🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
79. باب:
باب:۔۔۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 465
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَنَسُ،" أَنَّ رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَا مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي لَيْلَةٍ مُظْلِمَةٍ وَمَعَهُمَا مِثْلُ الْمِصْبَاحَيْنِ يُضِيئَانِ بَيْنَ أَيْدِيهِمَا، فَلَمَّا افْتَرَقَا صَارَ مَعَ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا وَاحِدٌ حَتَّى أَتَى أَهْلَهُ".
ہم سے محمد بن مثنی نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے معاذ بن ہشام نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے میرے والد نے قتادہ کے واسطہ سے بیان کیا، کہا ہم سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ دو شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے نکلے، ایک عباد بن بشر اور دوسرے صاحب میرے خیال کے مطابق اسید بن حضیر تھے۔ رات تاریک تھی اور دونوں اصحاب کے پاس روشن چراغ کی طرح کوئی چیز تھی جس سے ان کے آگے آگے روشنی پھیل رہی تھی پس جب وہ دونوں اصحاب ایک دوسرے سے جدا ہوئے تو ہر ایک کے ساتھ ایک ایک چراغ رہ گیا جو گھر تک ساتھ رہا۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 465]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دو صحابہ آپ کے پاس سے اندھیری رات میں نکلے، ان دونوں کے ساتھ منور چراغ کی طرح کوئی چیز تھی، جو ان کے سامنے روشنی دے رہی تھی۔ جب وہ دونوں علیحدہ ہو گئے تو ہر ایک کے ساتھ اس طرح کا چراغ ہو گیا حتی کہ وہ اپنے گھر پہنچ گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 465]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب
Newقتادة بن دعامة السدوسي ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة ثبت مشهور بالتدليس
👤←👥هشام بن أبي عبد الله الدستوائي، أبو بكر
Newهشام بن أبي عبد الله الدستوائي ← قتادة بن دعامة السدوسي
ثقة ثبت وقد رمي بالقدر
👤←👥معاذ بن هشام الدستوائي، أبو عبد الله
Newمعاذ بن هشام الدستوائي ← هشام بن أبي عبد الله الدستوائي
صدوق حسن الحديث
👤←👥محمد بن المثنى العنزي، أبو موسى
Newمحمد بن المثنى العنزي ← معاذ بن هشام الدستوائي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
3805
خرجا من عند النبي في ليلة مظلمة وإذا نور بين أيديهما حتى تفرقا فتفرق النور معهما
صحيح البخاري
465
خرجا من عند النبي في ليلة مظلمة ومعهما مثل المصباحين يضيآن بين أيديهما فلما افترقا صار مع كل واحد منهما واحد حتى أتى أهله
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 465 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:465
حدیث حاشیہ:

صحیح بخاری کی ایک روایت میں وضاحت ہے کہ وہ دونوں اسید بن حضیر ؓ اور عباد بن بشرؓ تھے۔
(صحیح البخاري، مناقب الأنصار، حدیث: 3830)
امام بخاری ؒ نے اس مقام پر بلا عنوان باب قائم کیا ہے اور علامہ ابن رشید ؒ کی یہ بات بھی یہاں نہیں چل سکتی کہ امام بخاری ؒ کا باب بلا عنوان باب سابق کی فصل ہوا کہ کرتا ہے، کیونکہ پہلے باب کے ساتھ اس حدیث کی کوئی مناسبت نہیں ہے۔
البتہ ابواب مساجد کے ساتھ اس قدر تعلق ہو سکتا ہے کہ یہ دونوں صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دیر تک انتظار صلاۃ کے لیے مسجد میں رکے رہے۔
چونکہ رات اندھیری تھی اور ان کے پاس روشنی کا کوئی انتظام نہ تھا واپسی پر انھیں پریشانی ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے ان دونوں حضرات کو اپنی طرف سے روشنی مہیا کرنے کا اعزاز بخشا، اس بنا پر بایں الفاظ عنوان قائم کیا جا سکتا ہے:
اندھیری رات میں مسجد کی طرف آنے کی فضیلتاور اس حدیث سے اس عنوان کی تائید ہوتی ہے کہ جو لوگ اندھیرے میں نماز کے لیے مسجدوں کی طرف آئیں انھیں قیامت کے دن نور تام ملنے کی بشارت دے دیں۔
جیسا کہ ابو داود میں ہے۔
(سنن أبي داود، الصلاة، حدیث: 561)
ان دو صحابہ کو دنیا میں روشنی ملی اور قیامت کے دن اس سے کہیں زیادہ نور نصیب ہو گا۔
(فتح الباري: 722/1)
علامہ عینی ؒ کو حسب عادت حافظ ابن حجر ؒ کی توجیہ سے اختلاف ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ مذکورہ حدیث اس عنوان پر دلالت نہیں کرتی، کیونکہ حدیث کے مطابق یہ دونوں حضرات اندھیری رات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے واپس ہوئے ہیں اس میں مسجد کی طرف جانے کا سرے سے کوئی تذکرہ نہیں۔
میرے نزدیک اچھی توجیہ یہ ہے کہ یہ دونوں حضرات مسجد نبوی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں تھے اور نماز عشاء کے منتظر تھے اور جو کرامت انھیں حاصل ہوئی اس میں مسجد کا بھی دخل ہے، اس لیے ابواب مساجد سے ربط قائم کیا جا سکتا ہے، لہٰذا اس حیثیت سے مذکورہ حدیث کو یہاں لانا مناسب ٹھہرا (عمدة القاري: 52/3)

شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ نے مذکورہ حدیث کا ابواب مساجد سے ایک اور ربط قائم کیاہے۔
فرماتے ہیں کہ دونوں صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دیر تک مسجد میں رہے۔
گویا مسجد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمرا محو گفتگو رہے، اس لیے مذکورہ حدیث سے ایک نیا مضمون مستنبط ہوتا ہے کہ مسجد میں بات چیت اور گفتگو کرنے کی اجازت ہے۔
(شرح تراجم بخاري)
بہر حال مذکورہ حدیث کے مطابق جماعت میں شرکت اللہ کے ہاں ایک محبوب امر ہے جو لوگ تاریکیوں سے بے پرواہو کر جماعت کا اہتمام کریں گے تو قیامت کے دن یہ تاریکی نور تام سے بدل جائے گی۔
نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اولیاء کی کرامتیں برحق ہیں، لیکن ان کا ظہور اللہ کے اذان پر موقوف ہے۔
واللہ أعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 465]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3805
3805. حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس سے دو شخص اندھیری رات میں روانہ ہوئے تو دیکھتے ہیں کہ ایک غیبی نور ان کے آگے آگے چل رہا ہے۔ پھر جب وہ جدا ہوئے تو ان کے ساتھ ساتھ وہ نور بھی تقسیم ہو گیا۔ ایک دوسری سند سے حضرت انس ؓ ہی سے مروی ہے کہ یہ دونوں اسید بن حضیر اور ایک انصاری آدمی تھے۔ حضرت انس ؓ ہی کی ایک دوسری روایت میں ہے کہ اسید بن حضیر اور عباد بن بشر ؓ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3805]
حدیث حاشیہ:

پہلی حدیث میں دوشخصیتوں کی تعین کے متعلق سکوت ہے جبکہ معمر کی روایت سے معلوم ہوا کہ حضرت اسید بن حضیر ؓ ان میں سے ایک ہیں اور حماد کی روایت سے پتہ چلا کہ دوسرے حضرت عباد بن بشر ؓ ہیں۔
اسماعیلی کی بیان کردہ حدیث میں ہے کہ جب یہ دونوں حضرات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے رخصت ہوئے تو دونوں کے پاس لاٹھیاں تھیں۔
اندھیری رات میں ایک لاٹھی روشن ہوگئی۔
جب آگے راستہ تبدیل ہواتو تو دوسرے کی لاٹھی بھی جگمگانے لگی۔
اسی طرح دونوں کی لاٹھیاں روشن ہوگئیں حتی کہ وہ اپنے اپنے گھر پہنچ گئے۔

اس حدیث سے ان دونوں حضرات کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔
(فتح الباري: 159/7)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3805]

Sahih Bukhari Hadith 465 in Urdu