🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. باب قوله: {لا يؤاخذكم الله باللغو فى أيمانكم} :
باب: آیت کی تفسیر ”اللہ تم سے تمہاری فضول قسموں پر پکڑ نہیں کرتا“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4613
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ سُعَيْرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا:" أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ لا يُؤَاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ سورة المائدة آية 89 فِي قَوْلِ الرَّجُلِ: لَا وَاللَّهِ، وَبَلَى وَاللَّهِ".
ہم سے علی بن سلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے مالک بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ آیت «لا يؤاخذكم الله باللغو في أيمانكم‏» اللہ تم سے تمہاری فضول قسموں پر پکڑ نہیں کرتا۔ کسی کے اس طرح قسم کھانے کے بارے میں نازل ہوئی تھی کہ نہیں، اللہ کی قسم، ہاں اللہ کی قسم!۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4613]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ درج ذیل آیت کریمہ ﴿لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ﴾ [سورة البقرة: 225] اللہ تعالیٰ تم سے تمہاری فضول قسموں پر مؤاخذہ نہیں کرے گا۔ کسی کے اس طرح قسم کھانے کے بارے میں نازل ہوئی تھی: «لَا وَاللَّهِ، وَبَلَى وَاللَّهِ» نہیں! اللہ کی قسم، ہاں! اللہ کی قسم۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4613]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة فقيه مشهور
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر
Newهشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي
ثقة إمام في الحديث
👤←👥مالك بن سعير التميمي، أبو محمد، أبو الأحوص
Newمالك بن سعير التميمي ← هشام بن عروة الأسدي
صدوق حسن الحديث
👤←👥علي بن سلمة القرشي، أبو الحسن
Newعلي بن سلمة القرشي ← مالك بن سعير التميمي
ثقة
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4613 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4613
حدیث حاشیہ:
جوقسم بلا کسی ارادہ کے زبان پر آجاتی ہے۔
امام شافعی اور اہلحدیث کا یہی قول ہے۔
امام ابو حنیفہ نے کہا ایک بات کا گمان غالب ہو اور پھر اس پر کوئی قسم کھالے تو یہ قسم لغو ہے۔
بعضوں نے کہا لغو قسم جو غصے میں یا بھول کر کھالی جائے۔
بعضوں نے کہا کھانے پینے لباس وغیرہ کے ترک پر جو قسم کھائی جائے وہ مراد ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4613]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4613
حدیث حاشیہ:

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جو قسم بطور عادت قصد و ارادہ کے بغیر انسان کی زبان سے نکل جائے وہ لغو ہے کیونکہ بعض اوقات انسان کو بچپن میں بات بات پر قسم کھانے کی عادت پڑجاتی ہے جس پر کنٹرول کرنا کچھ مشکل ہوتا ہے۔
چنانچہ ابراہیم نخعیؒ سے مروی ہے کہ بچپن میں ہمیں قسم اٹھا نے پر مار پڑتی تھی۔

اگر کوئی انسان جان بوجھ کر قسم اٹھاتا ہے کہ میں نے یہ کام نہیں کیا حالانکہ وہ اسے کر چکا ہوتا ہے تو اسے یمین غموس کہنے ہیں اور یہ کبیرہ گناہ میں شامل ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4613]

Sahih Bukhari Hadith 4613 in Urdu