🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. باب قوله: {فاذهب أنت وربك فقاتلا إنا هاهنا قاعدون} :
باب: آیت کی تفسیر ”سو آپ خود اور آپ کا رب جہاد کرنے چلے جاؤ اور آپ دونوں ہی لڑو بھڑو، ہم تو اس جگہ بیٹھے رہیں گے“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4609
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ مُخَارِقٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: شَهِدْتُ مِنَ الْمِقْدَادِ. ح وحَدَّثَنِي حَمْدَانُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ، حَدَّثَنَا الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُخَارِقٍ، عَنْ طَارِقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ الْمِقْدَادُ:" يَوْمَ بَدْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا لَا نَقُولُ لَكَ كَمَا قَالَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ لِمُوسَى، فَاذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلا إِنَّا هَهُنَا قَاعِدُونَ سورة المائدة آية 24، وَلَكِنْ امْضِ وَنَحْنُ مَعَكَ، فَكَأَنَّهُ سُرِّيَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَرَوَاهُ وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُخَارِقٍ، عَنْ طَارِقٍ، أَنَّ الْمِقْدَادَ قَالَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے مخارق نے، ان سے طارق بن شہاب نے اور انہوں نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کے قریب موجود تھا (دوسری سند) اور مجھ سے حمدان بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوالنضر (ہاشم بن قاسم) نے بیان کیا، کہا ہم سے عبیداللہ بن عبدالرحمٰن اشجعی نے بیان کیا، ان سے سفیان ثوری نے، ان سے مخارق بن عبداللہ نے، ان سے طارق بن شہاب نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جنگ بدر کے موقع پر مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ نے کہا تھا: یا رسول اللہ! ہم آپ سے وہ بات نہیں کہیں گے جو بنی اسرائیل نے موسیٰ علیہ السلام سے کہی تھی «فاذهب أنت وربك فقاتلا إنا ها هنا قاعدون‏» کہ آپ خود اور آپ کے خدا چلے جائیں اور آپ دونوں لڑ بھڑ لیں۔ ہم تو یہاں سے ٹلنے کے نہیں۔ نہیں! آپ چلئے، ہم آپ کے ساتھ جان دینے کو حاضر ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی اس بات سے خوشی ہوئی۔ اس حدیث کو وکیع نے بھی سفیان ثوری سے، انہوں نے مخارق سے، انہوں نے طارق سے روایت کیا ہے کہ مقداد رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ عرض کیا (جو اوپر بیان ہوا)۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4609]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥طارق بن شهاب البجلي، أبو عبد اللهله رؤية
👤←👥مخارق بن أبي المخارق، أبو سعيد
Newمخارق بن أبي المخارق ← طارق بن شهاب البجلي
ثقة
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← مخارق بن أبي المخارق
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان
Newوكيع بن الجراح الرؤاسي ← سفيان الثوري
ثقة حافظ إمام
👤←👥عبد الله بن مسعود، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن مسعود ← وكيع بن الجراح الرؤاسي
صحابي
👤←👥طارق بن شهاب البجلي، أبو عبد الله
Newطارق بن شهاب البجلي ← عبد الله بن مسعود
له رؤية
👤←👥مخارق بن أبي المخارق، أبو سعيد
Newمخارق بن أبي المخارق ← طارق بن شهاب البجلي
ثقة
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← مخارق بن أبي المخارق
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥عبيد الله بن عبيد الرحمن الأشجعي، أبو عبد الرحمن
Newعبيد الله بن عبيد الرحمن الأشجعي ← سفيان الثوري
ثقة مأمون
👤←👥هاشم بن القاسم الليثي، أبو النضر
Newهاشم بن القاسم الليثي ← عبيد الله بن عبيد الرحمن الأشجعي
ثقة ثبت
👤←👥حمدان بن عمر الوراق، أبو جعفر
Newحمدان بن عمر الوراق ← هاشم بن القاسم الليثي
صدوق حسن الحديث
👤←👥عبد الله بن مسعود، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن مسعود ← حمدان بن عمر الوراق
صحابي
👤←👥طارق بن شهاب البجلي، أبو عبد الله
Newطارق بن شهاب البجلي ← عبد الله بن مسعود
له رؤية
👤←👥مخارق بن أبي المخارق، أبو سعيد
Newمخارق بن أبي المخارق ← طارق بن شهاب البجلي
ثقة
👤←👥إسرائيل بن يونس السبيعي، أبو يوسف
Newإسرائيل بن يونس السبيعي ← مخارق بن أبي المخارق
ثقة
👤←👥الفضل بن دكين الملائي، أبو نعيم
Newالفضل بن دكين الملائي ← إسرائيل بن يونس السبيعي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
4609
لا نقول لك كما قالت بنو إسرائيل لموسى فاذهب أنت وربك فقاتلا إنا ههنا قاعدون
صحيح البخاري
3952
لا نقول كما قال قوم موسى اذهب أنت وربك فقاتلا
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4609 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4609
حدیث حاشیہ:

ایک روایت میں اس کی مزید تفصیل ہے حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں:
میں نے حضرت مقداد بن اسود ؓ سے ایک ایسی بات سنی ہے کہ اگر وہ بات میری زبان سے ادا ہوتی تو میرے لیے کسی بھی چیز کے مقابلے میں زیادہ عزیز ہوتی۔
وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے جبکہ اس وقت آپ مشرکین کے خلاف بد دعا کر رہے تھے انھوں نے عرض کی:
اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم وہ بات نہیں کہیں گے جو حضرت موسی ؑ کی قوم نے کہی تھی:
"جاؤ تم اور تمھارا رب ان سے جنگ کرو۔
" بلکہ ہم آپ کے دائیں بائیں آگے پیچھے ہو کر لڑیں گے۔
میں نے دیکھا کہ یہ بات سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہر انور چمکنے لگا اور آپ بہت خوش ہوئے۔
(صحیح البخاري، المغازي، حدیث: 3952)

دراصل ہوا یہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قریش کے ایک قافلے کی خبر سن کر مدینہ طیبہ سے نکلے تھے لیکن قافلہ تو بحفاظت نکل گیا البتہ کفار مکہ سے لڑائی ٹھن گئی جس میں کفار ایک جارح کی حیثیت سے تیار ہوکر آئے تھے۔
اس نازک مرحلے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین سے جنگ کے متعلق مشورہ کیا تو سب نے آپ کو تسلی دی اور جنگ پر آمادہ گی کا اظہار کیا انصار نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ اگر آپ برک الغماد نامی دور دراز جگہ تک ہمیں جنگ کے لیے لے جائیں گے تو بھی ہم آپ کے ساتھ چلنےاور جان و مال سے لڑنے کے لیے حاضرہیں۔

بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت سعد بن معاذ ؓ نے بھی وہی بات کہی جو حضرت مقداد ؓ نے کہی تھی ممکن ہے کہ حضرت سعد بن معاذ اور حضرت مقدادؓ دونوں نے ویسا کہا ہو۔
بہر حال اس سے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کی جاں نثاری اور وفاداری کا پتہ چلتا ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4609]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3952
3952. حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ میں نے حضرت مقداد بن اسود ؓ میں ایک ایسی بات دیکھی، اگر وہ بات مجھے حاصل ہوتی تو کسی نیکی کو اس کے برابر خیال نہ کرتا۔ ہوا یوں کہ حضرت مقداد بن اسود ؓ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے جبکہ آپ مشرکین پر بددعا کر رہے تھے۔ حضرت مقداد ؓ نے کہا: ہم ایسا نہیں کہیں گے جیسا حضرت موسٰی ؑ کی قوم نے ان سے کہا تھا: تو اور تیرا رب دونوں جاؤ اور وہاں دونوں لڑائی کرو۔ بلکہ ہم تو آپ کے دائیں بائیں اور آگے پیچھے لڑیں گے۔ حضرت ابن مسعود ؓ کا بیان ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ کا چہرہ خوشی سے چمک اٹھا تھا اور آپ ان پاکیزہ جذبات سے مسرور ہوئے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3952]
حدیث حاشیہ:
ہوایہ تھا کے بدر کے دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم قریش کے ایک قافلہ کی خبرسن کر مدینہ سے نکلے تھے۔
وہاں قافلہ تونکل گیا فوج سے لڑائی ٹھن گئی، جس میں خود کفار مکہ جارح کی حیثیت سے تیار ہوکر آئے تھے۔
اس نازک مرحلہ پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جملہ صحابہ سے جنگ کے متعلق نظریہ معلوم فرمایا۔
اس وقت جملہ مہاجرین وانصار نے آپ کو تسلی دی اوراپنی آمادگی کا اظہار کیا۔
انصارنے تو یہاں تک کہہ دیا کہ آپ اگر برک الغماد نامی دور دراز جگہ تک ہم کو جنگ کے لیے لے جائیں گے تو بھی ہم آپ کے ساتھ چلنے اور جان ودل سے لڑنے کو حاضر ہیں۔
اس پر آپ بے حد مسرور ہوئے۔
صلی اللہ علیہ وسلم
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3952]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3952
3952. حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ میں نے حضرت مقداد بن اسود ؓ میں ایک ایسی بات دیکھی، اگر وہ بات مجھے حاصل ہوتی تو کسی نیکی کو اس کے برابر خیال نہ کرتا۔ ہوا یوں کہ حضرت مقداد بن اسود ؓ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے جبکہ آپ مشرکین پر بددعا کر رہے تھے۔ حضرت مقداد ؓ نے کہا: ہم ایسا نہیں کہیں گے جیسا حضرت موسٰی ؑ کی قوم نے ان سے کہا تھا: تو اور تیرا رب دونوں جاؤ اور وہاں دونوں لڑائی کرو۔ بلکہ ہم تو آپ کے دائیں بائیں اور آگے پیچھے لڑیں گے۔ حضرت ابن مسعود ؓ کا بیان ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ کا چہرہ خوشی سے چمک اٹھا تھا اور آپ ان پاکیزہ جذبات سے مسرور ہوئے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3952]
حدیث حاشیہ:
ہوا یوں کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بدر کے دن ابوسفیان کا قافلہ لوٹنے کے لیے لوگوں کو ہمراہ لے کر مدینہ طیبہ سے نکلے تھے۔
وادی صفراء میں جا کر پتہ چلا کہ ابوسفیان اپنے قافلے کے ہمراہ محفوظ طریقے سے نکل چکا ہے اور قریش نے مقام بدر کا ارادہ کیا ہے اور وہ لڑائی کے لیے تیار ہیں۔
ایسے حالات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین سے مشورہ کیا۔
حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت عمر ؓ نے یکے بعد دیگرے آپ کو یقین دلایا، چونکہ یہ پہلی لڑائی تھی اورانصار سے معاہدہ نصرت وتحفظ کاتھا، وہ بھی مدینہ منورہ میں رہتے ہوئے۔
یہ نہیں تھا کہ وہ مدینے سے باہردشمنوں سے جنگ لڑیں گے، اس لیے آپ انصار کی طرف سے اظہار جذبات کے منتظر تھے۔
آپ نے فرمایا:
لوگو!مجھے مشورہ دو، اس سے مقصود انصار تھے اور یہ بات انصار کے کمانڈر حضت سعد بن معاذ ؓ نے بھانپ لی، چنانچہ انھوں نے عرض کی، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کا جو بھی ارادہ ہو آپ اس کے مطابق پیش قدمی کریں، اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے اگرآپ ہمیں ساتھ لے کر اس سمندر میں کودنا چاہیں تو ہم اس میں بھی آپ کے ساتھ کود پڑیں گے۔
ہمارا ایک آدمی بھی اس سے پیچھے نہیں رہے گا۔
حضرت سعد ؓ کی یہ بات سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور آپ پر نشاط طاری ہوئی۔
(فتح الباري: 359/7)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3952]

Sahih Bukhari Hadith 4609 in Urdu