🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب: {ودا ولا سواعا ولا يغوث ويعوق} :
باب: آیت کی تفسیر ”ود اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q4920-3
قَالَ ابْنُ جُبَيْرٍ: عِيشَةٍ رَاضِيَةٍ: يُرِيدُ فِيهَا الرِّضَا، الْقَاضِيَةَ: الْمَوْتَةَ الْأُولَى الَّتِي مُتُّهَا لَمْ أُحْيَ بَعْدَهَا، مِنْ أَحَدٍ عَنْهُ حَاجِزِينَ: أَحَدٌ يَكُونُ لِلْجَمْعِ وَلِلْوَاحِدِ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: الْوَتِينَ: نِيَاطُ الْقَلْبِ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: طَغَى: كَثُرَ، وَيُقَالُ: بِالطَّاغِيَةِ: بِطُغْيَانِهِمْ، وَيُقَالُ: طَغَتْ عَلَى الْخَزَّانِ كَمَا طَغَى الْمَاءُ عَلَى قَوْمِ نُوحٍ.
‏‏‏‏ «عيشة راضية‏ مرضية‏»، «مرضية‏» کے معنی میں ہے یعنی پسندیدہ عیش۔ «القاضية‏» پہلی موت یعنی کاش پہلی موت جو آئی تھی اس کے بعد میں مرا ہی رہتا پھر زندہ نہ ہوتا۔ «من أحد عنه حاجزين‏ أحد» کا اطلاق مفرد اور جمع دونوں پر آتا ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا «وتين‏» سے مراد جان کی رگ جس کے کٹنے سے آدمی مر جاتا ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا «طغى‏ الماء» یعنی پانی بہت چڑھ گیا۔ «بالطاغية‏» اپنی شرارت کی وجہ سے بعضوں نے کہا «طاغيه» سے آندھی مراد ہے اس نے اتنا زور کیا کہ فرشتوں کے اختیار سے باہر ہو گئی جیسے پانی نے نوح علیہ السلام کی قوم پر زور کیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: Q4920-3]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q4920-2
الْفَصِيلَةُ أَصْغَرُ آبَائِهِ الْقُرْبَى إِلَيْهِ يَنْتَمِي مَنِ انْتَمَى، لِلشَّوَى: الْيَدَانِ وَالرِّجْلَانِ وَالْأَطْرَافُ وَجِلْدَةُ الرَّأْسِ، يُقَالُ: لَهَا شَوَاةٌ وَمَا كَانَ غَيْرَ مَقْتَلٍ فَهُوَ شَوًى عِزِينَ وَالْعِزُونَ الْحِلَقُ وَالْجَمَاعَاتُ وَوَاحِدُهَا عِزَةٌ.
‏‏‏‏ «فصيلة» نزدیک کا دادا جس کی طرف آدمی کو نسبت دی جاتی ہے۔ «شوى‏» دونوں ہاتھ پاؤں، بدن کے کنارے، سر کی کھال اس کو «شواة» کہتے ہیں اور جس عضو کے کاٹنے سے آدمی مرتا نہیں ہے وہ «شوى‏» ہے۔ «عزون» گروہ گروہ کا مفرد «عزة‏.‏» ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: Q4920-2]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q4920
إِنَّا أَرْسَلْنَا أَطْوَارًا طَوْرًا: كَذَا وَطَوْرًا كَذَا، يُقَالُ: عَدَا طَوْرَهُ أَيْ قَدْرَهُ وَالْكُبَّارُ أَشَدُّ مِنَ الْكِبَارِ، وَكَذَلِكَ جُمَّالٌ وَجَمِيلٌ لِأَنَّهَا أَشَدُّ مُبَالَغَةً، وَكُبَّارٌ الْكَبِيرُ وَكُبَارًا أَيْضًا بِالتَّخْفِيفِ وَالْعَرَبُ، تَقُولُ رَجُلٌ حُسَّانٌ وَجُمَّالٌ وَحُسَانٌ مُخَفَّفٌ وَجُمَالٌ مُخَفَّفٌ، دَيَّارًا: مِنْ دَوْرٍ، وَلَكِنَّهُ فَيْعَالٌ مِنَ الدَّوَرَانِ كَمَا قَرَأَ عُمَرُ الْحَيُّ الْقَيَّامُ وَهِيَ مِنْ قُمْتُ وَقَالَ غَيْرُهُ: دَيَّارًا أَحَدًا تَبَارًا هَلَاكًا، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: مِدْرَارًا يَتْبَعُ بَعْضُهَا بَعْضًا وَقَارًا عَظَمَةً.
‏‏‏‏ «أطوارا‏» کبھی کچھ کبھی کچھ مثلاً منی پھر گوشت کا لوتھڑا عرب لوگ کہتے ہیں «عدا طوره‏.‏» اپنے انداز سے بڑھ گیا۔ «كبار» (بہ تشدید باء) میں «كبار» سے زیادہ مبالغہ ہے یعنی بہت ہی بڑا، جیسے جمیل خوبصورت، جمال بہت ہی خوبصورت غرض «كبار» کا معنی بڑا کبھی اس کو «كبار» تخفیف باء سے بھی پڑھا ہے۔ عرب لوگ کہتے ہیں «حسان» اور «جمال» (تشدید سے) اور «حسان» اور «جمال» (تخفیف سے)۔ «ديارا‏»، «دور» سے نکلا ہے۔ اس کا وزن «فيعال» ہے (اصل میں دیوار تھا) جیسے عمر رضی اللہ عنہ نے «الحى القيوم‏.‏» کو «الحى القيام‏.‏» پڑھا ہے۔ یہ قیامت «قمت‏» سے نکلا ہے (تو اصل میں «قيوام» تھا)۔ اوروں نے کہا «ديارا‏» کے معنی کسی کو «تبارا‏» ہلاکت۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا «مدرارا‏» ایک کے پیچھے دوسرا یعنی لگاتار بارش۔ «وقارا‏» عظمت بڑائی مراد ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: Q4920]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4920
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، وَقَالَ عَطَاءٌ: عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، صَارَتِ الْأَوْثَانُ الَّتِي كَانَتْ فِي قَوْمِ نُوحٍ فِي الْعَرَبِ بَعْدُ أَمَّا وَدٌّ كَانَتْ لِكَلْبٍ بِدَوْمَةِ الْجَنْدَلِ، وَأَمَّا سُوَاعٌ كَانَتْ لِهُذَيْلٍ، وَأَمَّا يَغُوثُ فَكَانَتْ لِمُرَادٍ، ثُمَّ لِبَنِي غُطَيْفٍ بِالْجَوْفِ عِنْدَ سَبَإٍ، وَأَمَّا يَعُوقُ فَكَانَتْ لِهَمْدَانَ، وَأَمَّا نَسْرٌ فَكَانَتْ لِحِمْيَرَ لِآلِ ذِي الْكَلَاعِ، أَسْمَاءُ رِجَالٍ صَالِحِينَ مِنْ قَوْمِ نُوحٍ، فَلَمَّا هَلَكُوا أَوْحَى الشَّيْطَانُ إِلَى قَوْمِهِمْ أَنِ انْصِبُوا إِلَى مَجَالِسِهِمُ الَّتِي كَانُوا يَجْلِسُونَ أَنْصَابًا وَسَمُّوهَا بِأَسْمَائِهِمْ، فَفَعَلُوا فَلَمْ تُعْبَدْ حَتَّى إِذَا هَلَكَ أُولَئِكَ، وَتَنَسَّخَ الْعِلْمُ عُبِدَتْ".
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو ہشام نے خبر دی، ان سے ابن جریج نے اور عطاء نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جو بت نوح علیہ السلام کی قوم میں پوجے جاتے تھے بعد میں وہی عرب میں پوجے جانے لگے۔ ود دومۃ الجندل میں بنی کلب کا بت تھا۔ سواع بنی ہذیل کا۔ یغوث بنی مراد کا اور مراد کی شاخ بنی غطیف کا جو وادی اجوف میں قوم سبا کے پاس رہتے تھے یعوق بنی ہمدان کا بت تھا۔ نسر حمیر کا بت تھا جو ذوالکلاع کی آل میں سے تھے۔ یہ پانچوں نوح علیہ السلام کی قوم کے نیک لوگوں کے نام تھے جب ان کی موت ہو گئی تو شیطان نے ان کے دل میں ڈالا کہ اپنی مجلسوں میں جہاں وہ بیٹھے تھے ان کے بت قائم کر لیں اور ان بتوں کے نام اپنے نیک لوگوں کے نام پر رکھ لیں چنانچہ ان لوگوں نے ایسا ہی کیا اس وقت ان بتوں کی پوجا نہیں ہوتی تھی لیکن جب وہ لوگ بھی مر گئے جنہوں نے بت قائم کئے تھے اور علم لوگوں میں نہ رہا تو ان کی پوجا ہونے لگی۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4920]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥عطاء بن أبي رباح القرشي، أبو محمد
Newعطاء بن أبي رباح القرشي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثبت رضي حجة إمام كبير الشأن
👤←👥ابن جريج المكي، أبو خالد، أبو الوليد
Newابن جريج المكي ← عطاء بن أبي رباح القرشي
ثقة
👤←👥هشام بن يوسف الأبناوي، أبو عبد الرحمن
Newهشام بن يوسف الأبناوي ← ابن جريج المكي
ثقة
👤←👥إبراهيم بن موسى التميمي، أبو إسحاق
Newإبراهيم بن موسى التميمي ← هشام بن يوسف الأبناوي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
4920
صارت الاوثان التي كانت في قوم نوح في العرب بعد اما ود كانت لكلب بدومة الجندل
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4920 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4920
حدیث حاشیہ:
بت پرستی کی ابتدا جملہ بت پرستوں کی اقوام میں اس طرح شروع ہوئی کہ انہوں نے اپنے نیک لوگوں کے ناموں پربت بنا لئے۔
پہلے عبادت میں ان کو سامنے رکھنے لگے شیطان نے یہ فریب اس طرح چلایا کہ ان بتوں کے دیکھنے سے بزرگوں کی یاد تازہ رہے گی اور عبادت میں دل لگے گا، رفتہ رفتہ وہ بت ہی خود معبود بنا لئے گئے۔
تمام بت پرستوں کا آج تک یہی حال ہے پس دنیا میں بت پرستی یوں شروع ہوئی۔
اسی لئے اسلامی شریعت میں اللہ تعالیٰ نے بت اورصورت کے بنانے سے منع فرما دیا اور یہ حکم دیا کہ جہاں بت یا صورت دیکھو اس کو توڑ پھوڑ کر پھینک دو کیونکہ یہ چیزیں اخیر میں شرک کا ذریعہ ہو گئیں اسلامی شریعت میں یاد گار کے لئے بھی بت یا صورت کا بنانا درست نہیں اور کوئی کتنے ہی مقدس پیغمبر یا اوتار کی صورت ہو اس کی کوئی عزت یا حرمت نہیں کرنا چاہئے کیونکہ وہ صرف ایک مورت ہے جس کا اسلام میں کوئی وزن نہیں۔
مسلمانوں کو ہمیشہ اپنے اس اصول مذہبی کا خیال رکھنا چاہئے اور کسی بادشاہ یا بزرگ کے بت بنانے میں ان کا بالکل مدد نہ کرنا چاہئے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وتعاونوا علی البر والتقویٰ ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان (المائدة: 2) (وحیدی)
مگر یہ کس قدر افسوسناک حرکت ہے کہ بعض تعزیہ پرست حضرات تعزیہ کے ساتھ حضرت فاطمۃ الزہراء کی کاغذی صورت بنا کر تعزیہ کے آگے رکھتے اور اس کا پورا ادب بجا لاتے ہیں۔
کتنے نام نہاد مسلمانوں نے مزار اولیاء کے فوٹو لے کر ان کو گھروں میں رکھا ہوا ہے اور صبح اور شام ان کو معطر کرکے ان پر پھول چڑھاتے اور ان کی تعظیم کرتے ہیں یہ جملہ حرکات بت سازی اور بت پرستی ہی کی شکلیں ہیں۔
اللہ پاک مسلمانوں کو نیک سمجھ عطا کرے کہ وہ ایسی حرکتوں سے باز رہیں ورنہ میدان محشر میں سخت ترین رسوائی کے لئے تیار رہیں۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4920]

مولانا محمد ابوالقاسم سيف بنارسي حفظ الله، دفاع بخاري، تحت الحديث صحيح بخاري 4920
فقہ الحدیث
معترض (منکرین حدیث) کا اعتراض:
امام بخاری نے حدیث کی سند میں عطا خراسانی کو عطاء بن ابی رباح سمجھ لیا ہے، حالانکہ وہ عطاء خراسانی ہے، اور اس کو نہ ابن عباس سے سماع ہے اور نہ اس سے ابن جریج کو، لہٰذا حدیث منقع ہو گئی۔
تبصرہ:
میں کہتا ہوں کہ سند بخاری میں تو صرف یوں مرقوم ہے: «قال عطاء عن ابن عباس» ان عطاء کے خراسانی ہونے کی کیا دلیل ہے؟ بحالیکہ اس میں خراسانی کی کوئی تصریح نہیں ہے۔
میں کہتا ہوں کہ وہ عطا بن ابی رباح ہے، جس سے انقطاع کا شبہ بالکل مدفوع ہے۔ بناءِ ثبوت جب صرف اقوالِ شارحین پر ہی موقوف ہے، تو ہم سے سنئے: قسطلانی میں ہے:
«لكن البخاري ما أخرجه الاّ على أنه من رواية عطاء بن أبى رباح، لأن الخراساني ليس على شرطه، ولقائل أن يقول: هذا ليس بقاطع فى أنّ عطاء المذكور هو الخراساني فيحتمل أن يكون هذا الحديث عند ابن جريج عن الخراساني وابن ابي رباح جميعا» [283/7]
یعنی امام بخاری نے اس حدیث کو عطا بن ابی رباح کی روایت سے بیان کیا ہے، اس لئے کہ عطاء خراسانی ان کی شرط پر نہیں ہے، کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ اس کے یقین ہونے کا کیا ثبوت ہے کہ یہ عطا خراسانی ہی ہے؟ بلکہ احتمال ہے کہ ابن جریج کے پاس، یہ حدیث عطاء خراسانی و عطاء بن ابی رباح ہر دو کی روایت سے ہو اور امام بخاری نے اس سے عطا بن ابی رباح مراد لیا ہو۔ (کیونکہ عطا خراسانی ان کی شرط پر نہیں ہے۔) «فإذا جاء الاحتمال بطل الاستدلال!»
↰ لہٰذا خراسانی کا تعین باطل ہو گیا۔

علامہ عینی سے اس کی بابت جو آپ نے «فيه نظر» کا جملہ نقل کیا ہے، اس میں خود نظر ہے، اس لیے کہ حالات رواۃ امام بخاری پر پوشیدہ نہ تھے، ہاں «فسبحان من لا يخفيٰ عليه شيء» تو تمام اشیائے موجودہ فی السماءوالارض وما تحت الثری کے متعلق ہے۔ جن کا جاننے والا اللہ تعالیٰ ہے، کیونکہ عالم الغیب وہی ہے۔

حافظ ابن حجر لکھتے ہیں:
«الذي قوي عندي أن هذا الحديث بخصوصه عند ابن جريج عن عطاء الخرساني وعن عطاء بن أبى رباح جميعا انتهي» [فتح الباري: 377/2]
یعنی یہ حدیث خاص کر ابن جریح کے پاس عطاء خراسانی و عطا بن ابی رباح ہر دو کی سند سے ہے۔
اور اس جواب کو علامہ عینی نے بھی نقل کیا ہے، جسے مولوی عمر کریم نے بھی اہل فقہ میں نقل کیا ہے، لیکن اس پر علامہ عینی کا احتمال امکان کہ یہ شاید امام بخاری پر پوشیدہ رہا ہو، بے ثبوت و خلاف ہداہت ہے۔ افسوس کے ایسے مہمل اور لایعنی اعتراضات سے معترض خود اپنی قلیل البضاعتی کا اظہار کرتے ہیں، اللہ ہدایت دے۔ آمین۔
[دفاع صحیح بخاری، حدیث/صفحہ نمبر: 364]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4920
حدیث حاشیہ:

بت پرست اقوام میں بت پرستی کا آغاز اسی طرح ہوا کہ قوم میں جو نیک لوگ ہوا کرتے تھے جب وہ فوت ہو گئے تو شیطان نے دوسرے لوگوں کے دلوں میں یہ بات ڈال دی کہ جن مقامات پر یہ بزرگ حضرات بیٹھا کرتے تھے۔
تم وہاں ان کی مورتیاں بنا کر رکھ دو تا کہ ان کے کارنامےتمھیں یاد آئیں اور تم ان کی پیروی میں سستی نہ کرو۔
اگر تم نے ان کی مورتیاں بنا کر نہ رکھیں تو تم انھیں بھلا بیٹھو گے اور صراط مستقیم پر چلنے کے لیے تمھارے سامنے کوئی نمونہ نہیں ہو گا، چنانچہ لوگوں نے ایسا ہی کیا اس وقت مورتیاں بنانے والوں کے عقائد درست تھے۔
جب ان کی وفات ہو گئی اور ان کی اولاد میں علم باقی نہ رہا تو ان مورتیوں کی عبادت ہونے لگی اس لیے ہماری شریعت میں بت اور تصویر کشی منع ہے بلکہ یہ حکم ہے کہ جہاں بت یا تصویر نظر آئے اسے توڑ دیا جائے کیونکہ یہ چیزیں آخر کار شرک کا ذریعہ بن جاتی ہیں اس دین میں یاد گار کے طور پر بھی بت یا تصویر بنانا منع ہے۔

اب یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان بتوں کے پجاری مشرک تو طوفان نوح میں غرق ہو گئے تھے اور جو باقی بچے تھے وہ سب موحد اور مومن تھے، پھر اس کے بعد ان کی پوجا کیسے شروع ہو گئی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جس طرح شیطان نے پہلے لوگوں کو دھوکے اور فریب سے نیک لوگوں کی پرستش پر لگا دیا تھا۔
شیطان کی وہی چال بعد میں بھی کامیاب رہی۔
موحدین نے اپنی اولاد کو طوفان نوح کا قصہ بتایا چند پشتیں گزرنے کے بعد پھر ان بتوں سے لوگوں کی عقیدت پیدا ہو گئی پھر ان کی عبادت ہونے لگی۔
واللہ اعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4920]