🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. باب: {يوم نبطش البطشة الكبرى إنا منتقمون} :
باب: آیت کی تفسیر ”اس دن کو یاد کرو جب کہ ہم بڑی سخت پکڑ پکڑ یں گے، ہم بلا شک اس دن پورا پورا بدلہ لیں گے“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4825
حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" خَمْسٌ قَدْ مَضَيْنَ اللِّزَامُ، وَالرُّومُ، وَالْبَطْشَةُ، وَالْقَمَرُ، وَالدُّخَانُ".
ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے مسلم نے، ان سے مسروق نے اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پانچ (قرآن مجید کی پیشیں گوئیاں) گزر چکی ہیں۔ «اللزام» (بدر کی لڑائی کی ہلاکت)، «الروم» (غلبہ روم) «البطشة» (سخت پکڑ)، «القمر» (چاند کے ٹکڑے ہونا) اور «والدخان‏» دھواں، شدت فاقہ کی وجہ سے۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4825]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن مسعود، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥مسروق بن الأجدع الهمداني، أبو عائشة
Newمسروق بن الأجدع الهمداني ← عبد الله بن مسعود
ثقة
👤←👥مسلم بن صبيح الهمداني، أبو الضحى
Newمسلم بن صبيح الهمداني ← مسروق بن الأجدع الهمداني
ثقة
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← مسلم بن صبيح الهمداني
ثقة حافظ
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان
Newوكيع بن الجراح الرؤاسي ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة حافظ إمام
👤←👥يحيى بن جعفر البيكندي، أبو زكريا
Newيحيى بن جعفر البيكندي ← وكيع بن الجراح الرؤاسي
ثقة
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4825 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4825
حدیث حاشیہ:
لزام سے مراد غزوہ بدر میں کفار قریش کی ہلاکت ہے الروم سے مراد فارس پر اہل روم کا غلبہ اور الدخان سے مراد شدت فاقہ کی وجہ سے فضا میں نظر آنے والا دھواں۔
اگرچہ دھویں کا واقعہ گزر چکا ہے تاہم قرب قیامت کے وقت بھی دھواں نمودار ہوگا۔
جیسا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
چھ چیزوں کے واقع ہونے سے پہلے پہلے نیک اعمال کرنے میں جلدی کر لو۔
سورج کا مغرب سے طلوع ہونا یا دھویں کا ظاہر ہونا یا دجال کا خروج کرنا یا دابة الأرض کا نکلنا یا تم میں کسی کا خاص وقت (مدت)
آجانا یا سب کے لیے واقع ہونے والا معاملہ قیامت کا)
قائم ہو جانا۔
(صحیح مسلم، الفتن، حدیث: 3797(2947)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4825]