🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. باب قوله: {لا يؤاخذكم الله باللغو فى أيمانكم} :
باب: آیت کی تفسیر ”اللہ تم سے تمہاری فضول قسموں پر پکڑ نہیں کرتا“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4614
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ ابْنُ أَبِي رَجَاءٍ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَّ أَبَاهَا كَانَ لَا يَحْنَثُ فِي يَمِينٍ، حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ كَفَّارَةَ الْيَمِينِ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ:" لَا أَرَى يَمِينًا أُرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا إِلَّا قَبِلْتُ رُخْصَةَ اللَّهِ وَفَعَلْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ".
ہم سے احمد بن ابی رجاء نے بیان کیا، کہا ہم سے نضر بن شمیل نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، کہا مجھ کو میرے والد نے خبر دی اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ان کے والد ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اپنی قسم کے خلاف کبھی نہیں کیا کرتے تھے۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ نے قسم کے کفارہ کا حکم نازل کر دیا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اب اگر اس کے (یعنی جس کے لیے قسم کھا رکھی تھی) سوا دوسری چیز مجھے اس سے بہتر معلوم ہوتی ہے تو میں اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی رخصت پر عمل کرتا ہوں اور وہی کام کرتا ہوں جو بہتر ہوتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4614]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة فقيه مشهور
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر
Newهشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي
ثقة إمام في الحديث
👤←👥النضر بن شميل المازني، أبو الحسن
Newالنضر بن شميل المازني ← هشام بن عروة الأسدي
ثقة ثبت
👤←👥أحمد بن أبي رجاء الهروي، أبو الوليد
Newأحمد بن أبي رجاء الهروي ← النضر بن شميل المازني
ثقة
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4614 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4614
حدیث حاشیہ:
ثعلبی نے کہا کہ آیت ﴿لا یواخذُکمُ اللہُ﴾ (المائدہ: 89)
حضرت ابوبکر ؓ کے حق میں نازل ہوئی۔
جب انہوں نے غصہ ہو کر یہ قسم کھائی تھی کہ اب سے مسطح بن اثاثہؓ کے ساتھ میں کوئی سلوک نہیں کروں گا۔
یہ مسطح ؓ حضرت عائشہ ؓ پر تہمت لگانے میں شریک ہو گئے تھے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4614]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4614
حدیث حاشیہ:

آئندہ زمانے میں کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کی قسم اٹھانا یمین منعقدہ ہے جس کے توڑدینے پر کفارہ ادا کرنا پڑتا ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
"قسم کا کفارہ دس مساکین کو درمیانے درجے کا کھانا کھلانا ہے جو تم اپنے اہل وعیال کو کھلاتے ہو یا انھیں لباس دینا ہے یا ایک غلام آزاد کرنا ہے اور جسے یہ میسر نہ ہوں وہ تین دن کے روزے رکھے۔
یہ تمھاری قسموں کا کفارہ ہے جب تم قسم اٹھاکر اسے توڑ دو۔
" (المائدة: 89/5)

اس سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:
"اگر تم کسی کام کے کرنے کی قسم کھا لو، پھر تمھیں کسی دوسرے کام میں بہتری نظر آئے تو اپنی قسم کا کفارہ ادا کر کے وہ کام کرو جو بہتر ہے۔
" (صحیح البخاري، الأیمان والنذور، حدیث: 6622)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4614]