صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. باب القراء من أصحاب النبى صلى الله عليه وسلم:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں قرآن کے قاری (حافظ) کون کون تھے؟
حدیث نمبر: 5003
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، قَالَ:" سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَنْ جَمَعَ الْقُرْآنَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: أَرْبَعَةٌ، كُلُّهُمْ مِنْ الْأَنْصَارِ: أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، ومُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، وزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، وأَبُو زَيْدٍ". تَابَعَهُ الْفَضْلُ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ،عَنْ ثُمَامَةَ، عَنْ أَنَسٍ.
ہم سے حفص بن عمر بن غیاث نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں قرآن کو کن لوگوں نے جمع کیا تھا، انہوں نے بتلایا کہ چار صحابیوں نے، یہ چاروں قبیلہ انصار سے ہیں۔ ابی بن کعب، معاذ بن جبل، زید بن ثابت اور ابوزید۔ اس روایت کی متابعت فضل نے حسین بن واقد سے کی ہے۔ ان سے ثمامہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 5003]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 5003 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5003
حدیث حاشیہ:
(حضرت انس نے یہ اپنی معلومات کی بنا پر کہا ہے۔
ان چار کے علاوہ اور بھی کئی بزرگ صحابی ہیں‘ جنہوں نے بقدر توفیق قرآن مجید جمع فرمایا تھا، حضرت انس کی مراد پورے قرآن مجید سے ہے کہ سارا قرآن صرف ان چار حضرات نے جمع کیا تھا)
(حضرت انس نے یہ اپنی معلومات کی بنا پر کہا ہے۔
ان چار کے علاوہ اور بھی کئی بزرگ صحابی ہیں‘ جنہوں نے بقدر توفیق قرآن مجید جمع فرمایا تھا، حضرت انس کی مراد پورے قرآن مجید سے ہے کہ سارا قرآن صرف ان چار حضرات نے جمع کیا تھا)
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5003]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5003
حدیث حاشیہ:
1۔
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی معلومات کے اعتبار سے ایسا کہا ہے کیونکہ ان چار کے علاوہ دیگر بے شمار صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین ہیں جنھوں نے بقدر توفیق الٰہی قرآن جمع کیا تھا۔
یہ بھی ممکن ہے کہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مقصد انصار میں سے قرآن جمع کرنے والے بتانا ہو کہ وہ صرف چار تھے۔
یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مراد پورے قرآن مجید سے ہو، یعنی سارا قرآن صرف ان چار حضرات نے جمع کیا تھا۔
بہر حال ہمارے رجحان کے مطابق یہ حصر انصار کے لحاظ سے ہے کہ ان میں سے صرف چار حضرات نے قرآن جمع کیا تھا مہاجرین اور دیگر حضرات کے اعتبار سے یہ حصر نہیں ہے۔
واللہ اعلم۔
2۔
حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ اوس اور خزرج کا مقابلہ ہوا تھا۔
جب قبیلہ اوس نے اپنے چار باکمال لوگ ذکر کیے تو قبیلہ خزرج نے اپنے چار حفاظ قرآن کو پیش کیا، جن کا ذکر اس حدیث میں ہوا ہے۔
(فتح الباري: 64/9)
1۔
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی معلومات کے اعتبار سے ایسا کہا ہے کیونکہ ان چار کے علاوہ دیگر بے شمار صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین ہیں جنھوں نے بقدر توفیق الٰہی قرآن جمع کیا تھا۔
یہ بھی ممکن ہے کہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مقصد انصار میں سے قرآن جمع کرنے والے بتانا ہو کہ وہ صرف چار تھے۔
یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مراد پورے قرآن مجید سے ہو، یعنی سارا قرآن صرف ان چار حضرات نے جمع کیا تھا۔
بہر حال ہمارے رجحان کے مطابق یہ حصر انصار کے لحاظ سے ہے کہ ان میں سے صرف چار حضرات نے قرآن جمع کیا تھا مہاجرین اور دیگر حضرات کے اعتبار سے یہ حصر نہیں ہے۔
واللہ اعلم۔
2۔
حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ اوس اور خزرج کا مقابلہ ہوا تھا۔
جب قبیلہ اوس نے اپنے چار باکمال لوگ ذکر کیے تو قبیلہ خزرج نے اپنے چار حفاظ قرآن کو پیش کیا، جن کا ذکر اس حدیث میں ہوا ہے۔
(فتح الباري: 64/9)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5003]
ثمامة بن عبد الله الأنصاري ← أنس بن مالك الأنصاري