🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
84. بَابُ مَرَضِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَفَاتِهِ:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4447
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيُّ، وَكَانَ كَعْبُ بْنُ مَالِكٍ أَحَدَ الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ تِيبَ عَلَيْهِمْ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ: أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، خَرَجَ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجَعِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ، فَقَالَ النَّاسُ: يَا أَبَا حَسَنٍ، كَيْفَ أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟" فَقَالَ: أَصْبَحَ بِحَمْدِ اللَّهِ بَارِئًا، فَأَخَذَ بِيَدِهِ عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَقَالَ لَهُ: أَنْتَ وَاللَّهِ بَعْدَ ثَلَاثٍ عَبْدُ الْعَصَا، وَإِنِّي وَاللَّهِ لَأَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَوْفَ يُتَوَفَّى مِنْ وَجَعِهِ هَذَا، إِنِّي لَأَعْرِفُ وُجُوهَ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عِنْدَ الْمَوْتِ، اذْهَبْ بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلْنَسْأَلْهُ فِيمَنْ هَذَا الْأَمْرُ؟ إِنْ كَانَ فِينَا عَلِمْنَا ذَلِكَ، وَإِنْ كَانَ فِي غَيْرِنَا عَلِمْنَاهُ، فَأَوْصَى بِنَا، فَقَالَ عَلِيٌّ:" إِنَّا وَاللَّهِ لَئِنْ سَأَلْنَاهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَنَعَنَاهَا لَا يُعْطِينَاهَا النَّاسُ بَعْدَهُ، وَإِنِّي وَاللَّهِ لَا أَسْأَلُهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
مجھ سے اسحاق بن راہویہ نے بیان کیا، کہا ہم کو بشر بن شعیب بن ابی حمزہ نے خبر دی، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، انہیں عبداللہ بن کعب بن مالک انصاری نے خبر دی اور کعب بن مالک رضی اللہ عنہ ان تین صحابہ میں سے ایک تھے جن کی (غزوہ تبوک میں شرکت نہ کرنے کی) توبہ قبول ہوئی تھی۔ انہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے باہر آئے۔ یہ اس مرض کا واقعہ ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی تھی۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے آپ سے پوچھا: ابوالحسن! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا آج مزاج کیا ہے؟ صبح انہوں نے بتایا کہ الحمدللہ اب آپ کو افاقہ ہے۔ پھر عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کے کہا کہ تم، اللہ کی قسم تین دن کے بعد زندگی گزارنے پر تم مجبور ہو جاؤ گے۔ اللہ کی قسم، مجھے تو ایسے آثار نظر آ رہے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس مرض سے صحت نہیں پا سکیں گے۔ موت کے وقت بنو عبدالمطلب کے چہروں کی مجھے خوب شناخت ہے۔ اب ہمیں آپ کے پاس چلنا چاہئیے اور آپ سے پوچھنا چاہئیے کہ ہمارے بعد خلافت کسے ملے گی۔ اگر ہم اس کے مستحق ہیں تو ہمیں معلوم ہو جائے گا اور اگر کوئی دوسرا مستحق ہو گا تو وہ بھی معلوم ہو جائے گا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے متعلق اپنے خلیفہ کو ممکن ہے کچھ وصیتیں کر دیں لیکن علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ کی قسم! اگر ہم نے اس وقت آپ سے اس کے متعلق کچھ پوچھا اور آپ نے انکار کر دیا تو پھر لوگ ہمیں ہمیشہ کے لیے اس سے محروم کر دیں گے۔ میں تو ہرگز آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق کچھ نہیں پوچھوں گا۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4447]
حضرت کعب بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، اور حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ ان تین بزرگوں میں سے ایک ہیں جن کی توبہ قبول کی گئی تھی، انہوں نے کہا کہ مجھے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا کہ ایک دن حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے باہر آئے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مرضِ وفات میں مبتلا تھے۔ لوگوں نے پوچھا: ”اے ابوالحسن! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اب کیسے ہیں؟“ انہوں نے کہا: ” «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”اللہ کا شکر ہے،“ اب اچھے ہیں۔“ حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے ان کا ہاتھ پکڑا اور کہا: ” «وَاللّٰهِ» ”اللہ کی قسم!“ تم تین (دن) کے بعد محکوم اور لاٹھی کے غلام بن جاؤ گے کیونکہ «وَاللّٰهِ» ”اللہ کی قسم!“ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں کہ عنقریب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس مرض سے وفات پا جائیں گے۔ میں بنو مطلب کے چہرے ان کی موت کے وقت پہچانتا ہوں۔ آؤ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر اس امر کے متعلق دریافت کریں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کون آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خلیفہ ہو گا؟ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم لوگوں کو خلافت دی تو معلوم ہو جائے گا اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی دوسرے کو خلافت سونپی تو بھی معلوم ہو جائے گا اور تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے متعلق حسنِ سلوک کی اسے وصیت فرمائیں گے۔“ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: ” «وَاللّٰهِ» ”اللہ کی قسم!“ اگر ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس امر سے متعلق دریافت کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں محروم فرما دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد لوگ ہمیں کبھی خلیفہ نامزد نہیں کریں گے۔ «وَاللّٰهِ» ”اللہ کی قسم!“ میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خلافت کے متعلق سوال نہیں کروں گا۔“ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4447]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تخریج وتحقیقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
الجامع الكامل حدیث نمبر :
9325

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥علي بن أبي طالب الهاشمي، أبو الحسن، أبو الحسينصحابي
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباس
Newعبد الله بن العباس القرشي ← علي بن أبي طالب الهاشمي
صحابي
👤←👥عبد الله بن كعب الأنصاري، أبو فضالة، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن كعب الأنصاري ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← عبد الله بن كعب الأنصاري
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥شعيب بن أبي حمزة الأموي، أبو بشر
Newشعيب بن أبي حمزة الأموي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة حافظ متقن
👤←👥بشر بن شعيب القرشي، أبو القاسم
Newبشر بن شعيب القرشي ← شعيب بن أبي حمزة الأموي
ثقة
👤←👥إسحاق بن راهويه المروزي، أبو يعقوب
Newإسحاق بن راهويه المروزي ← بشر بن شعيب القرشي
ثقة حافظ إمام
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4447 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4447
حدیث حاشیہ:
حضرت علی ؓ کی کمال دانائی تھی جو انہوں نے یہ خیال ظاہر فرمایا جس سے کئی فتنون کا دروازہ بند ہوگیا، رضي اللہ عنه۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4447]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4447
حدیث حاشیہ:
1۔
(عَبدُالعَصَا)
کے معنی ہیں لاٹھی کا بندہ یعنی مسافر کیونکہ مسافر ہاتھ میں لاٹھی رکھتا ہے، اس کی حمایت کرنے والا اور کوئی نہیں ہوتا۔
حضرت عباس ؓ کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کی حمایت کرنے والا کوئی نہیں ہو گا، اس لیے خلافت کا فیصلہ آپ کی زندگی میں ہو جانا چاہیے۔
2۔
مرض میں ایک ایک چیز سنبھالنے کی ہوتی ہے۔
چونکہ حضرت علی ؓ ناتجربہ کار تھے اس لیے انھیں اس بات کا ادراک نہ ہوا جبکہ حضرت عباس ؓ تجربہ کار تھے انھیں اس امر کا احساس ہو گیا۔
یہ حضرت عباس ؓ کی فراست تھی۔
3۔
اس حدیث کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت علی ؓ کے دل میں خلافت کی تمنا موجود تھی چنانچہ بعض روایات میں ہے کہ حضرت علی ؓ نے کہا:
کیا ہمارے بغیر بھی کوئی اس خلافت کی طمع رکھتا ہے۔
حضرت عباس ؓ نے کہا میرا بھی یہی گمان ہے۔
ابن سعد کی روایت میں ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی تو حضرت عباس ؓ نے حضرت علی ؓ سے کہا:
ہاتھ پھیلاؤ تاکہ میں تمھاری بیعت کروں۔
پھر دوسرے لوگ بھی بیعت کر لیں گے۔
لیکن حضرت علی ؓ نے ایسا نہ کیا، اس کے بعد حضرت علی ؓ کہا کرتے تھے کاش! میں حضرت عباس ؓ کی بات مان لیتا۔
(الطبقات الکبری لابن سعد: 28/4)
4۔
شیعہ حضرات کہتے ہیں کہ حضرت علی ؓ وصی رسول ہیں۔
یعنی آپ نے ان کے لیے خلافت کی وصیت کی تھی۔
اگر یہ مفروضہ صحیح ہے تو انھیں یہ کہنے کی کیا ضرورت تھی کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں محروم کر دیا تو آپ کے بعد لوگ ہیں کبھی خلیفہ نہیں بنائیں گے۔
بہر حال شیعہ حضرات کی وصیت والی بات لغو اور من گھڑت ہے۔
(فتح الباري: 179/8)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4447]

Sahih Bukhari Hadith 4447 in Urdu