🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. باب: {وأولات الأحمال أجلهن أن يضعن حملهن ومن يتق الله يجعل له من أمره يسرا} :
باب: آیت کی تفسیر ”سو حمل والیوں کی عدت ان کے بچے کا پیدا ہو جانا ہے اور جو کوئی اللہ سے ڈرے اللہ اس کے کام میں آسانی پیدا کر دے گا“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4910
وَقَالَ:سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَأَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ: كُنْتُ فِي حَلْقَةٍ فِيهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى، وَكَانَ أَصْحَابُهُ يُعَظِّمُونَهُ، فَذَكَرُوا لَهُ، فَذَكَرَ آخِرَ الْأَجَلَيْنِ، فَحَدَّثْتُ بِحَدِيثِ سُبَيْعَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، قَالَ: فَضَمَّزَ لِي بَعْضُ أَصْحَابِهِ، قَالَ مُحَمَّدٌ: فَفَطِنْتُ لَهُ، فَقُلْتُ: إِنِّي إِذًا لَجَرِيءٌ إِنْ كَذَبْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ وَهُوَ فِي نَاحِيَةِ الْكُوفَةِ فَاسْتَحْيَا، وَقَالَ: لَكِنْ عَمُّهُ لَمْ يَقُلْ ذَاكَ، فَلَقِيتُ أَبَا عَطِيَّةَ مَالِكَ بْنَ عَامِرٍ، فَسَأَلْتُهُ، فَذَهَبَ يُحَدِّثُنِي حَدِيثَ سُبَيْعَةَ، فَقُلْتُ: هَلْ سَمِعْتَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ فِيهَا شَيْئًا؟ فَقَالَ: كُنَّا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ، فَقَالَ: أَتَجْعَلُونَ عَلَيْهَا التَّغْلِيظَ وَلَا تَجْعَلُونَ عَلَيْهَا الرُّخْصَةَ لَنَزَلَتْ سُورَةُ النِّسَاءِ الْقُصْرَى بَعْدَ الطُّولَى وَأُولاتُ الأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ سورة الطلاق آية 4.
اور سلیمان بن حرب اور النعمان نے بیان کیا، کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب نے اور ان سے محمد بن سیرین نے بیان کیا کہ میں ایک مجلس میں جس میں عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ بھی تھے موجود تھا۔ ان کے شاگرد ان کی بہت عزت کیا کرتے تھے۔ میں نے وہاں سبیعہ بنت الحارث کا عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے بیان کیا کہ اس پر ان کے شاگرد نے زبان اور آنکھوں کے اشارے سے ہونٹ کاٹ کر مجھے تنبیہ کی۔ محمد بن سیرین نے بیان کیا کہ میں سمجھ گیا اور کہا کہ عبداللہ بن عتبہ کوفہ میں ابھی زندہ موجود ہیں۔ اگر میں ان کی طرف بھی جھوٹ نسبت کرتا ہوں تو بڑی جرات کی بات ہو گی مجھے تنبیہ کرنے والے صاحب اس پر شرمندہ ہو گئے اور عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے کہا لیکن ان کے چچا تو یہ بات نہیں کرتے تھے۔ (ابن سیرین نے بیان کیا کہ) پھر میں ابوعطیہ مالک بن عامر سے ملا اور ان سے یہ مسئلہ پوچھا وہ بھی سبیعہ والی حدیث بیان کرنے لگے لیکن میں نے ان سے کہا آپ نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی اس سلسلہ میں کچھ سنا ہے؟ انہوں نے بیان کیا کہ ہم عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر تھے تو انہوں نے کہا کیا تم اس پر (جس کے شوہر کا انتقال ہو گیا اور وہ حاملہ ہو۔ عدت کی مدت کو طول دے کر) سختی کرنا چاہتے ہو اور رخصت و سہولت دینے کے لیے تیار نہیں، بات یہ ہے کہ چھوٹی سورۃ نساء یعنی (سورۃ الطلاق) بڑی سورۃ النساء کے بعد نازل ہوئی ہے اور کہا «وأولات الأحمال أجلهن أن يضعن حملهن‏» الایۃ اور حمل والیوں کی عدت ان کے حمل کا پیدا ہو جانا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4910]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن مسعود، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥سبيعة بنت الحارث الأسلمية
Newسبيعة بنت الحارث الأسلمية ← عبد الله بن مسعود
صحابي
👤←👥مالك بن أبي حمرة الهمداني، أبو عطية
Newمالك بن أبي حمرة الهمداني ← سبيعة بنت الحارث الأسلمية
مختلف في صحبته
👤←👥عبد الله بن عتبة الهذلي، أبو عبيد الله، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن عتبة الهذلي ← مالك بن أبي حمرة الهمداني
له رؤية
👤←👥سبيعة بنت الحارث الأسلمية
Newسبيعة بنت الحارث الأسلمية ← عبد الله بن عتبة الهذلي
صحابي
👤←👥محمد بن سيرين الأنصاري، أبو بكر
Newمحمد بن سيرين الأنصاري ← سبيعة بنت الحارث الأسلمية
ثقة ثبت كبير القدر لا يرى الرواية بالمعنى
👤←👥أيوب السختياني، أبو عثمان، أبو بكر
Newأيوب السختياني ← محمد بن سيرين الأنصاري
ثقة ثبتت حجة
👤←👥حماد بن زيد الأزدي، أبو إسماعيل
Newحماد بن زيد الأزدي ← أيوب السختياني
ثقة ثبت فقيه إمام كبير مشهور
👤←👥محمد بن الفضل السدوسي، أبو النعمان
Newمحمد بن الفضل السدوسي ← حماد بن زيد الأزدي
ثقة ثبت تغير في آخر عمره
👤←👥سليمان بن حرب الواشحي، أبو أيوب
Newسليمان بن حرب الواشحي ← محمد بن الفضل السدوسي
ثقة إمام حافظ
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4910 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4910
حدیث حاشیہ:
لمبی مدت سے جس کا خاوند فوت ہو گیا ہو چار ماہ اور دس دن مراد ہیں۔
حاملہ عورت جس کا شوہر وفات پا گیا ہو ان کی عدت سے متعلق عدت کے سلسلے میں جمہور کا یہی مسلک ہے کہ بچہ کا پیدا ہو جانا ہی اس کی عدت ہے اوراس کے بعد وہ دوسرا نکاح کرسکتی ہے خواہ مدت طویل ہو یا مختصر۔
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا بھی یہی مسلک تھا پس ان کے بارے میں حضرت عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کا خیال صحیح نہیں تھا جیسا کہ مالک بن عامر کی روایت سے ظاہر ہوتا ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ مدت طویل کے قائل تھے مگر یہ خیال ان کا صحیح نہ تھا۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کو عام عربی محاورہ کے مطابق اپنا بھتیجا کہہ دیا جبکہ ان میں کوئی ظاہری قرابت نہ تھی۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4910]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4910
حدیث حاشیہ:

لمبی مدت سے مراد یہ ہے کہ اگر کسی عورت کا خاوند فوت ہو جائے اور وہ حمل سے ہوتو اگر چارماہ دس دن کے اندر اندر بچہ پیدا نہ ہو تو سے وضع حمل تک انتظار کرنا ہوگا اور اس سے پہلے بچہ پیدا ہو جائے تو اسے چار ماہ دس دن پورے کرنے ہوں گے۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ أبعد الأجلین کے قائل تھے۔
وہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق کہتے تھے کہ میرے موقف کے حامی ہیں لیکن ان کا یہ خیال صحیح نہیں تھا جیسا کہ ابوعطیہ مالک بن عامر نے اس کی صراحت کی ہے۔

بہرحال جس حاملہ عورت کا شوہر فوت ہو جائے، اس کی عدت وضع حمل ہے۔
اس کے بعد اسے عقدثانی کرنے کی اجازت ہے۔
جمہور اہل علم کا یہی موقف ہے۔
وضع حمل، خواہ دیر سے ہو یا جلدی، اسے بچہ پیدا ہونے تک انتظار کرنا ہوگا۔
اس مسئلے کی مزید تفصیل کتاب الطلاق میں پیش کی جائے گی۔
بإذن اللہ تعالیٰ۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4910]