یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
13. باب النار يدخلها الجبارون والجنة يدخلها الضعفاء:
باب: اس بات کے بیان میں کہ دوزخ میں ظالم و متکبر داخل ہوں گے اور جنت میں کمزور و مسکین داخل ہوں گے۔
ترقیم عبدالباقی: 2855 ترقیم شاملہ: -- 7191
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ ، قَالَ: خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ النَّاقَةَ وَذَكَرَ الَّذِي عَقَرَهَا، فَقَالَ: " إِذْ انْبَعَثَ أَشْقَاهَا انْبَعَثَ بِهَا رَجُلٌ عَزِيزٌ عَارِمٌ مَنِيعٌ فِي رَهْطِهِ مِثْلُ أَبِي زَمْعَةَ "، ثُمَّ ذَكَرَ النِّسَاءَ فَوَعَظَ فِيهِنَّ، ثُمَّ قَالَ: " إِلَامَ يَجْلِدُ أَحَدُكُمُ امْرَأَتَهُ ". فِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ جَلْدَ الْأَمَةِ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي كُرَيْبٍ جَلْدَ الْعَبْدِ، وَلَعَلَّهُ يُضَاجِعُهَا مِنْ آخِرِ يَوْمِهِ ثُمَّ وَعَظَهُمْ فِي ضَحِكِهِمْ مِنَ الضَّرْطَةِ، فَقَالَ: " إِلَامَ يَضْحَكُ أَحَدُكُمْ مِمَّا يَفْعَلُ ".
ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابوکریب نے ہمیں حدیث بیان کی، دونوں نے کہا: ہمیں ابن نمیر نے ہشام بن عروہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ ارشاد فرمایا، تو (حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی کا اور اس کی کونچیں کاٹنے والے شخص کا ذکر فرمایا، پھر آپ نے پڑھا: ﴿إِذِ انْبَعَثَ أَشْقَاهَا﴾ (الشمس: 12) ”جب اس (قبیلے) کا بدبخت ترین شخص اٹھا“ (آپ نے فرمایا: قبیلہ ثمود کا) سب سے طاقتور، شر پھیلانے والا، جس کو اپنی قوم کا پورا تحفظ حاصل تھا، جس طرح ابوزمعہ (اسود بن مطلب) ہے، (کونچیں کاٹنے کے لیے) اٹھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سلسلے میں عورتوں کا بھی ذکر کیا، (صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین کو) ان کے بارے میں وعظ و نصیحت فرمائی، پھر فرمایا: ”کیا وجہ ہے کہ تم میں سے کوئی اپنی بیوی کو (اس طرح) کوڑے سے مارتا ہے“۔ ابوبکر کی روایت میں ہے: ”جس طرح لونڈی کو مارتا ہے“ اور ابوکریب کی روایت میں ہے: ”جس طرح غلام کو مارتا ہے۔ پھر شاید دن کے آخر میں اسی کے ساتھ ہم بستری کرے گا“۔ پھر ان (صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین) کو گوز پر ہنسنے کے بارے میں نصیحت فرمائی: ”تم میں سے کوئی کب تک اس کام پر ہنستا رہے گا جسے وہ خود کرتا ہے“۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7191]
حضرت عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطاب فرمایا اور اس میں (حضرت صالح کی) اونٹنی کا ذکر کیا اور اس کی کونچیں کاٹنے والے کا تذکرہ کیا، چنانچہ فرمایا:"جب قوم کا سب سے بڑا بد بخت اٹھا، یعنی اس کے لیے وہ شخص اٹھا جو غالب سر کش و مفسد اور اپنے خاندان کی پناہ و حفاظت رکھنے والا اٹھا جیسے ابو زمعہ ہے۔" پھر آپ نے عورتوں کا ذکر کیا اور ان کو نصیحت فرمائی، پھر فرمایا:"تم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی کو کیوں مارتا ہے۔"ابو بکر کی روایت میں ہے۔"لونڈی کی مار۔"اور ابو کریب کی روایت میں ہے،"غلام کو مارنے کی طرح،شاید اس دن کے آخر میں، وہ اسے تعلقات قائم کرنے کی ضرورت محسوس کرے۔"پھر انہیں آواز سے ہوا خارج کرنے پر ہنسنے کے سلسلہ میں نصیحت فرمائی،سوفرمایا:"تم میں سے کوئی شخص،اپنے فعل پر کیوں ہنستا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7191]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2855
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن زمعة القرشي | صحابي | |
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله عروة بن الزبير الأسدي ← عبد الله بن زمعة القرشي | ثقة فقيه مشهور | |
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر هشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي | ثقة إمام في الحديث | |
👤←👥عبد الله بن نمير الهمداني، أبو هشام عبد الله بن نمير الهمداني ← هشام بن عروة الأسدي | ثقة صاحب حديث من أهل السنة | |
👤←👥محمد بن العلاء الهمداني، أبو كريب محمد بن العلاء الهمداني ← عبد الله بن نمير الهمداني | ثقة حافظ | |
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر ابن أبي شيبة العبسي ← محمد بن العلاء الهمداني | ثقة حافظ صاحب تصانيف |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
4942
| إذ انبعث أشقاها |
صحيح البخاري |
3377
| وذكر الذي عقر الناقة قال انتدب لها رجل ذو عز ومنعة في قوة كأبي زمعة |
صحيح مسلم |
7191
| إذ انبعث أشقاها انبعث بها رجل عزيز عارم منيع في رهطه مثل أبي زمعة إلام يجلد أحدكم امرأته جلد الأمة ولعله يضاجعها من آخر يومه وعظهم في ضحكهم من الضرطة فقال إلام يضحك أحدكم مما يفعل |
جامع الترمذي |
3343
| إذ انبعث أشقاها |
المعجم الصغير للطبراني |
703
| وعظ فى الضحك من الضرطة ، قال : على ما يضحك أحدكم مما يصنع |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 7191 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7191
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
عزيز،
طاقت ور،
سب پر غالب،
معزز۔
(2)
عارم:
بدخلق،
شریر،
مفسدہ پرداز،
(3)
منيع:
مضبوط،
قوی جس پر کوئی قابونہ پاسکے،
یہ آدمی قدار بن سالف نامی تھا۔
مفردات الحدیث:
(1)
عزيز،
طاقت ور،
سب پر غالب،
معزز۔
(2)
عارم:
بدخلق،
شریر،
مفسدہ پرداز،
(3)
منيع:
مضبوط،
قوی جس پر کوئی قابونہ پاسکے،
یہ آدمی قدار بن سالف نامی تھا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7191]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3343
سورۃ «والشمس وضحاھا» سے بعض آیات کی تفسیر۔
عبداللہ بن زمعہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک دن اس اونٹنی کا (مراد صالح علیہ السلام کی اونٹنی) اور جس شخص نے اس اونٹنی کی کوچیں کاٹی تھیں کا ذکر کرتے ہوئے سنا، آپ نے یہ آیت «إذ انبعث أشقاها» تلاوت کی، اس کام کے لیے ایک «شرِّ» سخت دل طاقتور، قبیلے کا قوی و مضبوط شخص اٹھا، مضبوط و قوی ایسا جیسے زمعہ کے باپ ہیں، پھر میں نے آپ کو عورتوں کا ذکر کرتے ہوئے سنا، آپ نے فرمایا: ”آخر کیوں کوئی اپنی بیوی کو غلام کو کوڑے مارنے کی طرح کوڑے مارتا ہے اور جب کہ اسے توقع ہوتی ہے کہ وہ اس دن کے آخری حصہ میں (یعنی رات میں) اس۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3343]
عبداللہ بن زمعہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک دن اس اونٹنی کا (مراد صالح علیہ السلام کی اونٹنی) اور جس شخص نے اس اونٹنی کی کوچیں کاٹی تھیں کا ذکر کرتے ہوئے سنا، آپ نے یہ آیت «إذ انبعث أشقاها» تلاوت کی، اس کام کے لیے ایک «شرِّ» سخت دل طاقتور، قبیلے کا قوی و مضبوط شخص اٹھا، مضبوط و قوی ایسا جیسے زمعہ کے باپ ہیں، پھر میں نے آپ کو عورتوں کا ذکر کرتے ہوئے سنا، آپ نے فرمایا: ”آخر کیوں کوئی اپنی بیوی کو غلام کو کوڑے مارنے کی طرح کوڑے مارتا ہے اور جب کہ اسے توقع ہوتی ہے کہ وہ اس دن کے آخری حصہ میں (یعنی رات میں) اس۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3343]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس حدیث میں صالح علیہ السلام کی اونٹنی کی کوچیں کاٹنے والے بدبخت کے ذکر کے ساتھ اسلام کی دو اہم ترین اخلاقی تعلیمات کا ذکر ہے۔ 1۔
اپنی شریک زندگی کے ساتھ حسن سلوک کرنے اور 2۔
مجلس میں کسی کی ریاح زورسے خارج ہو جانے پر نہ ہنسنے کا مشورہ،
کس حکیمانہ پیرائے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں باتوں کی تلقین کی ہے! قابلِ غور ہے،
فداہ أبي وأمي۔
وضاحت:
1؎:
اس حدیث میں صالح علیہ السلام کی اونٹنی کی کوچیں کاٹنے والے بدبخت کے ذکر کے ساتھ اسلام کی دو اہم ترین اخلاقی تعلیمات کا ذکر ہے۔ 1۔
اپنی شریک زندگی کے ساتھ حسن سلوک کرنے اور 2۔
مجلس میں کسی کی ریاح زورسے خارج ہو جانے پر نہ ہنسنے کا مشورہ،
کس حکیمانہ پیرائے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں باتوں کی تلقین کی ہے! قابلِ غور ہے،
فداہ أبي وأمي۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3343]
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4942
4942. حضرت عبداللہ بن زمعہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ نے اپنے ایک خطبے میں حضرت صالح ؑ کی اونٹنی کا ذکر فرمایا اور اس شخص کا بھی ذکر کیا جس نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالی تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (إِذِ ٱنۢبَعَثَ أَشْقَىٰهَا) کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا: ”اس اونٹنی کو مارنے کے لیے ایک بدبخت اور فسادی اٹھا جو اپنی قوم میں ابو زمعہ کی طرح غالب اور طاقتور تھا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مجلس میں عورتوں کا ذکر کیا تو فرمایا: ”تم میں سے کچھ لوگ اپنی بیویوں کو نوکروں اور غلاموں کی طرح پیٹتے ہیں، پھر دن کے اختتام پر اس سے ہم بستری بھی کرتے ہیں۔“ پھر آپ نے پادنے (انسانی ہوا کے خارج ہونے) پر ہنسنے سے منع کیا اور فرمایا: ”تم میں سے کوئی اس فعل پر کیوں ہنستا ہے جو وہ خود بھی کرتا ہے۔“ ابو معاویہ نے کہا: ہمیں ہشام نے بتایا: وہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں، وہ عبداللہ بن زمعہ سے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابو۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:4942]
حدیث حاشیہ:
کیونکہ ابو زمعہ مطلب بن اسد کا بیٹا تھا اور زبیر بن عوام بن خویلد بن اسد کے بیٹے تھے تو ابو زمعہ عوام کا چچا زاد بھائی تھا جو زبیر کا چچا ہوا۔
اس روایت کو اسحاق بن راہویہ نے اپنی سند میں وصل کیا ہے۔
سورۃ والشمس مکہ میں اتری حدیث میں ہے آپ عشاء کی نماز میں یہ سورت اوراسی کے برابر کی سورت پڑھتے۔
(و القمرِ إِذَا تَلاھَا)
اور چاند جب کہ اس کے پیچھے آئے یعنی سورج چھپ جائے اور چاند چمکنے لگے پھر دن کی قسم کھائی جب کہ وہ منور ہو جائے۔
امام جریر فرماتے ہیں کہ ان سب میں ضمیر ھا کا مرجع شمس ہے کیونکہ ا س کا ذکر چل رہا ہے۔
ابن ابی حاتم کی ایک روایت میں ہے کہ جب رات آتی ہے تواللہ پاک فرماتا ہے میرے بندوں کو میری ایک بہت بڑی خلق نے چھپا لیا پس مخلوق رات سے ہیبت کرتی ہے، اس کے پیدا کرنے والے سے اور زیادہ ہیبت چاہئے پھر آسمان کی قسم کھاتا ہے۔
یہاں جو ما ہے یہ مصدریہ بھی ہوسکتا ہے، یعنی آسمان اور اس کی بناوٹ کی قسم اور ما بمعنی من کے بھی ہوسکتا ہے تو مطلب یہ ہوگا کہ آسمان کی قسم اور اس کے بنانے والے کی قسم۔
مترجم مرحوم مولانا وحید الزماں نے یہی ترجمہ اختیار فرمایا ہے۔
(وحیدی)
کیونکہ ابو زمعہ مطلب بن اسد کا بیٹا تھا اور زبیر بن عوام بن خویلد بن اسد کے بیٹے تھے تو ابو زمعہ عوام کا چچا زاد بھائی تھا جو زبیر کا چچا ہوا۔
اس روایت کو اسحاق بن راہویہ نے اپنی سند میں وصل کیا ہے۔
سورۃ والشمس مکہ میں اتری حدیث میں ہے آپ عشاء کی نماز میں یہ سورت اوراسی کے برابر کی سورت پڑھتے۔
(و القمرِ إِذَا تَلاھَا)
اور چاند جب کہ اس کے پیچھے آئے یعنی سورج چھپ جائے اور چاند چمکنے لگے پھر دن کی قسم کھائی جب کہ وہ منور ہو جائے۔
امام جریر فرماتے ہیں کہ ان سب میں ضمیر ھا کا مرجع شمس ہے کیونکہ ا س کا ذکر چل رہا ہے۔
ابن ابی حاتم کی ایک روایت میں ہے کہ جب رات آتی ہے تواللہ پاک فرماتا ہے میرے بندوں کو میری ایک بہت بڑی خلق نے چھپا لیا پس مخلوق رات سے ہیبت کرتی ہے، اس کے پیدا کرنے والے سے اور زیادہ ہیبت چاہئے پھر آسمان کی قسم کھاتا ہے۔
یہاں جو ما ہے یہ مصدریہ بھی ہوسکتا ہے، یعنی آسمان اور اس کی بناوٹ کی قسم اور ما بمعنی من کے بھی ہوسکتا ہے تو مطلب یہ ہوگا کہ آسمان کی قسم اور اس کے بنانے والے کی قسم۔
مترجم مرحوم مولانا وحید الزماں نے یہی ترجمہ اختیار فرمایا ہے۔
(وحیدی)
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4942]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3377
3377. حضرت عبد اللہ بن زمعہ ؓسے روایت ہے، انھوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ نے اس شخص کا ذکر کیا جس نے حضرت صالح ؑ کی اونٹنی کو قتل کیا تھا تو فرمایا: ”اس اونٹنی کو قتل کرنے کے لیے وہ شخص تیار ہوا جو غلبہ و طاقت اور مرتبے و عزت کے اعتبار سے اپنی قوم میں ابو زمعہ ؓ کی طرح تھا۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3377]
حدیث حاشیہ:
قرآن کریم نے اس اونٹنی کے قتل کا واقعہ ان الفاظ میں بیان کیا ہے۔
﴿كَذَّبَتْ ثَمُودُ بِطَغْوَاهَا (11)
إِذِ انبَعَثَ أَشْقَاهَا (12)
فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ نَاقَةَ اللَّهِ وَسُقْيَاهَا (13)
فَكَذَّبُوهُ فَعَقَرُوهَا فَدَمْدَمَ عَلَيْهِمْ رَبُّهُم بِذَنبِهِمْ فَسَوَّاهَا﴾ ”(قوم)
ثمود نے اپنی سر کشی کی وجہ سے جھٹلادیا۔
جب اس قوم کا سب سے بڑا بد بخت اٹھ کھڑا ہوا تو ان سے اللہ کے رسول (صالح)
نے کہا اللہ کی اونٹنی اور اس کے پینے کی باری کا خیال رکھو۔
انھوں نے اس (رسول)
کو جھٹلایا اور اونٹنی کو مار ڈالاتو ان کے رب نے ان کے گناہ کی وجہ سے انھیں پیس کر ہلاک کردیا پھر اس (بستی)
کو برابر یعنی ملیامیٹ کردیا۔
“ (الشمس11-
13)
روایات میں اس کا نام قدار بن سالف بتایا گیا ہے جو بڑا شریر اور مضبوط جسم والا تھا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عزت و قوت میں اسے ابو زمعہ جیسا قراردیا ہے جس کا نام اسود بن مطلب تھا جو اپنی قوم میں رسہ گیر تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اڑانے والے ان لوگوں میں سےتھا جن کے متعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿إِنَّا كَفَيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِئِينَ﴾ ”قیناًآپ کی طرف سے ہم مذاق کرنے والوں کو کافی ہیں۔
“ (الحجر: 95/15)
حضرت جبرئیل ؑ نے اپنا پر مار کر اسے اندھا کردیا تھا۔
(عمدة القاري: 11/97۔
98)
قرآن کریم نے اس اونٹنی کے قتل کا واقعہ ان الفاظ میں بیان کیا ہے۔
﴿كَذَّبَتْ ثَمُودُ بِطَغْوَاهَا (11)
إِذِ انبَعَثَ أَشْقَاهَا (12)
فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ نَاقَةَ اللَّهِ وَسُقْيَاهَا (13)
فَكَذَّبُوهُ فَعَقَرُوهَا فَدَمْدَمَ عَلَيْهِمْ رَبُّهُم بِذَنبِهِمْ فَسَوَّاهَا﴾ ”(قوم)
ثمود نے اپنی سر کشی کی وجہ سے جھٹلادیا۔
جب اس قوم کا سب سے بڑا بد بخت اٹھ کھڑا ہوا تو ان سے اللہ کے رسول (صالح)
نے کہا اللہ کی اونٹنی اور اس کے پینے کی باری کا خیال رکھو۔
انھوں نے اس (رسول)
کو جھٹلایا اور اونٹنی کو مار ڈالاتو ان کے رب نے ان کے گناہ کی وجہ سے انھیں پیس کر ہلاک کردیا پھر اس (بستی)
کو برابر یعنی ملیامیٹ کردیا۔
“ (الشمس11-
13)
روایات میں اس کا نام قدار بن سالف بتایا گیا ہے جو بڑا شریر اور مضبوط جسم والا تھا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عزت و قوت میں اسے ابو زمعہ جیسا قراردیا ہے جس کا نام اسود بن مطلب تھا جو اپنی قوم میں رسہ گیر تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اڑانے والے ان لوگوں میں سےتھا جن کے متعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿إِنَّا كَفَيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِئِينَ﴾ ”قیناًآپ کی طرف سے ہم مذاق کرنے والوں کو کافی ہیں۔
“ (الحجر: 95/15)
حضرت جبرئیل ؑ نے اپنا پر مار کر اسے اندھا کردیا تھا۔
(عمدة القاري: 11/97۔
98)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3377]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4942
4942. حضرت عبداللہ بن زمعہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ نے اپنے ایک خطبے میں حضرت صالح ؑ کی اونٹنی کا ذکر فرمایا اور اس شخص کا بھی ذکر کیا جس نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالی تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (إِذِ ٱنۢبَعَثَ أَشْقَىٰهَا) کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا: ”اس اونٹنی کو مارنے کے لیے ایک بدبخت اور فسادی اٹھا جو اپنی قوم میں ابو زمعہ کی طرح غالب اور طاقتور تھا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مجلس میں عورتوں کا ذکر کیا تو فرمایا: ”تم میں سے کچھ لوگ اپنی بیویوں کو نوکروں اور غلاموں کی طرح پیٹتے ہیں، پھر دن کے اختتام پر اس سے ہم بستری بھی کرتے ہیں۔“ پھر آپ نے پادنے (انسانی ہوا کے خارج ہونے) پر ہنسنے سے منع کیا اور فرمایا: ”تم میں سے کوئی اس فعل پر کیوں ہنستا ہے جو وہ خود بھی کرتا ہے۔“ ابو معاویہ نے کہا: ہمیں ہشام نے بتایا: وہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں، وہ عبداللہ بن زمعہ سے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابو۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:4942]
حدیث حاشیہ:
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو بےجا پیٹنے سے منع فرمایا ہے نیز پاد کی آواز کی طرف توجہ نہ دینے کی ترغیب دی ہے۔
دور جاہلیت میں لوگ پاد کی آواز سن کر ہنسا کرتے تھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ جب ایسی چیز واقع ہو تو اس کی طرف توجہ ہی نہ دی جائے۔
حضرت لوط علیہ السلام کی قوم میں یہ حرکت عام تھی کہ وہ اپنی مجالس میں جان بوجھ کر پاد مارتے پھر اس پر ہنسا کرتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔
واللہ اعلم۔
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو بےجا پیٹنے سے منع فرمایا ہے نیز پاد کی آواز کی طرف توجہ نہ دینے کی ترغیب دی ہے۔
دور جاہلیت میں لوگ پاد کی آواز سن کر ہنسا کرتے تھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ جب ایسی چیز واقع ہو تو اس کی طرف توجہ ہی نہ دی جائے۔
حضرت لوط علیہ السلام کی قوم میں یہ حرکت عام تھی کہ وہ اپنی مجالس میں جان بوجھ کر پاد مارتے پھر اس پر ہنسا کرتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔
واللہ اعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4942]
Sahih Muslim Hadith 7191 in Urdu
عروة بن الزبير الأسدي ← عبد الله بن زمعة القرشي