🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8M. باب: {ولولا إذ سمعتموه قلتم ما يكون لنا أن نتكلم بهذا سبحانك هذا بهتان عظيم} :
باب: آیت کی تفسیر ”اور تم نے جب اسے سنا تھا تو کیوں نہ کہہ دیا کہ ہم کیسے ایسی بات منہ سے نکالیں (پاک ہے تو یا اللہ!) یہ تو سخت بہتان ہے“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4754
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ الْقَاسِمِ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اسْتَأْذَنَ عَلَى عَائِشَةَ نَحْوَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ نِسْيًا مَنْسِيًّا.
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوہاب بن عبدالمجید نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عون نے بیان کیا، ان سے قاسم بن محمد نے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آنے کی اجازت چاہی۔ پھر راوی نے مذکورہ بالا حدیث کی طرح بیان کیا لیکن اس حدیث میں راوی نے لفظ «نسيا منسيا‏.‏» کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4754]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥القاسم بن محمد التيمي، أبو محمد، أبو عبد الرحمن
Newالقاسم بن محمد التيمي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة أفضل أهل زمانه
👤←👥عبد الله بن عون المزني، أبو عون
Newعبد الله بن عون المزني ← القاسم بن محمد التيمي
ثقة ثبت فاضل
👤←👥عبد الوهاب بن عبد المجيد الثقفي، أبو محمد
Newعبد الوهاب بن عبد المجيد الثقفي ← عبد الله بن عون المزني
ثقة
👤←👥محمد بن المثنى العنزي، أبو موسى
Newمحمد بن المثنى العنزي ← عبد الوهاب بن عبد المجيد الثقفي
ثقة ثبت
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4754 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4754
حدیث حاشیہ:

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا مقصد تھا کہ تعریف سے آدمی کے اندر پسندی اور تکبر کے جذبات پروان چڑھتے ہیں اور یہ ایسا وقت ہے کہ اس میں آدمی کو اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہونا چاہیے۔
اپنے نفس کی طرف توجہ کسی بھی طرح سے مناسب نہیں ہے۔
اس لیے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اجازت دینے میں انھیں کچھ تامل ہوا۔
ان کے جانے کے بعد آپ نے جو کچھ کہا اس سے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خشیت الٰہی اور تقوی کے بلند مقام کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

واقعی اولیاء اللہ اور بزرگ لوگ گمنامی ہی پسند کرتے ہیں انھوں نے شہرت و ناموری کو کبھی اپنے پاس نہیں آنے دیا۔
وہاں اگر اللہ تعالیٰ ان کی اچھی شہرت کر دے اور لوگوں کے دلوں میں ان کے لیے محبت ڈال دے۔
تو رضائے الٰہی مولیٰ از ہمہ اولیٰ سمجھ کر خاموش رہتے ہیں۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4754]