🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
11. بَابُ قَوْلِهِ: {الَّذِينَ يَلْمِزُونَ الْمُطَّوِّعِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ} :
باب: آیت «الذين يلمزون المطوعين من المؤمنين» کی تفسیر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q4668
يَلْمِزُونَ: يَعِيبُونَ وَجُهْدَهُمْ، وَجَهْدَهُمْ طَاقَتَهُمْ.
‏‏‏‏ «يلمزون» کا معنی عیب لگاتے ہیں، طعنہ مارتے ہیں۔ «جهدهم» (جیم کے ضمہ) اور «جهدهم» جیم کے نصب کے ساتھ دونوں قرآت ہیں۔ یعنی محنت مزدوری کر کے مقدور کے موافق دیتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: Q4668]

تخریج وتحقیقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
الجامع الكامل حدیث نمبر :
12499

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4668
حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ أَبُو مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، قَالَ:" لَمَّا أُمِرْنَا بِالصَّدَقَةِ كُنَّا نَتَحَامَلُ فَجَاءَ أَبُو عَقِيلٍ بِنِصْفِ صَاعٍ، وَجَاءَ إِنْسَانٌ بِأَكْثَرَ مِنْهُ، فَقَالَ الْمُنَافِقُونَ: إِنَّ اللَّهَ لَغَنِيٌّ عَنْ صَدَقَةِ هَذَا، وَمَا فَعَلَ هَذَا الْآخَرُ، إِلَّا رِئَاءً، فَنَزَلَتْ الَّذِينَ يَلْمِزُونَ الْمُطَّوِّعِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فِي الصَّدَقَاتِ وَالَّذِينَ لا يَجِدُونَ إِلا جُهْدَهُمْ سورة التوبة آية 79، الْآيَةَ".
مجھ سے ابو محمد بشر بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم کو محمد بن جعفر نے خبر دی، انہیں شعبہ نے، انہیں سلیمان اعمش نے، انہیں ابووائل نے اور ان سے ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب ہمیں خیرات کرنے کا حکم ہوا تو ہم مزدوری پر بوجھ اٹھاتے (اور اس کی مزدوری صدقہ میں دے دیتے) چنانچہ ابوعقیل اسی مزدوری سے آدھا صاع خیرات لے کر آئے اور ایک دوسرے صحابی عبدالرحمٰن بن عوف اس سے زیادہ لائے۔ اس پر منافقوں نے کہا کہ اللہ کو اس (یعنی عقیل) کے صدقہ کی کوئی ضرورت نہیں تھی اور اس دوسرے (عبدالرحمٰن بن عوف) نے تو محض دکھاوے کے لیے اتنا بہت سا صدقہ دیا ہے۔ چنانچہ یہ آیت نازل ہوئی «الذين يلمزون المطوعين من المؤمنين في الصدقات والذين لا يجدون إلا جهدهم‏» کہ ”یہ ایسے لوگ ہیں جو صدقات کے بارے میں نفل صدقہ دینے والے مسلمانوں پر طعن کرتے ہیں اور خصوصاً ان لوگوں پر جنہیں بجز ان کی محنت مزدوری کے کچھ نہیں ملتا۔“ آخر آیت تک۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4668]
حضرت ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”جب ہمیں صدقہ دینے کا حکم دیا گیا تو اس وقت ہم مزدوری پر بوجھ اٹھایا کرتے تھے، چنانچہ حضرت ابوعقیل رضی اللہ عنہ (اسی مزدوری سے) آدھا صاع کھجور لے کر آئے۔ ایک دوسرے صحابی اس سے زیادہ لائے تو منافقین کہنے لگے: اللہ تعالیٰ کو اس (عقیل رضی اللہ عنہ کے) صدقے کی کوئی ضرورت نہ تھی اور دوسرے نے تو محض ریاکاری کے لیے اتنا مال دیا ہے۔ اس وقت یہ آیت نازل ہوئی: ﴿الَّذِينَ يَلْمِزُونَ الْمُطَّوِّعِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فِي الصَّدَقَاتِ وَالَّذِينَ لَا يَجِدُونَ إِلَّا جُهْدَهُمْ﴾ [سورة التوبة: 79] ”یہ ایسے لوگ ہیں کہ خوشی سے صدقہ دینے والے اہل اسلام پر طعن کرتے ہیں، خاص طور پر ان لوگوں کو ہدفِ تنقید بناتے ہیں جو محنت و مزدوری کے علاوہ اور کچھ نہیں رکھتے۔““ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4668]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تخریج وتحقیقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
الجامع الكامل حدیث نمبر :
12499

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو مسعود الأنصاري، أبو مسعودصحابي
👤←👥شقيق بن سلمة الأسدي، أبو وائل
Newشقيق بن سلمة الأسدي ← أبو مسعود الأنصاري
مخضرم
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← شقيق بن سلمة الأسدي
ثقة حافظ
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥محمد بن جعفر الهذلي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newمحمد بن جعفر الهذلي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة
👤←👥بشر بن خالد العسكري، أبو محمد
Newبشر بن خالد العسكري ← محمد بن جعفر الهذلي
ثقة
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4668 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4668
حدیث حاشیہ:
1۔
غزوہ تبوک کے موقع پر قحط سالی تھی، ابھی فصلیں بھی نہیں پکی تھیں، سفر بھی دوردراز کا تھا مقابلہ بھی اس دور کی انتہائی مضبوط اور زبردست طاقت رومی حکومت سے تھا، اسلحہ اور سواریوں کی بھی قلت تھی، اس بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد فنڈ کے لیے پرزور اپیل کی جس کے نتیجے میں حضرت عثمان ؓ اور حضرت عبدالرحمان ؓ نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اتنا چندہ دیا کہ آپ خوش ہوگئے۔
سیدناعمرؓ اپنے گھر کا آدھا سامان بانٹ کر جہاد فنڈ کے لیے لے آئے جبکہ حضرت ابوبکرصدیق ؓ گھر کا تمام سامان اٹھا کر لے آئے۔
الغرض مال دار اورمزدور پیشہ لوگوں نے اپنی حیثیت کے مطابق چندہ دیا۔
لیکن منافقین کی طعنہ زنی سے کوئی بھی محفوظ نہ رہا۔
2۔
حضرت ابومسعودانصاری ؓ نے حدیث کے آخر میں اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے کہ میں نے بھی اس وقت محنت مزدوری کرکے صدقہ کیا تھا اور آج اللہ تعالیٰ نے اتنا دیا ہے کہ لاکھوں میں کھیل رہا ہوں۔
حافظ ابن حجر ؒ لکھتے ہیں اس سے مقصود یہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قلت مال کے باوجود لوگ محنت مزدوری کرکے صدقہ کیا کرتے تھے۔
اب اللہ تعالیٰ نے ان پر مال وولت کے دروازے کھول دیے ہیں۔
بڑی آسانی کے ساتھ صدقہ خیرات کرتے ہیں۔
انھیں تنگی کا خوف دامن گیر نہیں ہوتا۔
(فتح الباري: 422/8)
واللہ اعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4668]

Sahih Bukhari Hadith 4668 in Urdu