صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. بَابُ قَوْلِهِ: {وَلاَ تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ} :
باب: آیت «ولا تقربوا الفواحش ما ظهر منها وما بطن» کی تفسیر۔
حدیث نمبر: 4634
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" لَا أَحَدَ أَغْيَرُ مِنَ اللَّهِ، وَلِذَلِكَ حَرَّمَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ، وَلَا شَيْءَ أَحَبُّ إِلَيْهِ الْمَدْحُ مِنَ اللَّهِ، وَلِذَلِكَ مَدَحَ نَفْسَهُ"، قُلْتُ: سَمِعْتَهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: وَرَفَعَهُ، قَالَ: نَعَمْ.
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عمرو نے، ان سے ابووائل نے اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ سے زیادہ اور کوئی غیرت مند نہیں، یہی وجہ ہے کہ اس نے بےحیائیوں کو حرام قرار دیا ہے۔ خواہ وہ ظاہر ہوں خواہ پوشیدہ اور اللہ کو اپنی تعریف سے زیادہ اور کوئی چیز پسند نہیں، یہی وجہ ہے کہ اس نے اپنی خود مدح کی ہے۔ (عمرو بن مرہ نے بیان کیا کہ) میں نے پوچھا آپ نے یہ حدیث خود عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنی تھی انہوں نے بیان کیا کہ ہاں، میں نے پوچھا اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ سے حدیث بیان کی تھی؟ کہا کہ ہاں۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4634]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ سے زیادہ کوئی غیرت مند نہیں، اسی وجہ سے اس نے ﴿مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ﴾ [سورة الأنعام: 151] (ظاہری اور باطنی سب بے حیائیوں) کو حرام قرار دیا ہے، اور اللہ تعالیٰ کو اپنی تعریف سے زیادہ اور کوئی چیز پسند نہیں، یہی وجہ ہے کہ اس نے اپنی تعریف خود کی ہے۔“ (راوی کہتا ہے:) ”میں نے اپنے استاد سے پوچھا: کیا تم نے یہ حدیث خود حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنی تھی؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ میں نے پوچھا: کیا انہوں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بیان کیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں۔“ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4634]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4634 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4634
حدیث حاشیہ:
غیرت کے معنی حمیت و شرم کے ہیں آدمی اپنی بیوی کے متعلق غیرت کرتا ہے یعنی وہ نہیں چاہتا کہ غیر محرم اسے دیکھیں بلکہ وہ ان سے اپنی بیوی کی حفاظت کرتا ہے دوسرے معنوں میں غیرت یہ ہے کہ کوئی اپنے محبوب میں کسی کی شراکت کو گوارا نہ کرے۔
جس انسان میں غیرت ہو اسے غیور کہا جاتا ہے اس کے مقابلے میں دیوث ہوتا جو اپنی بیوی کے پاس اجنبی لوگوں کے آنے جانے سے شرم محسوس نہیں کرتا اور نہ اپنی بیوی کو پردے میں ہی محفوظ کرتا ہے اللہ تعالیٰ نے ایسی غیرت کے پیش نظر بے حیائی کے تمام کام حرام قرار دیے ہیں جیسا کہ مذکورہ حدیث میں اس کی صراحت ہے ایک دوسری حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:
"اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ غیرت اس بات پر آتی ہے جب وہ اپنے کسی بندے یا بندی کو زنا کرتے دیکھتا ہے۔
" (صحیح البخاري، النکاح، حدیث: 5221)
ایک روایت میں صراحت ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کی ہے۔
(صحیح البخاري، النکاح، حدیث: 5220)
غیرت کے معنی حمیت و شرم کے ہیں آدمی اپنی بیوی کے متعلق غیرت کرتا ہے یعنی وہ نہیں چاہتا کہ غیر محرم اسے دیکھیں بلکہ وہ ان سے اپنی بیوی کی حفاظت کرتا ہے دوسرے معنوں میں غیرت یہ ہے کہ کوئی اپنے محبوب میں کسی کی شراکت کو گوارا نہ کرے۔
جس انسان میں غیرت ہو اسے غیور کہا جاتا ہے اس کے مقابلے میں دیوث ہوتا جو اپنی بیوی کے پاس اجنبی لوگوں کے آنے جانے سے شرم محسوس نہیں کرتا اور نہ اپنی بیوی کو پردے میں ہی محفوظ کرتا ہے اللہ تعالیٰ نے ایسی غیرت کے پیش نظر بے حیائی کے تمام کام حرام قرار دیے ہیں جیسا کہ مذکورہ حدیث میں اس کی صراحت ہے ایک دوسری حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:
"اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ غیرت اس بات پر آتی ہے جب وہ اپنے کسی بندے یا بندی کو زنا کرتے دیکھتا ہے۔
" (صحیح البخاري، النکاح، حدیث: 5221)
ایک روایت میں صراحت ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کی ہے۔
(صحیح البخاري، النکاح، حدیث: 5220)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4634]
Sahih Bukhari Hadith 4634 in Urdu
شقيق بن سلمة الأسدي ← عبد الله بن مسعود