صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب: {يا أيها النبى لم تحرم ما أحل الله لك تبتغي مرضاة أزواجك والله غفور رحيم} :
باب: آیت کی تفسیر ”اے نبی! جس چیز کو اللہ نے آپ کے لیے حلال کیا ہے اسے آپ اپنے لیے کیوں حرام قرار دے رہے ہیں، محض اپنی بیویوں کی خوشی حاصل کرنے کے لیے حالانکہ یہ آپ کے لیے زیبا نہیں ہے اور اللہ بڑا بخشنے والا بڑی ہی رحمت کرنے والا ہے“۔
حدیث نمبر: Q4911
n
. [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: Q4911]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4911
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ ابْنِ حَكِيمٍ هُوَ يَعْلَى بْنُ حَكِيمٍ الثَّقَفِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" فِي الْحَرَامِ يُكَفَّرُ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: 0 لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ إِسْوَةٌ حَسَنَةٌ 0".
ہم سے معاذ بن فضالہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید قطان نے، ان سے ابن حکیم نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس نے کہا کہ اگر کسی نے اپنے اوپر کوئی حلال چیز حرام کر لی تو اس کا کفارہ دینا ہو گا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا «لقد كان لكم في رسول الله إسوة حسنة» یعنی ”بیشک تمہارے لیے تمہارے رسول اللہ کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4911]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”اگر کسی نے اپنے اوپر کوئی حلال چیز حرام کر لی تو اس کا کفارہ دینا ہو گا۔“ پھر انہوں نے یہ آیت ﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ [سورة الأحزاب: 21] تلاوت فرمائی: ”بے شک تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بہترین نمونہ ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4911]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4911 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4911
حدیث حاشیہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات کو خوش کرنے کے لیے خود پر شہد کو حرام کرلیا تھا، جس کی تفصیل آئندہ حدیث میں آ رہی ہے، اس طرح کا کام اگر کسی ضرورت ومصلحت کے لیے ہوتو جائز ہے گناہ نہیں مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسی کوئی ضرورت نہ تھی کیونکہ آپ نے یہ کام ازواج مطہرات رضوان اللہ عنھن اجمعین کو راضی کرنے کے لیے کیا تھا جبکہ ایسے معاملات میں ان کا راضی کرنا آپ پر لازم نہ تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
آپ اس قسم کا کفارہ دیں اور قسم کا کفارہ ہے:
دس مسکینوں کو اوسط درجے کا کھانا کھلایا جائے یا انھیں لباس دیا جائے یا ایک غلام لونڈی کو آزاد کیا جائے۔
اگر ان میں سے کسی چیز کی طاقت نہ ہوتو تین دن کے روزے رکھے جائیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات کو خوش کرنے کے لیے خود پر شہد کو حرام کرلیا تھا، جس کی تفصیل آئندہ حدیث میں آ رہی ہے، اس طرح کا کام اگر کسی ضرورت ومصلحت کے لیے ہوتو جائز ہے گناہ نہیں مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسی کوئی ضرورت نہ تھی کیونکہ آپ نے یہ کام ازواج مطہرات رضوان اللہ عنھن اجمعین کو راضی کرنے کے لیے کیا تھا جبکہ ایسے معاملات میں ان کا راضی کرنا آپ پر لازم نہ تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
آپ اس قسم کا کفارہ دیں اور قسم کا کفارہ ہے:
دس مسکینوں کو اوسط درجے کا کھانا کھلایا جائے یا انھیں لباس دیا جائے یا ایک غلام لونڈی کو آزاد کیا جائے۔
اگر ان میں سے کسی چیز کی طاقت نہ ہوتو تین دن کے روزے رکھے جائیں۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4911]
Sahih Bukhari Hadith 4911 in Urdu
سعيد بن جبير الأسدي ← عبد الله بن العباس القرشي