صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. باب قوله: {لا يؤاخذكم الله باللغو فى أيمانكم} :
باب: آیت کی تفسیر ”اللہ تم سے تمہاری فضول قسموں پر پکڑ نہیں کرتا“۔
حدیث نمبر: 4613
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ سُعَيْرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا:" أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ لا يُؤَاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ سورة المائدة آية 89 فِي قَوْلِ الرَّجُلِ: لَا وَاللَّهِ، وَبَلَى وَاللَّهِ".
ہم سے علی بن سلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے مالک بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ آیت «لا يؤاخذكم الله باللغو في أيمانكم» ”اللہ تم سے تمہاری فضول قسموں پر پکڑ نہیں کرتا۔“ کسی کے اس طرح قسم کھانے کے بارے میں نازل ہوئی تھی کہ نہیں، اللہ کی قسم، ہاں اللہ کی قسم!۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4613]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ درج ذیل آیت کریمہ ﴿لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ﴾ [سورة البقرة: 225] ”اللہ تعالیٰ تم سے تمہاری فضول قسموں پر مؤاخذہ نہیں کرے گا۔“ کسی کے اس طرح قسم کھانے کے بارے میں نازل ہوئی تھی: «لَا وَاللَّهِ، وَبَلَى وَاللَّهِ» ”نہیں! اللہ کی قسم، ہاں! اللہ کی قسم۔“ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4613]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4613 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4613
حدیث حاشیہ:
جوقسم بلا کسی ارادہ کے زبان پر آجاتی ہے۔
امام شافعی اور اہلحدیث کا یہی قول ہے۔
امام ابو حنیفہ نے کہا ایک بات کا گمان غالب ہو اور پھر اس پر کوئی قسم کھالے تو یہ قسم لغو ہے۔
بعضوں نے کہا لغو قسم جو غصے میں یا بھول کر کھالی جائے۔
بعضوں نے کہا کھانے پینے لباس وغیرہ کے ترک پر جو قسم کھائی جائے وہ مراد ہے۔
جوقسم بلا کسی ارادہ کے زبان پر آجاتی ہے۔
امام شافعی اور اہلحدیث کا یہی قول ہے۔
امام ابو حنیفہ نے کہا ایک بات کا گمان غالب ہو اور پھر اس پر کوئی قسم کھالے تو یہ قسم لغو ہے۔
بعضوں نے کہا لغو قسم جو غصے میں یا بھول کر کھالی جائے۔
بعضوں نے کہا کھانے پینے لباس وغیرہ کے ترک پر جو قسم کھائی جائے وہ مراد ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4613]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4613
حدیث حاشیہ:
1۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جو قسم بطور عادت قصد و ارادہ کے بغیر انسان کی زبان سے نکل جائے وہ لغو ہے کیونکہ بعض اوقات انسان کو بچپن میں بات بات پر قسم کھانے کی عادت پڑجاتی ہے جس پر کنٹرول کرنا کچھ مشکل ہوتا ہے۔
چنانچہ ابراہیم نخعیؒ سے مروی ہے کہ بچپن میں ہمیں قسم اٹھا نے پر مار پڑتی تھی۔
2۔
اگر کوئی انسان جان بوجھ کر قسم اٹھاتا ہے کہ میں نے یہ کام نہیں کیا حالانکہ وہ اسے کر چکا ہوتا ہے تو اسے یمین غموس کہنے ہیں اور یہ کبیرہ گناہ میں شامل ہے۔
1۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جو قسم بطور عادت قصد و ارادہ کے بغیر انسان کی زبان سے نکل جائے وہ لغو ہے کیونکہ بعض اوقات انسان کو بچپن میں بات بات پر قسم کھانے کی عادت پڑجاتی ہے جس پر کنٹرول کرنا کچھ مشکل ہوتا ہے۔
چنانچہ ابراہیم نخعیؒ سے مروی ہے کہ بچپن میں ہمیں قسم اٹھا نے پر مار پڑتی تھی۔
2۔
اگر کوئی انسان جان بوجھ کر قسم اٹھاتا ہے کہ میں نے یہ کام نہیں کیا حالانکہ وہ اسے کر چکا ہوتا ہے تو اسے یمین غموس کہنے ہیں اور یہ کبیرہ گناہ میں شامل ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4613]
Sahih Bukhari Hadith 4613 in Urdu
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق