🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
12. باب قوله: {استغفر لهم أو لا تستغفر لهم إن تستغفر لهم سبعين مرة} :
باب: آیت کی تفسیر ”اے نبی! آپ ان کے لیے استغفار کریں یا نہ کریں اگر آپ ان کے لیے ستر مرتبہ بھی استغفار کریں گے (جب بھی اللہ انہیں نہیں بخشے گا)“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4670
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ، جَاءَ ابْنُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهُ أَنْ يُعْطِيَهُ قَمِيصَهُ يُكَفِّنُ فِيهِ أَبَاهُ، فَأَعْطَاهُ، ثُمَّ سَأَلَهُ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْهِ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهِ، فَقَامَ عُمَرُ، فَأَخَذَ بِثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تُصَلِّي عَلَيْهِ وَقَدْ نَهَاكَ رَبُّكَ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا خَيَّرَنِي اللَّهُ، فَقَالَ: اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً سورة التوبة آية 80، وَسَأَزِيدُهُ عَلَى السَّبْعِينَ"، قَالَ: إِنَّهُ مُنَافِقٌ، قَالَ: فَصَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ وَلا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ سورة التوبة آية 84.
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، ان سے ابواسامہ نے، ان سے عبیداللہ بن عمری نے، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ جب عبداللہ بن ابی (منافق) کا انتقال ہوا تو اس کے لڑکے عبداللہ بن عبداللہ (جو پختہ مسلمان تھے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ آپ اپنی قمیص ان کے والد کے کفن کے لیے عنایت فرما دیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قمیص عنایت فرمائی۔ پھر انہوں نے عرض کی کہ آپ نماز جنازہ بھی پڑھا دیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز جنازہ پڑھانے کے لیے بھی آگے بڑھ گئے۔ اتنے میں عمر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دامن پکڑ لیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اس کی نماز جنازہ پڑھانے جا رہے ہیں، جبکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے منع بھی فرما دیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے اختیار دیا ہے فرمایا ہے «استغفر لهم أو لا تستغفر لهم إن تستغفر لهم سبعين مرة‏» کہ آپ ان کے لیے استغفار کریں خواہ نہ کریں۔ اگر آپ ان کے لیے ستر بار بھی استغفار کریں گے (تب بھی اللہ انہیں نہیں بخشے گا)۔ اس لیے میں ستر مرتبہ سے بھی زیادہ استغفار کروں گا۔ (ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ زیادہ استغفار کرنے سے معاف کر دے) عمر رضی اللہ عنہ بولے لیکن یہ شخص تو منافق ہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ آخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا «ولا تصل على أحد منهم مات أبدا ولا تقم على قبره‏» کہ اور ان میں سے جو کوئی مر جائے اس پر کبھی بھی نماز نہ پڑھئے اور نہ اس کی قبر پر کھڑا ہوئیے۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4670]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله
Newنافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت مشهور
👤←👥عبيد الله بن عمر العدوي، أبو عثمان
Newعبيد الله بن عمر العدوي ← نافع مولى ابن عمر
ثقة ثبت
👤←👥حماد بن أسامة القرشي، أبو أسامة
Newحماد بن أسامة القرشي ← عبيد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت
👤←👥عبد الله بن إسماعيل الهباري، أبو محمد
Newعبد الله بن إسماعيل الهباري ← حماد بن أسامة القرشي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
4672
استغفر لهم أو لا تستغفر لهم إن تستغفر لهم سبعين مرة فلن يغفر الله لهم
صحيح البخاري
4670
استغفر لهم أو لا تستغفر لهم إن تستغفر لهم سبعين مرة
جامع الترمذي
3098
استغفر لهم أو لا تستغفر لهم
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4670 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4670
حدیث حاشیہ:
دوسری روایت میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرا کرتہ اس کے کچھ کام آنے والا نہیں ہے لیکن مجھے امید ہے کہ میرے اس عمل سے اس کی قوم کے ہزار آدمی مسلمان ہو جائیں گے۔
ایسا ہی ہوا عبد اللہ بن ابی کی قوم کے بہت سے لوگ مسلمان ہو گئے۔
آپ کے اخلاق کا ان پر بہت بڑا اثر ہوا۔
ایک روایت میں ہے کہ عبد اللہ بن ابی ابھی زندہ تھا کہ اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بلوایا اور آپ سے کرتہ مانگا اور دعا کی درخواست کی۔
حافظ صاحب نقل کرتے ہیں:
لَمَّا مَرِضَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ جَاءَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَلَّمَهُ فَقَالَ قَدْ فَهِمْتُ مَا تَقُولُ فَامْنُنْ عَلَيَّ فَكَفِّنِّي فِي قَمِيصِكَ وَصَلِّ عَلَيَّ فَفَعَلَ وَكَأَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيٍّ أَرَادَ بِذَلِكَ دَفْعُ الْعَارِ عَنْ وَلَدِهِ وَعَشِيرَتِهِ بَعْدَ مَوْتِهِ فَأَظْهَرَ الرَّغْبَةَ فِي صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ وَوَقَعَتْ إِجَابَتُهُ إِلَى سُؤَالِهِ بِحَسَبِ مَا ظَهَرَ مِنْ حَالِهِ إِلَى أَنْ كَشَفَ اللَّهُ الْغِطَاءَ عَنْ ذَلِكَ كَمَا سَيَأْتِي وَهَذَا مِنْ أَحْسَنِ الْأَجْوِبَةِ فِيمَا يَتَعَلَّقُ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ۔
(فتح الباری)
عبداللہ بن ابی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جنازہ اور کرتہ کے لئے خود درخواست کی تھی تاکہ بعد میں اس کی اولاد اور خاندان پر عار نہ ہو۔
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اس کی مصلحتوں کا کشف ہوگیا تھا، اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی درخواست کو قبول فرمایا، اس عبارت کا یہی خلاصہ ہے۔
مصلحتوں کا ذکر ابھی پیچھے ہو چکا ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4670]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4670
حدیث حاشیہ:

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رئیس المنافقین کے بیٹے حضرت عبداللہ بن عبداللہ کی درخواست پر تین کام کیے:
۔
رئیس المنافقین کے لیے اپنی قمیص دی تاکہ اس میں کفن دیاجائے۔
۔
اپنا لعاب دہن اس کے منہ میں ڈالا۔

آپ نے تین وجوہ کی بنا پر یہ کام کیے:
۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت میں نرمی رحم اور عفو درگزر کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا تھا۔
۔
بدر کے قیدیوں میں آپ کے چچا حضرت عباس ؓ بدن سے ننگے تھے چونکہ ان کا قد لمبا تھا، اس لیے رئیس المنافقین سے قمیص مانگ کردی۔
آپ یہ چاہتے تھے کہ قمیص دے کر اس احسان کا بدلہ چکا دیں۔
۔
ایسے حالات میں رئیس المنافقین کے بیٹے حضرت عبداللہ بن عبداللہ ؓ کی دل جوئی اور تالیف قلبی مقصود تھی تاکہ وہ شکستہ دل نہ ہو۔

سیدناعمر ؓ نے اس آیت سے استنباط کرتے ہوئے عرض کی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان منافقین کی نماز جنازہ پڑھنے سے منع کردیا ہے کیونکہ ستر مرتبہ استغفار کرنے سے بھی اس کی معافی ممکن نہیں تو جنازہ بھی معافی کی درخواست ہوتی ہےاسے ادا کرنے کا کیا فائدہ ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عمر ؓ کی رائے کے مطابق وحی نازل فرمائی۔
اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اب منافقین سے نرم قسم کی پالیسی اختیار کرنے کا دور بیت چکا ہے اور ان سے سخت رویہ اختیار کرنا عین منشائے الٰہی کے مطابق ہے۔

واضح رہے کہ رئیس المنافقین کے بیٹے حضرت عبداللہ ؓ نے اس لیے درخواست نہیں کی تھی کہ اس کا باپ نفاق سے تائب ہوچکا تھا بلکہ یہ درخواست اس لیے تھی کہ مرنے کے بعد لوگ اسے اور اس کے قبیلے کو اس کے نفاق کا طعنہ نہ دیں، بہرحال اس کے بیٹے کو اس بات کا علم تھا کہ وہ اب بھی منافق ہے اور حالت نفاق ہی میں مرا ہے۔
واللہ اعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4670]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4672
4672. حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب عبداللہ بن ابی مر گیا تو اس کا بیٹا حضرت عبداللہ بن عبداللہ ؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ نے اس کو اپنی قمیص دی اور فرمایا کہ اسے اس قمیص میں کفن دیا جائے۔ پھر آپ اس کی نماز جنازہ پڑھنے کے لیے کھڑے ہوئے تو حضرت عمر ؓ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دامن پکڑ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ اس کی نماز جنازہ پڑھنے لگے ہیں جبکہ یہ شخص منافق ہے اور اللہ تعالٰی نے آپ کو منافقین کے لیے طلب مغفرت سے منع بھی فرمایا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالٰی نے مجھے اختیار دیا ہے یا مجھے خبر دی ہے کہ ان کے لیے استغفار کریں یا نہ کریں، اگر ان کے لیے ستر بار استغفار کریں اللہ تعالٰی ان کو ہرگز نہیں بخشے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں ستر مرتبہ سے زیادہ استغفار کروں گا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھی اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ اس کا جنازہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:4672]
حدیث حاشیہ:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رئیس المنافقین کو اس لیے کرتا پہنایا اور اس کی نماز جنازہ پڑھی تھی کہ جو لوگ اسلام کے قریب نہیں تھے، ان کے قریب ہونے کی توقع تھی، چنانچہ حافظ ابن حجر ؒ نے ایک حدیث ذکر کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
میری قمیص اسے اللہ کے عذاب سے نہیں بچاسکتی مگر میں نے یہ کام اس لیے کیا ہے کہ مجھے اس عمل سے اس کی قوم کے ہزار آدمیوں کے مسلمان ہونے کی اُمیدہے۔
(فتح الباری: 426/8)
نیز منافقین اگرچہ دل سے کافر تھے مگر ظاہری لحاظ سے ان پر شرعی احکام ویسے ہی نافذ تھے جیسے سچے مسلمانوں پر لاگو ہوتے تھے۔

اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی گناہ گار کے حق میں استغفار کریں تو اس کی معافی ہوسکتی ہے لیکن بداعتقاد لوگوں کی معافی کے لیے کوئی صورت نہیں خواہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کتنی ہی زیادہ دفعہ اس کے لیے استغفار کریں، چنانچہ اس آیت کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منافقین کی نماز جنازہ پڑھانا یا ان کے حق میں استغفار کرناچھوڑدیاتھا۔
(وتفسیر الطبری تحت آیۃ سورۃ التوبہ: 84)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4672]

Sahih Bukhari Hadith 4670 in Urdu