صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
84. باب مرض النبى صلى الله عليه وسلم ووفاته:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا بیان۔
حدیث نمبر: 4456
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ،عَنْ عَائِشَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ:" أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَبَّلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ مَوْتِهِ".
مجھ سے عبداللہ بن ابی شیبہ نے بیان کیا کہا ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، ان سے سفیان بن عیینہ نے، ان سے موسیٰ بن ابی عائشہ نے، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ کو بوسہ دیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4456]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بوسہ دیا۔“ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4456]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباس | صحابي | |
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله عائشة بنت أبي بكر الصديق ← عبد الله بن العباس القرشي | صحابي | |
👤←👥عبيد الله بن عبد الله الهذلي، أبو عبد الله عبيد الله بن عبد الله الهذلي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق | ثقة فقيه ثبت | |
👤←👥موسى بن أبي عائشة الهمداني، أبو الحسن، أبو بكر موسى بن أبي عائشة الهمداني ← عبيد الله بن عبد الله الهذلي | ثقة يرسل | |
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله سفيان الثوري ← موسى بن أبي عائشة الهمداني | ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس | |
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد يحيى بن سعيد القطان ← سفيان الثوري | ثقة متقن حافظ إمام قدوة | |
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر ابن أبي شيبة العبسي ← يحيى بن سعيد القطان | ثقة حافظ صاحب تصانيف |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4456 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4456
حدیث حاشیہ:
1۔
حضرت ابو بکر ؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی پر اپنا منہ رکھا اور بوسہ دیا، پھر روتے ہوئے کہا:
میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! آپ تو حیات و ممات میں پاکیزہ ہیں۔
2۔
ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابو بکر ؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کو چھوا تو لوگوں نے عرض کی:
اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی!کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا چکے ہیں؟ حضرت ابو بکر ؓ نے فرمایا:
جی ہاں آپ وفات پا چکے ہیں۔
(مجمع الزوائد: 217/5۔
وفتح الباري: 184/8)
1۔
حضرت ابو بکر ؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی پر اپنا منہ رکھا اور بوسہ دیا، پھر روتے ہوئے کہا:
میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! آپ تو حیات و ممات میں پاکیزہ ہیں۔
2۔
ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابو بکر ؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کو چھوا تو لوگوں نے عرض کی:
اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی!کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا چکے ہیں؟ حضرت ابو بکر ؓ نے فرمایا:
جی ہاں آپ وفات پا چکے ہیں۔
(مجمع الزوائد: 217/5۔
وفتح الباري: 184/8)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4456]
Sahih Bukhari Hadith 4456 in Urdu
عائشة بنت أبي بكر الصديق ← عبد الله بن العباس القرشي