نمبر: 5]
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3079
بنجر زمینوں کو آباد کرنے کا بیان۔
ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تبوک (جہاد کے لیے) چلا، جب آپ وادی قری میں پہنچے تو وہاں ایک عورت کو اس کے باغ میں دیکھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے کہا: ”تخمینہ لگاؤ (کہ باغ میں کتنے پھل ہوں گے)“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس وسق ۱؎ کا تخمینہ لگایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت سے کہا: ”آپ اس سے جو پھل نکلے اس کو ناپ لینا“، پھر ہم تبوک آئے تو ایلہ ۲؎ کے بادشاہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سفید رنگ کا ایک خچر تحفہ میں بھیجا آپ نے اسے ایک چادر تحفہ میں دی اور اسے ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3079]
ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تبوک (جہاد کے لیے) چلا، جب آپ وادی قری میں پہنچے تو وہاں ایک عورت کو اس کے باغ میں دیکھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے کہا: ”تخمینہ لگاؤ (کہ باغ میں کتنے پھل ہوں گے)“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس وسق ۱؎ کا تخمینہ لگایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت سے کہا: ”آپ اس سے جو پھل نکلے اس کو ناپ لینا“، پھر ہم تبوک آئے تو ایلہ ۲؎ کے بادشاہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سفید رنگ کا ایک خچر تحفہ میں بھیجا آپ نے اسے ایک چادر تحفہ میں دی اور اسے ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3079]
فوائد ومسائل:
1۔
اس خاتون کا یہ باغ غالباً کسی بنجر زمین کو آباد کرکے ہی لگایا گیا تھا۔
جو اس کی ملکیت سمجھا گیا۔
اور یہ ایک قابل قدر کام ہے۔
حاکم ایلہ نے اطاعت قبول کرلی تھی۔
اس لئے آپ نے حاکم ایلہ کو اس کا علاقہ لکھ دیا اور یہ بھی کہ وہ جزیہ ادا کریں گے۔
2۔
پھل اترنے سے پہلے اس کا اندازہ لگانا جائز ہے۔
تا کہ اس کے مطابق عشر وغیرہ ادا کیا جا سکے۔
3۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اندازہ بالکل درست ثابت ہوا۔
جو کہ معجزہ ہے۔
دیگر عام اندازہ لگانے والوں کا اندازہ یقینا کم یا زیادہ ہوتا ہے۔
4۔
غیر مسلم کا ہدیہ قبول کرلینا جائز ہے۔
بشرط یہ کہ کوئی شرعی قباحت نہ ہو۔
5۔
سفر میں اپنا مقصد پورا کرلینے کے بعد گھر آنے میں جلدی کرنی چاہیے۔
1۔
اس خاتون کا یہ باغ غالباً کسی بنجر زمین کو آباد کرکے ہی لگایا گیا تھا۔
جو اس کی ملکیت سمجھا گیا۔
اور یہ ایک قابل قدر کام ہے۔
حاکم ایلہ نے اطاعت قبول کرلی تھی۔
اس لئے آپ نے حاکم ایلہ کو اس کا علاقہ لکھ دیا اور یہ بھی کہ وہ جزیہ ادا کریں گے۔
2۔
پھل اترنے سے پہلے اس کا اندازہ لگانا جائز ہے۔
تا کہ اس کے مطابق عشر وغیرہ ادا کیا جا سکے۔
3۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اندازہ بالکل درست ثابت ہوا۔
جو کہ معجزہ ہے۔
دیگر عام اندازہ لگانے والوں کا اندازہ یقینا کم یا زیادہ ہوتا ہے۔
4۔
غیر مسلم کا ہدیہ قبول کرلینا جائز ہے۔
بشرط یہ کہ کوئی شرعی قباحت نہ ہو۔
5۔
سفر میں اپنا مقصد پورا کرلینے کے بعد گھر آنے میں جلدی کرنی چاہیے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3079]
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5948
حضرت ابوحمید رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ تبوک کے لیے نکلے تو ہم وادی القریٰ میں ایک عورت کے باغیچے پر پہنچے، سورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”باغ کے پھل کا اندازہ لگاؤ۔“ ہم نے اس کا اندازہ لگایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا اندازہ دس وسق لگایا اور آپ نے فرمایا: ”اے عورت! اس کے پھل کویاد رکھنا، حتیٰ کہ ان شاء اللہ ہم تیرے پاس لوٹ آئیں۔“ ہم چل پڑے حتیٰ کہ تبوک پہنچ گئے تو رسول اللہ... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:5948]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
وادي القُري:
یہ ایک پرانا شہر ہے جو مدینہ اور شام کے درمیان واقع ہے۔
(2)
اُخرصوها:
(اس باغ کے)
پھل کا اندازہ لگاؤ،
کتنا ہو گا۔
فوائد ومسائل:
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر تبوک میں جن چیزوں کو نشاندہی فرمائی تھی،
ان کا ظہور اسی طرح ہوا،
چشمہ تبوک کا واقعہ پچھلی حدیث میں گزر چکا ہے،
اس حدیث میں،
باغ کی کھجوروں کی مقدار کا تذکرہ ہے اور اس بات کا کہ آپ نے ساتھیوں کی ہمدردی اور خیرخواہی کے پیش نظر،
ان پر شفقت کا اظہار کرتے ہوئے،
ان کو ایک احتیاطی تدبیر اختیار کرنے کا حکم دیا کہ رات کو سخت آندھی چلے گی،
اس لیے اس میں کوئی اکیلا آدمی نہ اٹھے اور اپنے اونٹوں کے زانو بند مضبوط طریقے سے باندھ لینا،
لیکن دو آدمی مجبوری کی بنا پر اس کی پابندی نہ کر سکے،
ایک قضائے حاجت کے لیے اٹھا تو اس کا اس اثنا میں گلہ گھونٹ دیا گیا،
دوسرا آدمی اپنے اونٹ کی تلاش میں نکلا تو آندھی نے اس کو بنوطی کے دو مشہور پہاڑوں میں پھینک دیا،
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”کیا میں نے تمہیں اکیلے نکلنے سے منع نہیں کیا تھا؟“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سے گلا گھٹنے والے کو تندرستی حاصل ہو گئی اور دوسرا جب آپ مدینہ واپس آ گئے تو آپ سے آ ملا اور آپ نے انصاری گھرانوں کی فضیلت ان کی اسلام لانے میں سبقت اور اعلاء کلمۃ اللہ کے لیے ان کی محنت و کوشش کی بنیاد پر بیان کی،
جو پہلے مسلمان ہوئے اور اسلامی خدمات میں پیش پیش رہے،
ان کو اول نمبر دیا،
اس بنیاد پر بعد والے مراتب بیان کیے۔
مفردات الحدیث:
(1)
وادي القُري:
یہ ایک پرانا شہر ہے جو مدینہ اور شام کے درمیان واقع ہے۔
(2)
اُخرصوها:
(اس باغ کے)
پھل کا اندازہ لگاؤ،
کتنا ہو گا۔
فوائد ومسائل:
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر تبوک میں جن چیزوں کو نشاندہی فرمائی تھی،
ان کا ظہور اسی طرح ہوا،
چشمہ تبوک کا واقعہ پچھلی حدیث میں گزر چکا ہے،
اس حدیث میں،
باغ کی کھجوروں کی مقدار کا تذکرہ ہے اور اس بات کا کہ آپ نے ساتھیوں کی ہمدردی اور خیرخواہی کے پیش نظر،
ان پر شفقت کا اظہار کرتے ہوئے،
ان کو ایک احتیاطی تدبیر اختیار کرنے کا حکم دیا کہ رات کو سخت آندھی چلے گی،
اس لیے اس میں کوئی اکیلا آدمی نہ اٹھے اور اپنے اونٹوں کے زانو بند مضبوط طریقے سے باندھ لینا،
لیکن دو آدمی مجبوری کی بنا پر اس کی پابندی نہ کر سکے،
ایک قضائے حاجت کے لیے اٹھا تو اس کا اس اثنا میں گلہ گھونٹ دیا گیا،
دوسرا آدمی اپنے اونٹ کی تلاش میں نکلا تو آندھی نے اس کو بنوطی کے دو مشہور پہاڑوں میں پھینک دیا،
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”کیا میں نے تمہیں اکیلے نکلنے سے منع نہیں کیا تھا؟“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سے گلا گھٹنے والے کو تندرستی حاصل ہو گئی اور دوسرا جب آپ مدینہ واپس آ گئے تو آپ سے آ ملا اور آپ نے انصاری گھرانوں کی فضیلت ان کی اسلام لانے میں سبقت اور اعلاء کلمۃ اللہ کے لیے ان کی محنت و کوشش کی بنیاد پر بیان کی،
جو پہلے مسلمان ہوئے اور اسلامی خدمات میں پیش پیش رہے،
ان کو اول نمبر دیا،
اس بنیاد پر بعد والے مراتب بیان کیے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5948]
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1872
1872. حضرت ابو حمید ساعدی ؓ سے روایت ہے انھوں نے کہا: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تبوک سے واپس مدینہ طیبہ کے قریب پہنچے تو آپ نے فرمایا:”یہ طابہ، یعنی پاک مقام ہے۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1872]
حدیث حاشیہ:
طاب اور طیب دونوں مدینۃ المنورہ کے نام ہیں جو لفظ طیب سے مشتق ہیں جس کے معنی پاکیزگی کے ہیں یعنی یہ شہر ہر لحاظ سے پاکیزہ ہے۔
یہ اسلام کا مرکز ہے، یہاں پیغمبر اسلام ہادی اعظم صلی اللہ علیہ وسلم آرام فرما رہے ہیں۔
حکومت سعودیہ عربیہ أیدها اللہ تعالیٰ نے اس شہر کی صفائی و ستھرائی پاکیزگی آبادکاری میں وہ خدمت انجام دی ہیں جو رہتی دنیا تک یادگار عالم رہیں گے۔
طاب اور طیب دونوں مدینۃ المنورہ کے نام ہیں جو لفظ طیب سے مشتق ہیں جس کے معنی پاکیزگی کے ہیں یعنی یہ شہر ہر لحاظ سے پاکیزہ ہے۔
یہ اسلام کا مرکز ہے، یہاں پیغمبر اسلام ہادی اعظم صلی اللہ علیہ وسلم آرام فرما رہے ہیں۔
حکومت سعودیہ عربیہ أیدها اللہ تعالیٰ نے اس شہر کی صفائی و ستھرائی پاکیزگی آبادکاری میں وہ خدمت انجام دی ہیں جو رہتی دنیا تک یادگار عالم رہیں گے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1872]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1872
1872. حضرت ابو حمید ساعدی ؓ سے روایت ہے انھوں نے کہا: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تبوک سے واپس مدینہ طیبہ کے قریب پہنچے تو آپ نے فرمایا:”یہ طابہ، یعنی پاک مقام ہے۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1872]
حدیث حاشیہ:
(1)
مدینہ طیبہ کے کئی ایک نام ہیں جو اس کے شرف و منزلت پر دلالت کرتے ہیں:
طابہ اور طیبہ، ان کا اشتقاق ایک ہی ہے کیونکہ اسے شرک و بدعت سے پاک قرار دیا گیا اور اس کی فضا اور آب و ہوا کو خوشگوار بنا دیا گیا ہے۔
اس کے چند ایک نام حسب ذیل ہیں:
٭المدينه٭المطيبه٭المسكينه٭الدار٭مجبورة٭منيرة٭مجبة٭محبوبة ٭قاصمه٭الإيمان۔
(فتح الباري: 115/4)
دیگر کتب تاریخ میں ان کے علاوہ بہت سے نام بیان کیے گئے ہیں۔
(2)
بعض علماء نے یہ وجہ بیان کی ہے کہ مدینہ طیبہ میں رہنے والا اس کی مٹی اور دیواروں سے پاکیزہ خوشبو پاتا ہے۔
ہمارے نزدیک اس کی پاکیزگی یہ ہے کہ مسجد نبوی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر اور منبر کے درمیانی خطے کو جنت کی کیاری قرار دیا گیا ہے، اس سے بڑھ کر اور خوشگواری کیا ہو سکتی ہے؟ (عمدةالقاري: 578/7)
(1)
مدینہ طیبہ کے کئی ایک نام ہیں جو اس کے شرف و منزلت پر دلالت کرتے ہیں:
طابہ اور طیبہ، ان کا اشتقاق ایک ہی ہے کیونکہ اسے شرک و بدعت سے پاک قرار دیا گیا اور اس کی فضا اور آب و ہوا کو خوشگوار بنا دیا گیا ہے۔
اس کے چند ایک نام حسب ذیل ہیں:
٭المدينه٭المطيبه٭المسكينه٭الدار٭مجبورة٭منيرة٭مجبة٭محبوبة ٭قاصمه٭الإيمان۔
(فتح الباري: 115/4)
دیگر کتب تاریخ میں ان کے علاوہ بہت سے نام بیان کیے گئے ہیں۔
(2)
بعض علماء نے یہ وجہ بیان کی ہے کہ مدینہ طیبہ میں رہنے والا اس کی مٹی اور دیواروں سے پاکیزہ خوشبو پاتا ہے۔
ہمارے نزدیک اس کی پاکیزگی یہ ہے کہ مسجد نبوی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر اور منبر کے درمیانی خطے کو جنت کی کیاری قرار دیا گیا ہے، اس سے بڑھ کر اور خوشگواری کیا ہو سکتی ہے؟ (عمدةالقاري: 578/7)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1872]
Sahih Bukhari Hadith 4422 in Urdu
العباس بن سهل الأنصاري ← عبد الرحمن بن سعد الساعدي