🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. باب قوله: {ترجئ من تشاء منهن وتؤوي إليك من تشاء ومن ابتغيت ممن عزلت فلا جناح عليك} :
باب: آیت کی تفسیر ”اے نبی! ان (ازواج مطہرات) میں سے آپ جس کو چاہیں اپنے سے دور رکھیں اور جس کو چاہیں اپنے نزدیک رکھیں اور جن کو آپ نے الگ کر رکھا ہو ان میں سے کسی کو پھر طلب کر لیں جب بھی آپ پر کوئی گناہ نہیں“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4789
حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، عَنْ مُعَاذَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ يَسْتَأْذِنُ فِي يَوْمِ الْمَرْأَةِ مِنَّا بَعْدَ أَنْ أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: تُرْجِي مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ وَمَنِ ابْتَغَيْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلا جُنَاحَ عَلَيْكَ سورة الأحزاب آية 51، فَقُلْتُ لَهَا: مَا كُنْتِ تَقُولِينَ؟، قَالَتْ: كُنْتُ، أَقُولُ لَهُ:" إِنْ كَانَ ذَاكَ إِلَيَّ فَإِنِّي لَا أُرِيدُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ أُوثِرَ عَلَيْكَ أَحَدًا". تَابَعَهُ عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ، سَمِعَ عَاصِمًا.
ہم سے حبان بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، کہا ہم کو عاصم احول نے خبر دی، انہیں معاذہ نے اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت کے نازل ہونے کے بعد بھی «ترجئ من تشاء منهن وتؤوي إليك من تشاء ومن ابتغيت ممن عزلت فلا جناح عليك‏» کہ ان میں سے آپ جس کو چاہیں اپنے سے دور رکھیں اور جن کو آپ نے الگ کر رکھا تھا ان میں سے کسی کو طلب کر لیں جب بھی آپ پر کوئی گناہ نہیں۔ اگر (ازواج مطہرات) میں سے کسی کی باری میں کسی دوسری بیوی کے پاس جانا چاہتے تو جن کی باری ہوتی ان سے اجازت لیتے تھے (معاذہ نے بیان کیا کہ) میں نے اس پر عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ ایسی صورت میں آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا کہتی تھیں؟ انہوں نے فرمایا کہ میں تو یہ عرض کر دیتی تھی کہ یا رسول اللہ! اگر یہ اجازت آپ مجھ سے لے رہے ہیں تو میں تو اپنی باری کا کسی دوسرے پر ایثار نہیں کر سکتی۔ اس روایت کی متابعت عباد بن عباد نے کی، انہوں نے عاصم سے سنا۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4789]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿تُرْجِي مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ وَمَنِ ابْتَغَيْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكَ﴾ [سورة الأحزاب: 51] ان (بیویوں) میں سے آپ جسے چاہیں دور کر دیں اور جسے چاہیں اپنے پاس رکھ لیں۔ اور اگر آپ ان میں سے بھی کسی کو اپنے پاس بلا لیں جنہیں آپ نے الگ کر دیا تو بھی آپ پر کوئی گناہ نہیں۔ اس آیت کے نزول کے بعد بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر ہم میں سے کسی کی باری میں کسی دوسری بیوی کے پاس جانا چاہتے تو جس کی باری ہوتی اس سے اجازت لیتے تھے۔ (راویہ حدیث حضرت معاذہ رحمہ اللہ کہتی ہیں کہ) میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: ایسی صورت میں آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا کہتی تھیں؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں تو آپ سے عرض کر دیتی تھی کہ اللہ کے رسول! اگر یہ اجازت آپ مجھ سے لے رہے ہیں تو میں اپنی باری کا ایثار کسی دوسرے پر نہیں کر سکتی۔ اس حدیث کی متابعت عباد بن عباد نے کی، انہوں نے حضرت عاصم رحمہ اللہ سے یہ حدیث سنی۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4789]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عاصم الأحول، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنثقة
👤←👥عباد بن عباد المهلبي، أبو معاوية
Newعباد بن عباد المهلبي ← عاصم الأحول
ثقة
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله
Newعائشة بنت أبي بكر الصديق ← عباد بن عباد المهلبي
صحابي
👤←👥معاذة بنت عبد الله العدوية، أم الصهباء
Newمعاذة بنت عبد الله العدوية ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة
👤←👥عاصم الأحول، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن
Newعاصم الأحول ← معاذة بنت عبد الله العدوية
ثقة
👤←👥عبد الله بن المبارك الحنظلي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن المبارك الحنظلي ← عاصم الأحول
ثقة ثبت فقيه عالم جواد مجاهد جمعت فيه خصال الخير
👤←👥حبان بن موسى المروزي، أبو محمد
Newحبان بن موسى المروزي ← عبد الله بن المبارك الحنظلي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
4789
إن كان ذاك إلي فإني لا أريد أن أوثر عليك أحدا
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4789 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4789
حدیث حاشیہ:
ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جن عورتوں نے اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ہبہ کر دیا تھا ان میں سے کسی کو بھی آپ نے اپنے ساتھ نہیں رکھا اگر چہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے اسے مباح قرار دیا تھا لیکن بہر حال یہ آپ کی منشا پر موقوف تھا۔
آنحضرت کو یہ مخصوص اجازت تھی۔
قسطلانی نے کہا گو اللہ پاک نے اس آیت میں آپ کو اجازت دی تھی کہ آپ پر باری کی پابندی بھی ضروری نہیں ہے لیکن آپ نے باری کو قائم رکھا اور کسی بیوی کی باری میں آپ دوسری بیوی کے گھر نہیں رہے۔
عباد بن عباد کی روایت کو ابن مردویہ نے وصل کیا ہے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت کو طبری نے نقل کیا ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4789]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4789
حدیث حاشیہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس امر کی اجازت تھی کہ آپ جس بیوی کے پاس چاہیں قیام کر سکتے ہیں۔
آپ پر باری مقرر کرنا لازم نہیں تھا لیکن اس کے باوجود آپ نے اس کا اہتمام کیا جب سفر میں جاتے تو قرعہ اندازی کر کے اپنے ہمراہ کسی بیوی کو لے جاتے۔
(صحیح البخاري، الھبة وفضلها و التعریض علیها، حدیث: 2593)
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے اور آپ کی بیماری سنگین ہو گئی تو آپ نے دوسری بیویوں سے میرے گھر رہنے کی اجازت چاہی تمام ازواج مطہرات رضوان اللہ عنھن اجمعین نے دلی رضامندی سے آپ کو اجازت دے دی۔
(صحیح البخاري، الھبة وفضلها و التعریض علیها، حدیث: 2588)
آپ کی یہ خصوصیت تھی کہ آپ کو بیویوں کے درمیان باری مقرر کرنے میں اختیار دیا گیا تھا آپ جس کی باری چاہیں موقوف کر دیں یعنی اس سے مباشرت نہ کریں اور جس سے چاہیں یہ تعلق قائم رکھیں۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4789]

Sahih Bukhari Hadith 4789 in Urdu