یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
91. سورة {والشمس وضحاها} :
باب: سورۃ «والشمس وضحاها» کی تفسیر۔
حدیث نمبر: Q4942-4
وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: عَامِلَةٌ نَاصِبَةٌ: النَّصَارَى، وَقَالَ مُجَاهِدٌ: عَيْنٍ آنِيَةٍ: بَلَغَ إِنَاهَا وَحَانَ شُرْبُهَا، حَمِيمٍ آنٍ: بَلَغَ إِنَاهُ، لَا تَسْمَعُ فِيهَا لَاغِيَةً: شَتْمًا وَيُقَالُ الضَّرِيعُ نَبْتٌ يُقَالُ لَهُ الشِّبْرِقُ يُسَمِّيهِ أَهْلُ الْحِجَازِ الضَّرِيعَ إِذَا يَبِسَ وَهُوَ سُمٌّ، بِمُسَيْطِرٍ: بِمُسَلَّطٍ وَيُقْرَأُ بِالصَّادِ وَالسِّينِ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِيَابَهُمْ: مَرْجِعَهُمْ.
اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا «عاملة ناصبة» سے نصاریٰ مراد ہیں۔ مجاہد نے کہ «عين آنية» یعنی گرمی کی حد کو پہنچ گیا اس کے پینے کا وقت آن پہنچا (سورۃ الرحمن میں) «حميم آن» کا بھی یہی معنی ہے یعنی گرمی کی حد کو پہنچ گیا۔ «لا تسمع فيها لاغية» وہاں گالی گلوچ نہیں سنائی دے گی۔ «الضريع» ایک بھاجی ہے جسے «شبرق» کہتے ہیں حجاز والے اس کو «ضريع» کہتے ہیں جب وہ سوکھ جاتی ہے یہ زہر ہے۔ «بمسيطر» (سین سے) مطلقاً کڑوی بعضوں نے صاد سے پڑھا ہے «بمصيطر» ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا «إيابهم» ان کا لوٹنا۔ «عاملة ناصبه» سے اہل بیعت مراد ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: Q4942-4]
حدیث نمبر: Q4942-3
وَقَالَ مُجَاهِدٌ: الْوَتْرُ اللَّهُ إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ: يَعْنِي الْقَدِيمَةَ وَالْعِمَادُ أَهْلُ عَمُودٍ لَا يُقِيمُونَ، سَوْطَ عَذَابٍ: الَّذِي عُذِّبُوا بِهِ، أَكْلًا لَمًّا: السَّفُّ، وَجَمًّا: الْكَثِيرُ، وَقَالَ مُجَاهِدٌ: كُلُّ شَيْءٍ خَلَقَهُ فَهُوَ شَفْعٌ السَّمَاءُ شَفْعٌ وَالْوَتْرُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى، وَقَالَ غَيْرُهُ: سَوْطَ عَذَابٍ: كَلِمَةٌ تَقُولُهَا الْعَرَبُ لِكُلِّ نَوْعٍ مِنَ الْعَذَابِ يَدْخُلُ فِيهِ السَّوْطُ، لَبِالْمِرْصَادِ: إِلَيْهِ الْمَصِيرُ، تَحَاضُّونَ: تُحَافِظُونَ وَتَحُضُّونَ تَأْمُرُونَ بِإِطْعَامِهِ، الْمُطْمَئِنَّةُ: الْمُصَدِّقَةُ بِالثَّوَابِ، وَقَالَ الْحَسَنُ: يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ: إِذَا أَرَادَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَبْضَهَا اطْمَأَنَّتْ إِلَى اللَّهِ وَاطْمَأَنَّ اللَّهُ إِلَيْهَا وَرَضِيَتْ عَنِ اللَّهِ وَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَأَمَرَ بِقَبْضِ رُوحِهَا وَأَدْخَلَهَا اللَّهُ الْجَنَّةَ وَجَعَلَهُ مِنْ عِبَادِهِ الصَّالِحِينَ، وَقَالَ غَيْرُهُ: جَابُوا: نَقَبُوا مِنْ جِيبَ الْقَمِيصُ قُطِعَ لَهُ جَيْبٌ يَجُوبُ الْفَلَاةَ يَقْطَعُهَا، لَمًّا: لَمَمْتُهُ أَجْمَعَ أَتَيْتُ عَلَى آخِرِهِ.
مجاہد نے کہا «وتر» سے مراد اللہ تعالیٰ ہے۔ «إرم ذات العماد» سے پرانی قوم عاد مراد ہے۔ «عماد» کے معنی خیمہ کے ہیں، یہ لوگ خانہ بدوش تھے۔ جہاں پانی چارہ پاتے وہیں خیمہ لگا کر رہ جاتے۔ «سوط عذاب» کا معنی یہ کہ ان کو عذاب دیا گیا۔ «أكلا لما» سب چیز سمیٹ کر کھا جانا۔ «حبا جما» بہت محبت رکھنا۔ مجاہد نے کہا اللہ نے جس چیز کو پیدا کیا وہ ( «شفع») جوڑا ہے آسمان بھی زمین کا جوڑا ہے اور «وتر» صرف اللہ پاک ہی ہے۔ اوروں نے کہا «سوط عذاب» یہ عرب کا ایک محاورہ ہے جو ہر ایک قسم کے عذاب کو کہتے ہیں من جملہ ان کے ایک کوڑے کا بھی عذاب ہے۔ «لبالمرصاد» یعنی اللہ کی طرف سب کو پھر جانا ہے۔ «لا تحاضون» (الف کے ساتھ جیسے مشہور قرآت ہے) محافظت نہیں کرتے ہو بعضوں نے «متحضون» پڑھا ہے یعنی حکم نہیں دیتے ہو، «المطمئنة» وہ نفس جو اللہ کے ثواب پر یقین رکھنے والا ہو، مومن، کامل الایمان۔ امام حسن بصری نے کہا «نفس المطمئنة» وہ نفس کہ جب اللہ اس کو بلانا چاہے (موت آئے) تو اللہ کے پاس چین نصیب ہو، اللہ اس سے خوش ہو، وہ اللہ سے خوش ہو۔ پھر اللہ اس کی روح قبض کرنے کا حکم دے اور اس کو بہشت میں لے جائے، اپنے نیک بندوں میں شامل فرما دے۔ اوروں نے کہا «جابوا» کا معنی کریدکرید کر مکان بنانا یہ «جيب» سے نکلا ہے جب اس میں «جيب» لگائی جائے، اسی طرح عرب لوگ کہتے ہیں «فلان يجوب الفلاة» وہ جنگل قطع کرتا ہے «لما» عرب لوگ کہتے ہیں «لممته» جمع میں اس کے اخیر تک پہنچ گیا۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: Q4942-3]
حدیث نمبر: Q4942-2
وَقَالَ مُجَاهِدٌ: وَأَنْتَ حِلٌّ بِهَذَا الْبَلَدِ: بِمَكَّةَ لَيْسَ عَلَيْكَ مَا عَلَى النَّاسِ فِيهِ مِنَ الْإِثْمِ، وَوَالِدٍ: آدَمَ، وَمَا وَلَدَ، لُبَدًا: كَثِيرًا، وَالنَّجْدَيْنِ: الْخَيْرُ وَالشَّرُّ، مَسْغَبَةٍ، مَجَاعَةٍ: مَتْرَبَةٍ، السَّاقِطُ فِي التُّرَابِ يُقَالُ: فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ، فَلَمْ يَقْتَحِمْ الْعَقَبَةَ فِي الدُّنْيَا، ثُمَّ فَسَّرَ الْعَقَبَةَ، فَقَالَ: وَمَا أَدْرَاكَ مَا الْعَقَبَةُ، فَكُّ رَقَبَةٍ، أَوْ إِطْعَامٌ فِي يَوْمٍ ذِي مَسْغَبَةٍ.
مجاہد نے کہا «بهذا البلد» سے مکہ مراد ہے۔ مطلب یہ ہے کہ خاص تیرے لیے یہ شہر حلال ہوا اوروں کو وہاں لڑنا گناہ ہے۔ «والد» سے آدم، «وما ولد» سے ان کی اولاد مراد ہے۔ «لبدا» بہت سارا۔ «النجدين» دو رستے بھلے اور برے۔ «مسغبة» بھوک۔ «متربة» مٹی میں پڑا رہنا مراد ہے۔ «فلا اقتحم العقبة» یعنی اس نے دنیا میں گھاٹی نہیں پھاندی پھر گھاٹی پھاندنے کو آگے بیان کیا۔ «برده» غلام آزاد کرنا بھوک اور تکلیف کے دن بھوکوں کو کھانا کھلانا۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: Q4942-2]
حدیث نمبر: Q4942
وَقَالَ مُجَاهِدٌ: بِطَغْوَاهَا: بِمَعَاصِيهَا، وَلَا يَخَافُ عُقْبَاهَا: عُقْبَى أَحَدٍ.
مجاہد نے کہا کہ «بطغواها» اپنے گناہوں کی وجہ سے۔ «ولا يخاف عقباها» یعنی اللہ کو کسی کا ڈر نہیں کہ کوئی اس سے بدلہ لے سکے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: Q4942]
حدیث نمبر: 4942
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَمْعَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ وَذَكَرَ النَّاقَةَ وَالَّذِي عَقَرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذِ انْبَعَثَ أَشْقَاهَا سورة الشمس آية 12" انْبَعَثَ لَهَا رَجُلٌ عَزِيزٌ عَارِمٌ مَنِيعٌ فِي رَهْطِهِ مِثْلُ أَبِي زَمْعَةَ، وَذَكَرَ النِّسَاءَ، فَقَالَ:" يَعْمِدُ أَحَدُكُمْ فَيَجْلِدُ امْرَأَتَهُ جَلْدَ الْعَبْدِ، فَلَعَلَّهُ يُضَاجِعُهَا مِنْ آخِرِ يَوْمِهِ، ثُمَّ وَعَظَهُمْ فِي ضَحِكِهِمْ مِنَ الضَّرْطَةِ، وَقَالَ: لِمَ يَضْحَكُ أَحَدُكُمْ مِمَّا يَفْعَلُ"، وَقَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مِثْلُ أَبِي زَمْعَةَ عَمِّ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا، ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور انہیں عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک خطبہ میں صالح علیہ السلام کی اونٹنی کا ذکر فرمایا اور اس شخص کا بھی ذکر فرمایا جس نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالی تھیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا «إذ انبعث أشقاها» یعنی اس اونٹنی کو مار ڈالنے کے لیے ایک مفسد بدبخت (قدار نامی) کو اپنی قوم میں ابوزمعہ کی طرح غالب اور طاقتور تھا اٹھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے حقوق کا بھی ذکر فرمایا کہ تم میں بعض اپنی بیوی کو غلام کی طرح کوڑے مارتے ہیں حالانکہ اسی دن کے ختم ہونے پر وہ اس سے ہمبستری بھی کرتے ہیں۔ پھر آپ نے انہیں ریاح خارج ہونے پر ہنسنے سے منع فرمایا اور فرمایا کہ ایک کام جو تم میں ہر شخص کرتا ہے اسی پر تم دوسروں پر کس طرح ہنستے ہو۔ ابومعاویہ نے بیان کیا کہ ہم سے ہشام بن عروہ بن زبیر نے، ان سے عبداللہ بن زمعہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس حدیث میں) یوں فرمایا ابوزمعہ کی طرح جو زبیر بن عوام کا چچا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4942]
حضرت عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک خطبے میں حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی کا ذکر فرمایا اور اس شخص کا بھی ذکر کیا جس نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالی تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ﴿إِذِ انْبَعَثَ أَشْقَاهَا﴾ [سورة الشمس: 12] کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا: ”اس اونٹنی کو مارنے کے لیے ایک ایسا بدبخت اور فسادی شخص اٹھا جو اپنی قوم میں ابو زمعہ کی طرح غالب اور طاقتور تھا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مجلس میں عورتوں کا ذکر کیا تو فرمایا: ”تم میں سے کچھ لوگ اپنی بیویوں کو نوکروں اور غلاموں کی طرح پیٹتے ہیں، پھر دن کے اختتام پر ان سے ہم بستری بھی کرتے ہیں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہوا خارج ہونے (انسانی ہوا کے خارج ہونے) پر ہنسنے سے منع کیا اور فرمایا: ”تم میں سے کوئی اس فعل پر کیوں ہنستا ہے جو وہ خود بھی کرتا ہے۔“ ابو معاویہ نے کہا: ہمیں ہشام نے بتایا: وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابو زمعہ کی طرح، جو زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کا چچا تھا۔“ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4942]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
4942
| إذ انبعث أشقاها |
صحيح البخاري |
3377
| وذكر الذي عقر الناقة قال انتدب لها رجل ذو عز ومنعة في قوة كأبي زمعة |
صحيح مسلم |
7191
| إذ انبعث أشقاها انبعث بها رجل عزيز عارم منيع في رهطه مثل أبي زمعة إلام يجلد أحدكم امرأته جلد الأمة ولعله يضاجعها من آخر يومه وعظهم في ضحكهم من الضرطة فقال إلام يضحك أحدكم مما يفعل |
جامع الترمذي |
3343
| إذ انبعث أشقاها |
المعجم الصغير للطبراني |
703
| وعظ فى الضحك من الضرطة ، قال : على ما يضحك أحدكم مما يصنع |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4942 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4942
حدیث حاشیہ:
کیونکہ ابو زمعہ مطلب بن اسد کا بیٹا تھا اور زبیر بن عوام بن خویلد بن اسد کے بیٹے تھے تو ابو زمعہ عوام کا چچا زاد بھائی تھا جو زبیر کا چچا ہوا۔
اس روایت کو اسحاق بن راہویہ نے اپنی سند میں وصل کیا ہے۔
سورۃ والشمس مکہ میں اتری حدیث میں ہے آپ عشاء کی نماز میں یہ سورت اوراسی کے برابر کی سورت پڑھتے۔
(و القمرِ إِذَا تَلاھَا)
اور چاند جب کہ اس کے پیچھے آئے یعنی سورج چھپ جائے اور چاند چمکنے لگے پھر دن کی قسم کھائی جب کہ وہ منور ہو جائے۔
امام جریر فرماتے ہیں کہ ان سب میں ضمیر ھا کا مرجع شمس ہے کیونکہ ا س کا ذکر چل رہا ہے۔
ابن ابی حاتم کی ایک روایت میں ہے کہ جب رات آتی ہے تواللہ پاک فرماتا ہے میرے بندوں کو میری ایک بہت بڑی خلق نے چھپا لیا پس مخلوق رات سے ہیبت کرتی ہے، اس کے پیدا کرنے والے سے اور زیادہ ہیبت چاہئے پھر آسمان کی قسم کھاتا ہے۔
یہاں جو ما ہے یہ مصدریہ بھی ہوسکتا ہے، یعنی آسمان اور اس کی بناوٹ کی قسم اور ما بمعنی من کے بھی ہوسکتا ہے تو مطلب یہ ہوگا کہ آسمان کی قسم اور اس کے بنانے والے کی قسم۔
مترجم مرحوم مولانا وحید الزماں نے یہی ترجمہ اختیار فرمایا ہے۔
(وحیدی)
کیونکہ ابو زمعہ مطلب بن اسد کا بیٹا تھا اور زبیر بن عوام بن خویلد بن اسد کے بیٹے تھے تو ابو زمعہ عوام کا چچا زاد بھائی تھا جو زبیر کا چچا ہوا۔
اس روایت کو اسحاق بن راہویہ نے اپنی سند میں وصل کیا ہے۔
سورۃ والشمس مکہ میں اتری حدیث میں ہے آپ عشاء کی نماز میں یہ سورت اوراسی کے برابر کی سورت پڑھتے۔
(و القمرِ إِذَا تَلاھَا)
اور چاند جب کہ اس کے پیچھے آئے یعنی سورج چھپ جائے اور چاند چمکنے لگے پھر دن کی قسم کھائی جب کہ وہ منور ہو جائے۔
امام جریر فرماتے ہیں کہ ان سب میں ضمیر ھا کا مرجع شمس ہے کیونکہ ا س کا ذکر چل رہا ہے۔
ابن ابی حاتم کی ایک روایت میں ہے کہ جب رات آتی ہے تواللہ پاک فرماتا ہے میرے بندوں کو میری ایک بہت بڑی خلق نے چھپا لیا پس مخلوق رات سے ہیبت کرتی ہے، اس کے پیدا کرنے والے سے اور زیادہ ہیبت چاہئے پھر آسمان کی قسم کھاتا ہے۔
یہاں جو ما ہے یہ مصدریہ بھی ہوسکتا ہے، یعنی آسمان اور اس کی بناوٹ کی قسم اور ما بمعنی من کے بھی ہوسکتا ہے تو مطلب یہ ہوگا کہ آسمان کی قسم اور اس کے بنانے والے کی قسم۔
مترجم مرحوم مولانا وحید الزماں نے یہی ترجمہ اختیار فرمایا ہے۔
(وحیدی)
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4942]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4942
حدیث حاشیہ:
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو بےجا پیٹنے سے منع فرمایا ہے نیز پاد کی آواز کی طرف توجہ نہ دینے کی ترغیب دی ہے۔
دور جاہلیت میں لوگ پاد کی آواز سن کر ہنسا کرتے تھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ جب ایسی چیز واقع ہو تو اس کی طرف توجہ ہی نہ دی جائے۔
حضرت لوط علیہ السلام کی قوم میں یہ حرکت عام تھی کہ وہ اپنی مجالس میں جان بوجھ کر پاد مارتے پھر اس پر ہنسا کرتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔
واللہ اعلم۔
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو بےجا پیٹنے سے منع فرمایا ہے نیز پاد کی آواز کی طرف توجہ نہ دینے کی ترغیب دی ہے۔
دور جاہلیت میں لوگ پاد کی آواز سن کر ہنسا کرتے تھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ جب ایسی چیز واقع ہو تو اس کی طرف توجہ ہی نہ دی جائے۔
حضرت لوط علیہ السلام کی قوم میں یہ حرکت عام تھی کہ وہ اپنی مجالس میں جان بوجھ کر پاد مارتے پھر اس پر ہنسا کرتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔
واللہ اعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4942]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3343
سورۃ «والشمس وضحاھا» سے بعض آیات کی تفسیر۔
عبداللہ بن زمعہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک دن اس اونٹنی کا (مراد صالح علیہ السلام کی اونٹنی) اور جس شخص نے اس اونٹنی کی کوچیں کاٹی تھیں کا ذکر کرتے ہوئے سنا، آپ نے یہ آیت «إذ انبعث أشقاها» تلاوت کی، اس کام کے لیے ایک «شرِّ» سخت دل طاقتور، قبیلے کا قوی و مضبوط شخص اٹھا، مضبوط و قوی ایسا جیسے زمعہ کے باپ ہیں، پھر میں نے آپ کو عورتوں کا ذکر کرتے ہوئے سنا، آپ نے فرمایا: ”آخر کیوں کوئی اپنی بیوی کو غلام کو کوڑے مارنے کی طرح کوڑے مارتا ہے اور جب کہ اسے توقع ہوتی ہے کہ وہ اس دن کے آخری حصہ میں (یعنی رات میں) اس۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3343]
عبداللہ بن زمعہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک دن اس اونٹنی کا (مراد صالح علیہ السلام کی اونٹنی) اور جس شخص نے اس اونٹنی کی کوچیں کاٹی تھیں کا ذکر کرتے ہوئے سنا، آپ نے یہ آیت «إذ انبعث أشقاها» تلاوت کی، اس کام کے لیے ایک «شرِّ» سخت دل طاقتور، قبیلے کا قوی و مضبوط شخص اٹھا، مضبوط و قوی ایسا جیسے زمعہ کے باپ ہیں، پھر میں نے آپ کو عورتوں کا ذکر کرتے ہوئے سنا، آپ نے فرمایا: ”آخر کیوں کوئی اپنی بیوی کو غلام کو کوڑے مارنے کی طرح کوڑے مارتا ہے اور جب کہ اسے توقع ہوتی ہے کہ وہ اس دن کے آخری حصہ میں (یعنی رات میں) اس۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3343]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس حدیث میں صالح علیہ السلام کی اونٹنی کی کوچیں کاٹنے والے بدبخت کے ذکر کے ساتھ اسلام کی دو اہم ترین اخلاقی تعلیمات کا ذکر ہے۔ 1۔
اپنی شریک زندگی کے ساتھ حسن سلوک کرنے اور 2۔
مجلس میں کسی کی ریاح زورسے خارج ہو جانے پر نہ ہنسنے کا مشورہ،
کس حکیمانہ پیرائے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں باتوں کی تلقین کی ہے! قابلِ غور ہے،
فداہ أبي وأمي۔
وضاحت:
1؎:
اس حدیث میں صالح علیہ السلام کی اونٹنی کی کوچیں کاٹنے والے بدبخت کے ذکر کے ساتھ اسلام کی دو اہم ترین اخلاقی تعلیمات کا ذکر ہے۔ 1۔
اپنی شریک زندگی کے ساتھ حسن سلوک کرنے اور 2۔
مجلس میں کسی کی ریاح زورسے خارج ہو جانے پر نہ ہنسنے کا مشورہ،
کس حکیمانہ پیرائے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں باتوں کی تلقین کی ہے! قابلِ غور ہے،
فداہ أبي وأمي۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3343]
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7191
حضرت عبد اللہ بن زمعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطاب فرمایا اور اس میں (حضرت صالح کی) اونٹنی کا ذکر کیا اور اس کی کونچیں کاٹنے والے کا تذکرہ کیا، چنانچہ فرمایا:"جب قوم کا سب سے بڑا بد بخت اٹھا، یعنی اس کے لیے وہ شخص اٹھا جو غالب سر کش و مفسد اور اپنے خاندان کی پناہ و حفاظت رکھنے والا اٹھا جیسے ابو زمعہ ہے۔" پھر آپ نے عورتوں کا ذکر کیا اور ان کو نصیحت فرمائی، پھر فرمایا:"تم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی کو... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:7191]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
عزيز،
طاقت ور،
سب پر غالب،
معزز۔
(2)
عارم:
بدخلق،
شریر،
مفسدہ پرداز،
(3)
منيع:
مضبوط،
قوی جس پر کوئی قابونہ پاسکے،
یہ آدمی قدار بن سالف نامی تھا۔
مفردات الحدیث:
(1)
عزيز،
طاقت ور،
سب پر غالب،
معزز۔
(2)
عارم:
بدخلق،
شریر،
مفسدہ پرداز،
(3)
منيع:
مضبوط،
قوی جس پر کوئی قابونہ پاسکے،
یہ آدمی قدار بن سالف نامی تھا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7191]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3377
3377. حضرت عبد اللہ بن زمعہ ؓسے روایت ہے، انھوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ نے اس شخص کا ذکر کیا جس نے حضرت صالح ؑ کی اونٹنی کو قتل کیا تھا تو فرمایا: ”اس اونٹنی کو قتل کرنے کے لیے وہ شخص تیار ہوا جو غلبہ و طاقت اور مرتبے و عزت کے اعتبار سے اپنی قوم میں ابو زمعہ ؓ کی طرح تھا۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3377]
حدیث حاشیہ:
قرآن کریم نے اس اونٹنی کے قتل کا واقعہ ان الفاظ میں بیان کیا ہے۔
﴿كَذَّبَتْ ثَمُودُ بِطَغْوَاهَا (11)
إِذِ انبَعَثَ أَشْقَاهَا (12)
فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ نَاقَةَ اللَّهِ وَسُقْيَاهَا (13)
فَكَذَّبُوهُ فَعَقَرُوهَا فَدَمْدَمَ عَلَيْهِمْ رَبُّهُم بِذَنبِهِمْ فَسَوَّاهَا﴾ ”(قوم)
ثمود نے اپنی سر کشی کی وجہ سے جھٹلادیا۔
جب اس قوم کا سب سے بڑا بد بخت اٹھ کھڑا ہوا تو ان سے اللہ کے رسول (صالح)
نے کہا اللہ کی اونٹنی اور اس کے پینے کی باری کا خیال رکھو۔
انھوں نے اس (رسول)
کو جھٹلایا اور اونٹنی کو مار ڈالاتو ان کے رب نے ان کے گناہ کی وجہ سے انھیں پیس کر ہلاک کردیا پھر اس (بستی)
کو برابر یعنی ملیامیٹ کردیا۔
“ (الشمس11-
13)
روایات میں اس کا نام قدار بن سالف بتایا گیا ہے جو بڑا شریر اور مضبوط جسم والا تھا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عزت و قوت میں اسے ابو زمعہ جیسا قراردیا ہے جس کا نام اسود بن مطلب تھا جو اپنی قوم میں رسہ گیر تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اڑانے والے ان لوگوں میں سےتھا جن کے متعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿إِنَّا كَفَيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِئِينَ﴾ ”قیناًآپ کی طرف سے ہم مذاق کرنے والوں کو کافی ہیں۔
“ (الحجر: 95/15)
حضرت جبرئیل ؑ نے اپنا پر مار کر اسے اندھا کردیا تھا۔
(عمدة القاري: 11/97۔
98)
قرآن کریم نے اس اونٹنی کے قتل کا واقعہ ان الفاظ میں بیان کیا ہے۔
﴿كَذَّبَتْ ثَمُودُ بِطَغْوَاهَا (11)
إِذِ انبَعَثَ أَشْقَاهَا (12)
فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ نَاقَةَ اللَّهِ وَسُقْيَاهَا (13)
فَكَذَّبُوهُ فَعَقَرُوهَا فَدَمْدَمَ عَلَيْهِمْ رَبُّهُم بِذَنبِهِمْ فَسَوَّاهَا﴾ ”(قوم)
ثمود نے اپنی سر کشی کی وجہ سے جھٹلادیا۔
جب اس قوم کا سب سے بڑا بد بخت اٹھ کھڑا ہوا تو ان سے اللہ کے رسول (صالح)
نے کہا اللہ کی اونٹنی اور اس کے پینے کی باری کا خیال رکھو۔
انھوں نے اس (رسول)
کو جھٹلایا اور اونٹنی کو مار ڈالاتو ان کے رب نے ان کے گناہ کی وجہ سے انھیں پیس کر ہلاک کردیا پھر اس (بستی)
کو برابر یعنی ملیامیٹ کردیا۔
“ (الشمس11-
13)
روایات میں اس کا نام قدار بن سالف بتایا گیا ہے جو بڑا شریر اور مضبوط جسم والا تھا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عزت و قوت میں اسے ابو زمعہ جیسا قراردیا ہے جس کا نام اسود بن مطلب تھا جو اپنی قوم میں رسہ گیر تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اڑانے والے ان لوگوں میں سےتھا جن کے متعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿إِنَّا كَفَيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِئِينَ﴾ ”قیناًآپ کی طرف سے ہم مذاق کرنے والوں کو کافی ہیں۔
“ (الحجر: 95/15)
حضرت جبرئیل ؑ نے اپنا پر مار کر اسے اندھا کردیا تھا۔
(عمدة القاري: 11/97۔
98)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3377]
Sahih Bukhari Hadith 4942 in Urdu
عروة بن الزبير الأسدي ← عبد الله بن زمعة القرشي