🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. باب: {إلا من تاب وآمن وعمل عملا صالحا فأولئك يبدل الله سيئاتهم حسنات وكان الله غفورا رحيما} :
باب: آیت کی تفسیر ”مگر ہاں جو توبہ کرے اور ایمان لائے اور نیک کام کرتا رہے، سو ان کی بدیوں کو اللہ نیکیوں سے بدل دے گا اور اللہ تو ہے ہی بڑا بخشش کرنے والا بڑا ہی مہربان ہے“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4766
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا أَبِي، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ:" أَمَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبْزَى، أَنْ أَسْأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ هَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ: وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا سورة النساء آية 93، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: لَمْ يَنْسَخْهَا شَيْءٌ وَعَنْ وَالَّذِينَ لا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ سورة الفرقان آية 68، قَالَ: نَزَلَتْ فِي أَهْلِ الشِّرْكِ".
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا مجھ کو میرے والد نے خبر دی، انہیں شعبہ نے، انہیں منصور نے، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا کہ مجھے عبدالرحمٰن بن ابزیٰ نے حکم دیا کہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے دو آیتوں کے بارے میں پوچھوں یعنی «ومن يقتل مؤمنا متعمدا‏» اور جس نے کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کیا الخ۔ میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ آیت کسی چیز سے بھی منسوخ نہیں ہوئی ہے۔ (اور دوسری آیت جس کے) بارے میں مجھے انہوں نے پوچھنے کا حکم دیا وہ یہ تھی «والذين لا يدعون مع الله إلها آخر‏» اور جو لوگ کسی معبود کو اللہ کے ساتھ نہیں پکارتے آپ نے اس کے متعلق فرمایا کہ یہ مشرکین کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4766]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥سعيد بن جبير الأسدي، أبو محمد، أبو عبد الله
Newسعيد بن جبير الأسدي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة ثبت
👤←👥منصور بن المعتمر السلمي، أبو عتاب
Newمنصور بن المعتمر السلمي ← سعيد بن جبير الأسدي
ثقة ثبت
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← منصور بن المعتمر السلمي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥عثمان بن جبلة العتكي
Newعثمان بن جبلة العتكي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة
👤←👥عبد الله بن عثمان العتكي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن عثمان العتكي ← عثمان بن جبلة العتكي
ثقة حافظ
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4766 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4766
حدیث حاشیہ:
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا خیال یہ تھا کہ ﴿إلا مَن تَابَ و آمنَ﴾ الآیة کا تعلق ان مسلمانوں سے نہیں ہے جو کسی مسلمان کا عمداً ناحق خون کریں یہ آیت صرف کافروں اور مشرکوں کے ایمان لانے سے متعلق ہے۔
یہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا خیال تھا مگر جمہور امت نے ایسے قاتل کے بارے میں توبہ واستغفار کی گنجائش بتائی ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4766]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4766
حدیث حاشیہ:

قاتل کی توبہ کے متعلق حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ کبھی تو وہ دونوں آیات کو ایک محل پر محمول کرتے، ایک آیت کو دوسری آیت کے لیے ناسخ بتاتے ہیں اور کبھی وہ دومحلوں پر محمول کرتے ہیں کہ ایک آیت مشرکین کے بارے میں ہے اور دوسری اہل ایمان سے متعلق ہے۔
ان میں اتفاق کی صورت یہ ممکن ہے کہ سورہ فرقان کی آیت میں جو توبہ کا عموم ہے اس سے اس مسلمان کو مخصوص کیا جائے جس نے جان بوجھ کر کسی کو قتل کیا ہے۔
بہت سے اسلاف اس قسم کی تخصیص پر نسخ کا اطلاق کرتے ہیں۔
(فتح الباري: 629/8)

اس سلسلے میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مشہور قول یہ ہے کہ جب کوئی مومن دوسرے کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کردے تو اس کی توبہ قبول نہیں لیکن جمہور علماء نے اس موقف سے اتفاق نہیں کیا بلکہ وہ قاتل کے لیے توبہ کا دروازہ کھلا رکھتے ہیں اور اس کے لیے توبہ کو صحیح کہا ہے۔
اس کی تفصیل پچھلے اوراق میں دیکھی جا سکتی ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4766]