صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. بَابُ: {إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلاً أُولَئِكَ لاَ خَلاَقَ لَهُمْ} لاَ خَيْرَ:
باب: آیت کی تفسیر ”بیشک جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالتے ہیں، یہ وہی لوگ ہیں جن کے لیے آخرت میں کوئی بھلائی نہیں ہے اور ان کو دکھ کا عذاب ہو گا“۔
حدیث نمبر: Q4549
أَلِيمٌ مُؤْلِمٌ مُوجِعٌ مِنَ الْأَلَمِ وَهْوَ فِي مَوْضِعِ مُفْعِلٍ.
«أليم» کے معنی دکھ دینے والا جیسے «مؤلم» ہے۔ «أليم» بروزن «فعيل» بمعنی «مفعل» ہے (جو کلام عرب میں کم آیا ہے۔) [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: Q4549]
تخریج وتحقیقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
الجامع الكامل حدیث نمبر :
12075
الجامع الكامل حدیث نمبر :
12075
حدیث نمبر: 4549
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ حَلَفَ يَمِينَ صَبْرٍ لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَقِيَ اللَّهَ وَهْوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَصْدِيقَ ذَلِكَ إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلا أُولَئِكَ لا خَلاقَ لَهُمْ فِي الآخِرَةِ سورة آل عمران آية 77 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، قَالَ: فَدَخَلَ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ، وَقَالَ: مَا يُحَدِّثُكُمْ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟ قُلْنَا: كَذَا وَكَذَا، قَالَ: فِيَّ أُنْزِلَتْ، كَانَتْ لِي بِئْرٌ فِي أَرْضِ ابْنِ عَمٍّ لِي، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَيِّنَتُكَ أَوْ يَمِينُهُ"، فَقُلْتُ: إِذًا يَحْلِفَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينِ صَبْرٍ يَقْتَطِعُ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ وَهْوَ فِيهَا فَاجِرٌ لَقِيَ اللَّهَ وَهْوَ عَلَيْهِ غَضْبَانٌ".
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابووائل نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے اس لیے قسم کھائی کہ کسی مسلمان کا مال (جھوٹ بول کر وہ) مار لے تو جب وہ اللہ سے ملے گا، اللہ تعالیٰ اس پر نہایت ہی غصہ ہو گا، پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کے اس فرمان کی تصدیق میں یہ آیت نازل کی «إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا أولئك لا خلاق لهم في الآخرة» ”بیشک جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر بیچتے ہیں، یہ وہی لوگ ہیں جن کے لیے آخرت میں کوئی بھلائی نہیں ہے۔“ آخر آیت تک۔ ابووائل نے بیان کیا کہ اشعث بن قیس کندی رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور پوچھا: ابوعبدالرحمٰن (عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) نے آپ لوگوں سے کوئی حدیث بیان کی ہے؟ ہم نے بتایا کہ ہاں، اس اس طرح سے حدیث بیان کی ہے۔ اشعث رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا کہ یہ آیت تو میرے ہی بارے میں نازل ہوئی تھی۔ میرے ایک چچا کے بیٹے کی زمین میں میرا ایک کنواں تھا (ہم دونوں کا اس بارے میں جھگڑا ہوا اور مقدمہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش ہوا تو) آپ نے مجھ سے فرمایا کہ تو گواہ پیش کر یا پھر اس کی قسم پر فیصلہ ہو گا۔ میں نے کہا پھر تو یا رسول اللہ وہ (جھوٹی) قسم کھا لے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص جھوٹی قسم اس لیے کھائے کہ اس کے ذریعہ کسی مسلمان کا مال لے اور اس کی نیت بری ہو تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حالت میں ملے گا کہ اللہ اس پر نہایت ہی غضبناک ہو گا۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4549]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے مال روک دینے والی قسم اٹھائی تاکہ اس کے ذریعے سے کسی مسلمان کا مال کاٹ لے تو اللہ کے ساتھ اس کی ملاقات بایں حالت ہو گی کہ اللہ تعالیٰ اس پر انتہائی ناراض ہو گا۔“ پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی تصدیق میں یہ آیت نازل فرمائی: ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا أُولَٰئِكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ﴾ [سورة آل عمران: 77] ”بے شک وہ لوگ جو اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی سی قیمت کے عوض بیچ ڈالتے ہیں تو ایسے لوگوں کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں“ آخر تک۔ ابو وائل کہتے ہیں کہ اس دوران میں حضرت اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور کہنے لگے: ”تمہیں ابو عبدالرحمن کیا سنا رہے تھے؟“ ہم نے کہا: ”انہوں نے ایسا ایسا بیان کیا ہے۔“ حضرت اشعث رضی اللہ عنہ نے کہا: ”یہ آیت تو میرے متعلق نازل ہوئی تھی۔ میرے چچا کے بیٹے کی زمین میں میرا کنواں تھا (جس کا اس نے انکار کر دیا)۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گواہ لاؤ یا پھر اس سے قسم لی جائے گی۔“ میں نے عرض کی: ”اللہ کے رسول! وہ تو قسم اٹھا لے گا۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی مسلمان کا مال مار لینے کی نیت سے خواہ مخواہ جھوٹی قسم اٹھائے تو جب وہ اللہ سے ملاقات کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس پر سخت غضبناک ہو گا۔“ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4549]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
تخریج وتحقیقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
الجامع الكامل حدیث نمبر :
12075
الجامع الكامل حدیث نمبر :
12075
الرواة الحديث:
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4549 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4549
حدیث حاشیہ:
ایک روایت میں یوں ہے کہ اشعثؓ اور ایک یہودی میں زمین کی تکرارتھی۔
عبدا للہ بن ابی اوفیٰ ؓ نے کہا یہ آیت اس شخص کے بارے میں اتری، جس نے بازار میں ایک مال رکھ کر جھوٹی قسم کھا کر یہ بیان کیا کہ اس مال کا اس کو اتنا دام ملتا تھا لیکن اس نے نہیں دیا۔
آیت عام ہے، اب بھی اس کا حکم باقی ہے۔
کتنے لوگ جھوٹی قسمیں کھا کھا کر ناجائز پیسہ حاصل کرتے ہیں۔
کتنے لوگ جھوٹے مقدمات میں کامیابی حاصل کر لیتے ہیں۔
یہ سب اس آیت کے مصداق ہیں۔
ایک روایت میں یوں ہے کہ اشعثؓ اور ایک یہودی میں زمین کی تکرارتھی۔
عبدا للہ بن ابی اوفیٰ ؓ نے کہا یہ آیت اس شخص کے بارے میں اتری، جس نے بازار میں ایک مال رکھ کر جھوٹی قسم کھا کر یہ بیان کیا کہ اس مال کا اس کو اتنا دام ملتا تھا لیکن اس نے نہیں دیا۔
آیت عام ہے، اب بھی اس کا حکم باقی ہے۔
کتنے لوگ جھوٹی قسمیں کھا کھا کر ناجائز پیسہ حاصل کرتے ہیں۔
کتنے لوگ جھوٹے مقدمات میں کامیابی حاصل کر لیتے ہیں۔
یہ سب اس آیت کے مصداق ہیں۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4549]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4549
حدیث حاشیہ:
دین فروشی اور عہد شکنی قیامت کے دن محرومی کا باعث ہوگی۔
ایک دوسری حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"جس آدمی نے جھوٹی قسم کے ذریعے سے کسی مسلمان کا حق دبایا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے آگ واجب کردی اور اس پر جنت حرام کردی۔
" راوی نے عرض کی:
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !اگروہ چیز معمولی سی ہو؟ (تب بھی اس کے لیے آگ واجب ہوگی؟)
آپ نے فرمایا:
"ہاں! اگرچہ وہ درخت کی سبز ٹہنی ہی کیوں نہ ہو۔
" (صحیح مسلم، الإیمان، حدیث: 353(137)
بہرحال آیت کریمہ میں عہد شکنی پر پانچ وعیدیں مذکور ہیں۔
واللہ المستعان۔
دین فروشی اور عہد شکنی قیامت کے دن محرومی کا باعث ہوگی۔
ایک دوسری حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"جس آدمی نے جھوٹی قسم کے ذریعے سے کسی مسلمان کا حق دبایا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے آگ واجب کردی اور اس پر جنت حرام کردی۔
" راوی نے عرض کی:
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !اگروہ چیز معمولی سی ہو؟ (تب بھی اس کے لیے آگ واجب ہوگی؟)
آپ نے فرمایا:
"ہاں! اگرچہ وہ درخت کی سبز ٹہنی ہی کیوں نہ ہو۔
" (صحیح مسلم، الإیمان، حدیث: 353(137)
بہرحال آیت کریمہ میں عہد شکنی پر پانچ وعیدیں مذکور ہیں۔
واللہ المستعان۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4549]
Sahih Bukhari Hadith 4549 in Urdu
عبد الله بن مسعود ← أشعث بن قيس الكندي