🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
98. سورة {لم يكن} :
باب: سورۃ «لم يكن» کی تفسیر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4960
حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُبَيٍّ:" إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ"، قَالَ أُبَيٌّ: آللَّهُ سَمَّانِي لَكَ، قَالَ:" اللَّهُ سَمَّاكَ لِي"، فَجَعَلَ أُبَيٌّ يَبْكِي، قَالَ قَتَادَةُ: فَأُنْبِئْتُ أَنَّهُ قَرَأَ عَلَيْهِ لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ سورة البينة آية 1.
ہم سے حسان بن حسان نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ تمہیں قرآن (سورۃ لم یکن) پڑھ کر سناؤں۔ ابی بن کعب نے عرض کیا: کیا آپ سے اللہ تعالیٰ میرا نام بھی لیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں، اللہ تعالیٰ نے تمہارا نام بھی مجھ سے لیا ہے۔ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ یہ سن کر رونے لگے۔ قتادہ نے بیان کیا کہ مجھے خبر دی گئی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سورۃ «لم يكن الذين كفروا من أهل الكتاب‏» پڑھ کر سنائی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4960]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب
Newقتادة بن دعامة السدوسي ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة ثبت مشهور بالتدليس
👤←👥همام بن يحيى العوذي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newهمام بن يحيى العوذي ← قتادة بن دعامة السدوسي
ثقة
👤←👥حسان بن حسان البصري، أبو علي
Newحسان بن حسان البصري ← همام بن يحيى العوذي
صدوق يخطئ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
4961
أمرني أن أقرئك القرآن
صحيح البخاري
3809
أمرني أن أقرأ عليك
صحيح البخاري
4960
أمرني أن أقرأ عليك القرآن
صحيح البخاري
4959
الله أمرني أن أقرأ عليك لم يكن الذين كفروا قال وسماني قال نعم فبكى
صحيح مسلم
1864
أمرني أن أقرأ عليك
صحيح مسلم
6343
الله أمرني أن أقرأ عليك لم يكن الذين كفروا قال وسماني قال نعم قال فبكى
صحيح مسلم
1865
الله أمرني أن أقرأ عليك لم يكن الذين كفروا قال وسماني لك قال نعم قال فبكى
صحيح مسلم
6343
الله أمرني أن أقرأ عليك قال آلله سماني لك قال الله سماك لي قال فجعل أبي يبكي
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4960 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4960
حدیث حاشیہ:
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ قرآن پاک کے حافظ قاری ہونے کی بنا پر اللہ کے ہاں اتنے مقبول ہوئے کہ خود اللہ پاک نے اپنے پیارے رسول کو حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے سامنے قرآن پاک سنانے کا حکم فرمایا، اس قسمت کا کیا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4960]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1864
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابی سے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں قرآن سناؤں۔ انہوں نے پوچھا، کیا اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو میرا نام لے کرفرمایا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے تیرا نام لے کر فرمایا ہے۔ تو حضرت ابی رونے لگے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1864]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اہل علم اور صاحب کمال کی قدر دانی کے لیے اس کو ایک اعلیٰ اور افضل شخصیت کا قرآن سنانا ایک پسندیدہ طرز عمل ہے،
جس سے اس کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور اس کو شرف و سعادت نصیب ہوتا ہے۔
حضرت ابی ابن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ان کے قرآن میں مہارت و شغف کی بنا پر یہ بلند مقام نصیب ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کا نام لے کر اپنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کو قرآن مجید سنانے کی سعادت سے مشرف فرمانے کا حکم دیا،
تاکہ آئندہ بھی کوئی استاد اپنے شاگرد کو قرآن سنانے میں عار محسوس نہ کرے اور تاکہ شاگرد اپنے استاد کا لہجہ اور طرز اور اچھی طرح محفوظ کرے اور آگے اپنے شاگردوں کو اسی طرح پڑھائے اور حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس دوہری سعادت کے حصول پر اس قدر فرحت و مسرت حاصل ہوئی کہ وہ اس کا حق شکر ادا نہ کر سکتے تھے،
اس لیے روپڑے کہ میں کیا،
میری حیثیت کیا،
اور کہاں اتنا شرف کہ رب کائنات نام لے کر،
اپنے رسول کو مجھے یہ شرف عنایت فرمانے کا حکم صادر فرمائے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1864]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1865
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ میں تمہں سورۃ ﴿لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا﴾ سناؤں۔ انھوں نے پوچھا: اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے میرا نام لیا ہے؟یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو میرا نام بتایا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ تو وہ رونے لگے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1865]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
سورہ ﴿لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا﴾ ایک مختصر سورت ہے جس میں دین کے اصول و مبادی اور اہم ارکان کو بیان کیا گیا ہے کافر و مشرک لوگوں کا انجام و مقام اور ایمان و عمل صالح سے متصف لوگوں کا شرف و قدراور بدلہ بیان کیا گیا ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1865]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4959
4959. حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابی بن کعب ؓ سے فرمایا: اللہ تعالٰی نے مجھے حکم دیا ہے کہ تمہیں سورت ﴿لَمْ يَكُنِ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟﴾ پڑھ کر سناؤں۔ حضرت ابی بن کعب ؓ نے عرض کیا: اللہ تعالٰی نے میرا نام لیا تھا؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔ اس پر وہ خوشی سے رونے لگے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4959]
حدیث حاشیہ:
یہ سورت مدنی ہے۔
اس میں آٹھ آیات ہیں۔
خوشی کے مارے رونے لگے کہ کہاں میں ایک ناچیز بندہ اور کہاں وہ شہنشاہ ارض وسماء۔
بعضوں نے کہا کہ ڈر سے رو دیئے کہ اس عنایت و نوازش کا شکریہ تجھ سے کیونکر ہوسکے گا۔
عرب کے اہل کتاب اور مشرکین اپنے خیالات باطلہ واوہام فاسدہ پر اس قدر قانع تھے کہ وہ کسی قیمت پر بھی ان کو چھوڑنے والے نہ تھے لیکن اللہ نے ایک ایسا بہترین رسول جو مجسم دلیل تھا مبعوث فرمایا کہ ان کی پاکیزہ تعلیمات سے کتنے خوش نصیب راہ راست پر آ گئے۔
کتنوں کو ہدایت نصیب ہوئی۔
سورۃ بینہ میں اللہ پاک نے اسی مضمون کو بہترین انداز میں بیان فرمایا ہے اور قرآن پاک کو ﴿صُحُفا مُطَهرَة﴾ اور رسول کریم کو لفظ بینۃ سے تعبیر فرمایا ہے۔
صدق اللہ تبارك وتعالیٰ آمنا به وصدقنا ربنافاکتبنا مع الشاھدین (آمین)
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4959]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4961
4961. حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابی بن کعب ؓ سے فرمایا: اللہ تعالٰی نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں قرآن پاک پڑھ کر سناؤں۔ انہوں نے پوچھا: کیا اللہ تعالٰی نے آپ سے میرا نام لیا تھا؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔ حضرت ابی بن کعب ؓ نے پھر عرض کی: میرا ذکر رب العالمین کی بارگاہ میں ہوا؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔ اس پر ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4961]
حدیث حاشیہ:
خوشی اور مسرت کے آنسو تھے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4961]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4961
4961. حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابی بن کعب ؓ سے فرمایا: اللہ تعالٰی نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں قرآن پاک پڑھ کر سناؤں۔ انہوں نے پوچھا: کیا اللہ تعالٰی نے آپ سے میرا نام لیا تھا؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔ حضرت ابی بن کعب ؓ نے پھر عرض کی: میرا ذکر رب العالمین کی بارگاہ میں ہوا؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔ اس پر ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4961]
حدیث حاشیہ:

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ قرآن کریم کے حافظ اور بہترین قاری تھے اس بنا پر رب العالمین کے ہاں اتنے مقبول ہوئے کہ خود اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ وہ آپ کو قرآن سنائیں۔
اس سے ان کی خوش قسمتی کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔

اس بات کا احتمال تھا کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ حکم دیا ہو۔
کہ اپنی امت میں سے کسی صحابی کو قرآن سنائیں، کسی کے نام سے صراحت نہ ہو۔
اس لیے حضرت ابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی:
کیا اللہ تعالیٰ نے میرا نام لیا تھا؟ جب انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے معلوم ہو گیا۔
کہ اللہ رب العزت نے ان کا نام لیا تھا، تو مارے خوشی کے رونے لگے کہ مالک کائنات نے اس بندہ عاجز کو شرف بخشا ہے۔

بعض اہل علم سے یہ بھی منقول ہے کہ حضرت ابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ رونا خوف کی بنا پر تھا کہ اس ناچیز پر غیر معمولی عنایات و نوازشات کا شکر مجھ سے ادا نہ ہو سکے گا۔
ہمارے رجحان کے مطابق پہلے معنی زیادہ وزنی اور قرین قیاس ہیں۔
واللہ اعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4961]