علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
84. باب مرض النبى صلى الله عليه وسلم ووفاته:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا بیان۔
حدیث نمبر: 4446
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ الْهَادِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" مَاتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّهُ لَبَيْنَ حَاقِنَتِي وَذَاقِنَتِي، فَلَا أَكْرَهُ شِدَّةَ الْمَوْتِ لِأَحَدٍ أَبَدًا بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے یزید بن الہاد نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے، ان سے ان کے والد قاسم بن محمد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو آپ میری ہنسلی اور ٹھوڑی کے درمیان (سر رکھے ہوئے) تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم (کی شدت سکرات) دیکھنے کے بعد اب میں کسی کے لیے بھی نزع کی شدت کو برا نہیں سمجھتی۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4446]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله | صحابي | |
👤←👥القاسم بن محمد التيمي، أبو محمد، أبو عبد الرحمن القاسم بن محمد التيمي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق | ثقة أفضل أهل زمانه | |
👤←👥عبد الرحمن بن القاسم التيمي، أبو محمد عبد الرحمن بن القاسم التيمي ← القاسم بن محمد التيمي | ثقة ثقة | |
👤←👥يزيد بن الهاد الليثي، أبو عبد الله يزيد بن الهاد الليثي ← عبد الرحمن بن القاسم التيمي | ثقة مكثر | |
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث الليث بن سعد الفهمي ← يزيد بن الهاد الليثي | ثقة ثبت فقيه إمام مشهور | |
👤←👥عبد الله بن يوسف الكلاعي، أبو محمد عبد الله بن يوسف الكلاعي ← الليث بن سعد الفهمي | ثقة متقن من أثبت الناس في الموطأ |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
4446
| مات النبي وإنه لبين حاقنتي وذاقنتي فلا أكره شدة الموت لأحد أبدا بعد النبي |
صحيح البخاري |
3100
| توفي النبي في بيتي وفي نوبتي وبين سحري ونحري جمع الله بين ريقي وريقه قالت دخل عبد الرحمن بسواك فضعف النبي عنه فأخذته فمضغته ثم سننته به |
سنن النسائى الصغرى |
1831
| مات رسول الله وإنه لبين حاقنتي وذاقنتي فلا أكره شدة الموت لأحد أبدا بعد ما رأيت رسول الله |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4446 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4446
حدیث حاشیہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر موت بہت سخت واقع ہوئی چنانچہ حدیث میں ہے کہ آپ کے پاس ایک برتن میں پانی موجود تھا آپ بار بار اس میں ہاتھ ڈالتے اور پانی لے کر اسے بار بار اپنے منہ پر پھیرتے۔
"لااله الااللہ موت میں بڑی سختیاں ہیں۔
" نیز آپ ان الفاظ میں دعا کرتے۔
”اے اللہ! موت کی سختیوں پر میری مدد فرما۔
“ اور موت کی سختیاں برداشت کرنے پر آپ کو اللہ کی طرف سے کئی گنا اجر دیا جائے گا، چنانچہ حدیث میں ہے کہ انبیاء ؑ کے گروہ کے لیے سختیاں اور آزمائشیں بہت ہیں اس لیے ہمارے اجرو ثواب میں بھی کئی گنا اضافہ ہو گا۔
(فتح الباري: 176/8)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر موت بہت سخت واقع ہوئی چنانچہ حدیث میں ہے کہ آپ کے پاس ایک برتن میں پانی موجود تھا آپ بار بار اس میں ہاتھ ڈالتے اور پانی لے کر اسے بار بار اپنے منہ پر پھیرتے۔
"لااله الااللہ موت میں بڑی سختیاں ہیں۔
" نیز آپ ان الفاظ میں دعا کرتے۔
”اے اللہ! موت کی سختیوں پر میری مدد فرما۔
“ اور موت کی سختیاں برداشت کرنے پر آپ کو اللہ کی طرف سے کئی گنا اجر دیا جائے گا، چنانچہ حدیث میں ہے کہ انبیاء ؑ کے گروہ کے لیے سختیاں اور آزمائشیں بہت ہیں اس لیے ہمارے اجرو ثواب میں بھی کئی گنا اضافہ ہو گا۔
(فتح الباري: 176/8)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4446]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1831
موت کی شدت۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی، تو اس وقت آپ کا سر مبارک میری ہنسلی اور ٹھوڑی کے درمیان تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے کے بعد کبھی کسی کی موت کی سختی مجھے ناگوار نہیں لگتی ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1831]
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی، تو اس وقت آپ کا سر مبارک میری ہنسلی اور ٹھوڑی کے درمیان تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے کے بعد کبھی کسی کی موت کی سختی مجھے ناگوار نہیں لگتی ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1831]
1831۔ اردو حاشیہ: موت بذات خود سب سے زیادہ تکلیف دہ چیز ہے۔ اس کے مقابلے میں دیگر تکالیف ہیچ ہیں۔ مومن کی اس تکلیف کا بھی ثواب ملتا ہے اور اس سے گناہ معاف ہوتے ہیں، لہٰذا اس کے لیے موت کی سختی رحمت بن جاتی ہے جبکہ وہ کافر و منافق کے لیے عذاب ہے، لہٰذا موت کی سختی یا نرمی کسی کے ایمان و کفر یا نفاق و فسق کی نشانی نہیں، موت کی سختی یا تکلیف صرف متعلقہ شخص ہی جانتا ہے، دیکھنے والا صحیح اندازہ نہیں لگا سکتا۔ جب موت کا عمل (فرشتوں والا) شروع ہو جاتا ہے تو پھر اس شخص کو ہوش نہیں رہتاکہ وہ موت کی سختی بیان کر سکے۔ (استغفراللہ)
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1831]
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3100
3100. حضرت عائشہ ؓ ہی سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات میرے گھر میں ہوئی اور میری باری کے دن ہوئی جبکہ آپ کا سر مبارک میری گردن اور میرے سینے کے درمیان تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس آخری وقت میں میرے اور آپ کے تھوک مبارک کو جمع فرمادیا۔ وہ اس طرح کہ عبدالرحمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسواک لے کر حاضر ہوئے چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے استعمال سے کمزور تھے تو میں نے مسواک کو پکڑا اور اسے چبایا پھر آپ کو مسواک کرائی۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3100]
حدیث حاشیہ:
وفات نبوی کے بعد کچھ لوگوں نے یہ وہم پھیلانا چاہا کہ رسو ل کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی وفات کے وقت حضرت علی ؓ کو اپنا وصی قرار دے کر گئے ہیں۔
یہ بات حضرت عائشہ ؓ نے بھی سنی‘ اس پر آپ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری ایام پورے طور پر میرے حجرے میں گزرے۔
ان ایام میں ایک لمحہ بھی میں نے آپ کو تنہا نہیں چھوڑا۔
وفات کے وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سرمبارک میرے سینے پر رکھے ہوئے تھے۔
ان حالات میں میں نہیں سمجھ سکتی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی ؓ کو کب اپنا وصی قرار دے دیا۔
وفات نبوی کے بعد کچھ لوگوں نے یہ وہم پھیلانا چاہا کہ رسو ل کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی وفات کے وقت حضرت علی ؓ کو اپنا وصی قرار دے کر گئے ہیں۔
یہ بات حضرت عائشہ ؓ نے بھی سنی‘ اس پر آپ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری ایام پورے طور پر میرے حجرے میں گزرے۔
ان ایام میں ایک لمحہ بھی میں نے آپ کو تنہا نہیں چھوڑا۔
وفات کے وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سرمبارک میرے سینے پر رکھے ہوئے تھے۔
ان حالات میں میں نہیں سمجھ سکتی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی ؓ کو کب اپنا وصی قرار دے دیا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3100]
Sahih Bukhari Hadith 4446 in Urdu
القاسم بن محمد التيمي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق