🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب كيف نزول الوحي وأول ما نزل:
باب: وحی کیونکر اتری اور سب سے پہلے کون سی آیت نازل ہوئی تھی؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4979
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ، وَابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، قَالَا:"لَبِثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ عَشْرَ سِنِينَ يُنْزَلُ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ، وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرَ سِنِينَ".
ہم سے عبداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا ‘ ان سے شیبان بن عبدالرحمٰن نے ‘ ان سے یحییٰ بن کثیر نے ‘ ان سے سلمی بن عبدالرحمٰن بن عوف نے بیان کیا کہ مجھ کو عائشہ، عبداللہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہم نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں دس سال رہے اور قرآن نازل ہوتا رہا اور مدینہ میں بھی دس سال تک رہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وہاں بھی قرآن نازل ہوتا رہا۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 4979]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں دس سال رہے اور آپ پر قرآن نازل ہوتا رہا اور مدینہ طیبہ میں بھی دس سال تک رہے اور آپ پر وہاں بھی قرآن نازل ہوتا رہا۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 4979]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله
Newعائشة بنت أبي بكر الصديق ← عبد الله بن العباس القرشي
صحابي
👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة
Newأبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة إمام مكثر
👤←👥يحيى بن أبي كثير الطائي، أبو نصر
Newيحيى بن أبي كثير الطائي ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري
ثقة ثبت لكنه يدلس ويرسل
👤←👥شيبان بن عبد الرحمن التميمي، أبو معاوية
Newشيبان بن عبد الرحمن التميمي ← يحيى بن أبي كثير الطائي
ثقة
👤←👥عبيد الله بن موسى العبسي، أبو محمد
Newعبيد الله بن موسى العبسي ← شيبان بن عبد الرحمن التميمي
ثقة يتشيع
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
4979
لبث النبي بمكة عشر سنين ينزل عليه القرآن وبالمدينة عشر سنين
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4979 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4979
حدیث حاشیہ:
قرآن پاک کا جو حصہ ہجرت سے پہلے نازل ہوا وہ مکی کہلاتا ہے اور جو ہجرت کے بعد نازل ہوا وہ مدنی کہلاتا ہے اس اصول کو یاد رکھنا بہت ضروری ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4979]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4979
حدیث حاشیہ:

امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا قائم کیا ہوا عنوان دواجزاء پر مشتمل ہے:
وحی کا نزول کیسے ہوا؟ سب سے پہلے کیا نازل ہوا؟ جبکہ صحیح بخاری کے آغاز میں ایک عنوان ان الفاظ میں قائم کیا تھا:
(باب كيف كان بدء الوحي إلى رسول الله ‏صلى الله عليه وسلم)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پروحی کا آغاز کیونکر ہوا۔
ان دونوں میں فرق کے متعلق حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ نزول کا تقاضا ہے کہ جس ہستی کی ذریعے سے وحی نازل کی گئی اس کا وجود تھا، یعنی فرشتہ وحی۔
اور وحی عام ہے، خواہ انزال کی شکل میں ہو یا الہام کی صورت میں، وہ وحی حالت بیداری میں ہویا خواب کی صورت میں۔
(فتح الباري: 6/9)

ہمارے رجحان کے مطابق اس عنوان میں یہ ملحوظ ہے کہ نزول قرآن کی کیفیت کیا تھی جسے فضائل قرآن میں بیان کیا گیا ہے۔
وہ یہ ہے کہ قرآن کو ایک ہی بار نہیں بلکہ آہستہ آہستہ حسب ضرورت اتارا گیا ہے۔
اس اعتبار سے زمانہ وحی تئیس (23)
برس ہے اور مسلسل وحی کا زمانہ بیس (20)
برس پر محیط ہے، جیسا کہ حدیث بالا میں ہے۔
اس میں پہلے تین برسوں کو شامل نہیں کیا گیا کیونکہ پہلی وحی کے بعد تقریباً تین برس تک وحی کا سلسلہ رک گیا تھا، جسے فترت وحی کہا جاتا ہے۔
اگرچہ فرشتے کی آمد و رفت رہتی تھی لیکن مسلسل وحی کا سلسلہ تین سال بعد شروع ہوا۔

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن اصول تدریج کے مطابق بیس برس میں مکمل ہوا ہے اور یہ اس با برکت کتاب کی فضیلت ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے:
کافر کہتے ہیں کہ یہ سارا قرآن ایک ہی بار رسول پر کیوں نہ اتارا گیا؟ بات ایسی ہی ہے اور یہ اس لیے کہ ہم آپ کی ڈھارس بندھاتے جائیں اور اس لیے کہ بھی ہم آپ کوپڑھ کرسناتے جائیں اور اس لیے بھی کہ جب بھی یہ کافر آپ کے پاس کوئی اعتراض لائیں تو اس کا ٹھیک اور برجستہ جواب اور بہترین توجیہ ہم آپ کو بتادیں۔
(الفرقان: 32۔
33)
اس آیت میں آہستہ آہستہ قرآن اتارنے کے تین فائدے بیان ہوئے ہیں:
۔
حوصلہ شکن حالات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دینے اور ڈھارس بندھانے کی ضرورت کو پورا کیا گیا۔
۔
قرآن یاد کرنا، اسے سمجھنا اور اس پر عمل پیرا ہوکر اپنے پورے اندازِ زندگی میں تبدیلی کرنا اسی صورت میں ممکن تھا۔
۔
کفار کے اعتراضات کا بر وقت جواب دینا اور ان کے مطالبات کی حقیقت واضح کرنا بھی مقصود تھا۔

دیگر روایات سے پتا چلتا ہے وحی کا آغاز ﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ﴾ سے ہوا، اس کے بعد سلسلہ وحی مؤقف ہوگیا،پھر ﴿يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ﴾ سے دوبارہ مسلسل وحی آنا شروع ہوئی۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4979]

Sahih Bukhari Hadith 4979 in Urdu