🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. باب: {وما آتاكم الرسول فخذوه} :
باب: آیت کی تفسیر ”اے مسلمانو! اور رسول تمہیں جو کچھ دیں اسے لے لیا کرو اور جس سے آپ روکیں اس سے رک جایا کرو“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4887
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: ذَكَرْتُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ حَدِيثَ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" لَعَنَ اللَّهُ الْوَاصِلَةَ"، فَقَالَ: سَمِعْتُهُ مِنَ امْرَأَةٍ، يُقَالُ لَهَا أُمُّ يَعْقُوبَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، مِثْلَ حَدِيثِ مَنْصُورٍ.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا، ان سے سفیان ثوری نے بیان کیا کہ میں نے عبدالرحمٰن بن عابس سے منصور بن معتمر کی حدیث کا ذکر کیا جو وہ ابراہیم سے بیان کرتے تھے کہ ان سے علقمہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر کے قدرتی بالوں کے ساتھ مصنوعی بال لگانے والیوں پر لعنت بھیجی تھی۔ عبدالرحمٰن بن عابس نے کہا کہ میں نے بھی ام یعقوب نامی ایک عورت سے سنا تھا وہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ منصور کی حدیث کے مثل بیان کرتی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4887]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر کے قدرتی بالوں کے ساتھ مصنوعی بال لگانے والی عورت پر لعنت کی ہے۔ راویِ حدیث عبدالرحمٰن بن عابس نے کہا: میں نے بھی ام یعقوب نامی ایک عورت سے سنا تھا، وہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس طرح بیان کرتی تھی جیسا کہ منصور کی حدیث میں ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4887]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن مسعود، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥أم يعقوب امرأة من بني أسد، أم يعقوب
Newأم يعقوب امرأة من بني أسد ← عبد الله بن مسعود
صحابي
👤←👥عبد الله بن مسعود، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن مسعود ← أم يعقوب امرأة من بني أسد
صحابي
👤←👥علقمة بن قيس النخعي، أبو شبل
Newعلقمة بن قيس النخعي ← عبد الله بن مسعود
ثقة ثبت
👤←👥إبراهيم النخعي، أبو عمران
Newإبراهيم النخعي ← علقمة بن قيس النخعي
ثقة
👤←👥منصور بن المعتمر السلمي، أبو عتاب
Newمنصور بن المعتمر السلمي ← إبراهيم النخعي
ثقة ثبت
👤←👥عبد الرحمن بن عابس النخعي
Newعبد الرحمن بن عابس النخعي ← منصور بن المعتمر السلمي
ثقة
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← عبد الرحمن بن عابس النخعي
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥عبد الرحمن بن مهدي العنبري، أبو سعيد
Newعبد الرحمن بن مهدي العنبري ← سفيان الثوري
ثقة ثبت حافظ عارف بالرجال والحديث
👤←👥علي بن المديني، أبو الحسن
Newعلي بن المديني ← عبد الرحمن بن مهدي العنبري
ثقة ثبت إمام أعلم أهل عصره بالحديث وعلله
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4887 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4887
حدیث حاشیہ:
قدرتی بالوں میں مصنوعی بال لگا کر خوبصورتی پیدا کرنے کا رجحان آج کل بہت بڑھ رہا ہے اللہ مسلمان عورتوں کو ہدایت بخشے۔
آمین۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4887]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4887
حدیث حاشیہ:

ام یعقوب نامی عورت نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا استدلال سن کر اس بات کا اقرار کیا کہ واقعی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی منع کردہ چیز اللہ تعالیٰ کی منع کردہ چیز ہے۔
تمام صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کا یہی فہم تھا جو انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حاصل کیا تھا، یعنی سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی شریعت کا حصہ ہے۔

اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہواکہ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کو کتاب اللہ ہی کا حصہ شمار کرتے تھے، اس بنا پر جو کوئی سنت یا حدیث کی حجیت کا منکر ہے وہ دراصل قرآن کا منکر ہے۔
ا س مقام پر حافظ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ نے بڑی خوبصورت بات کہی ہے، فرماتے ہیں:
ہمارے اسلاف جب کوئی حدیث سنتے اور اس کی تصدیق کتاب اللہ میں بھی مل جاتی تو یہ نہیں کہتے تھے کہ یہ تو کتاب اللہ پر اضافہ ہے، اس لیے ہم اسے قبول نہیں کرتے اور نہ اس پر عمل کے روا دار ہی ہیں بلکہ ان کے دلوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ارشادات کی بہت زیادہ قدر قیمت تھی۔
حدیث سننے کے بعد اس پر عمل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔
(إعلام الموقعین: 294/2)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4887]

Sahih Bukhari Hadith 4887 in Urdu