🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. باب: {ادعوهم لآبائهم} :
باب: آیت کی تفسیر یعنی ”ان (آزاد شدہ غلاموں کو) ان کے حقیقی باپوں کی طرف منسوب کیا کرو“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4782
حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَالِمٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا:" أَنَّ زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا كُنَّا نَدْعُوهُ إِلَّا زَيْدَ بْنَ مُحَمَّدٍ حَتَّى نَزَلَ الْقُرْآنُ: ادْعُوهُمْ لآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ سورة الأحزاب آية 5".
ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن مختار نے بیان کیا، کہا ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے سالم نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کئے ہوئے غلام زید بن حارثہ کو ہم ہمیشہ زید بن محمد کہہ کر پکارا کرتے تھے، یہاں تک کہ قرآن کریم میں آیت نازل ہوئی «ادعوهم لآبائهم هو أقسط عند الله‏» کہ انہیں ان کے باپوں کی طرف منسوب کرو کہ یہی اللہ کے نزدیک سچی اور ٹھیک بات ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4782]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام تھے۔ (جب آپ نے انہیں متبنیٰ بنا لیا تو) ہم لوگ انہیں زید بن محمد کہہ کر پکارتے تھے حتی کہ یہ آیت نازل ہوئی: ﴿ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ﴾ [سورة الأحزاب: 5] ان منہ بولے بیٹوں کو ان کے باپوں کے نام سے پکارا کرو۔ اللہ کے ہاں یہی انصاف کی بات ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4782]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥سالم بن عبد الله العدوي، أبو عبيد الله، أبو عبد الله، أبو عمر
Newسالم بن عبد الله العدوي ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت
👤←👥موسى بن عقبة القرشي، أبو محمد
Newموسى بن عقبة القرشي ← سالم بن عبد الله العدوي
ثقة فقيه إمام في المغازي
👤←👥عبد العزيز بن المختار الأنصاري، أبو إسحاق، أبو إسماعيل
Newعبد العزيز بن المختار الأنصاري ← موسى بن عقبة القرشي
ثقة
👤←👥المعلى بن أسد العمي، أبو الهيثم
Newالمعلى بن أسد العمي ← عبد العزيز بن المختار الأنصاري
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
4782
ما كنا ندعوه إلا زيد بن محمد حتى نزل القرآن ادعوهم لآبائهم هو أقسط عند الله
صحيح مسلم
6262
ما كنا ندعو زيد بن حارثة إلا زيد بن محمد حتى نزل في القرآن ادعوهم لآبائهم هو أقسط عند الله
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4782 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4782
حدیث حاشیہ:
اسلام کے قانون میں لے پالک لڑکے لڑکی کا کوئی وزن نہیں ہے اس کو اولاد حقیقی جیسے حقوق نہیں ملیں گے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4782]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4782
حدیث حاشیہ:

حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام اور منہ بولے بیٹے تھے اور آپ کو ان سے انتہائی محبت تھی، اسی طرح حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھی آپ سے بہت تعلق خاطر تھا۔
ان کےبھائی حضرت جبلہ بن حارثہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی:
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے بھائی زید کومیرے ساتھ بھیج دیں۔
آپ نے فرمایا:
وہ حاضر ہے، اور اگر وہ تمہارے ساتھ (یمن)
جانا چاہے تو میں اسے منع نہیں کروں گا۔
حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی:
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں آپ پر کسی کو ترجیح نہیں دیتا، چنانچہ حضرت جبلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے بھائی کی رائے کو اپنی رائے سے افضل اور وزنی پایا۔
(جامع الترمذي، المناقب، حدیث: 3815)

اللہ تعالیٰ نے دور جاہلیت کی رسم کو ختم کرنا چاہا تو اس کے لیے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ بولے بیٹے حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا انتخاب کیا، چنانچہ آیت کے نزول کےبعد انھیں زید بن محمد کی بجائے زید بن حارثہ کہا جانے لگا۔
بہرحال اسلامی قانون میں لے پالک کی ایسی کوئی حیثیت نہیں ہے کہ اسے حقیقی اولاد جیسے حقوق ملیں۔
(واللہ اعلم)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4782]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6262
حضرت عبداللہ(بن عمر) رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہاکرتے تھے،ہم زید بن حارثہ کو زیدبن محمد ہی کے نام سے پکارا کرتے تھے،حتیٰ کہ قرآن مجید کی یہ آیت اُتری،"ان کو ان کے باپوں کے نام سے پکارو،اللہ کے ہاں یہی قرین انصاف ہے۔"(احزاب آیت نمبر 5)۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:6262]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حضرت زید رضی اللہ عنہ بچے تھے کہ جاہلیت کے دور میں بنوقین کے لوگوں نے ان کو اٹھا کر عکاظ کے بازار میں بیچ ڈالا اور حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے اپنی پھوپھی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے لیے خرید لیا اور انہوں نے شادی کے بعد،
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہبہ کر دیا،
آہستہ آہستہ،
ان کے والد کو پتہ چل گیا،
جو ان کے فراق کے غم میں روتے رہتے تھے،
وہ اپنے بھائی کعب کو ساتھ لے کر،
فدیہ کی رقم کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہوا،
آپ نے فرمایا،
اپنے بچے سے پوچھ لو،
اگر وہ تمہارے ساتھ جانے کے لیے تیار ہو تو مجھے کوئی انکار نہیں ہے،
لیکن اگر وہ میرے ساتھ رہنا چاہیے تو یہ ممکن نہیں ہے کہ میں اسے نظر انداز کر دوں،
حضرت زید نے آپ کے پاس اپنے کو ترجیح دی تو آپ نے جاہلیت کے دستور کے مطابق،
اعلان کر دیا،
آج سے زید میرا بیٹا ہے،
میں اس کا وارث ہوں اور وہ میرا وارث ہو گا،
اس سے حضرت زید کے باپ اور چچا خوش اور مطمئن ہو کر چلے گئے اور اس کے بعد سے حضرت زید،
زید بن محمد کہلانے لگے،
حتیٰ کہ قرآن مجید نے اس رسم کو ختم کرنے کا اعلان کر دیا،
تفصیل کے لیے دیکھئے (طبقات ابن سعد ج 3 ص 40 تا 43 اور اصابہ ج 1 ص 245 تا 246)
۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6262]

Sahih Bukhari Hadith 4782 in Urdu