یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
13. باب فضل قل هو الله أحد:
باب: سورۃ قل ھو اللہ احد کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 5014
وَزَادَ أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَخْبَرَنِي أَخِي قَتَادَةُ بْنُ النُّعْمَانِ، أَنَّ رَجُلًا قَامَ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ مِنَ السَّحَرِ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ لَا يَزِيدُ عَلَيْهَا، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا أَتَى الرَّجُلُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.
اور ابومعمر (عبداللہ بن عمرو منقری) نے اتنا زیادہ کیا کہ ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا، ان سے امام مالک بن انس نے، ان سے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابی صعصعہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ مجھے میرے بھائی قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ ایک صحابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سحری کے وقت سے کھڑے «قل هو الله أحد» پڑھتے رہے۔ ان کے سوا اور کچھ نہیں پڑھتے تھے۔ پھر جب صبح ہوئی تو دوسرے صحابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے (باقی حصہ) پچھلی حدیث کی طرح بیان کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 5014]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 5014 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5014
حدیث حاشیہ:
اس سورت سے خصوصی محبت اور اس کا ورد وظیفہ ترقیات دارین کے لئے اکسیر کا درجہ رکھتا ہے کیونکہ اس میں توحید خالص کابیان اور جملہ اقسام شرک کی مذمت اور عقائد باطلہ کی بیخ کنی ہے۔
تشریح:
یہ حدیث آگے موصولا ً مذکور ہوگی اس میں یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو فوج کا سردار بنا کر بھیجا وہ اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھاتا اور ہر رکعت میں قراءت ﴿ قُل ھُوَ اللہُ أَحَد﴾ پر ختم کرتا۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا کہ اس سے کہہ دو کہ اللہ پاک بھی اس سے محبت رکھتا ہے۔
دوسری روایت میں ہے کہ ﴿ قُل ھُوَ اللہُ أَحَد﴾ کی محبت نے تجھ کو جنت میں داخل کر دیا ہے۔
تیسری حدیث میں ہے جو شخص سوتے وقت سو بار ﴿ قُل ھُوَ اللہُ أَحَد﴾ کو پڑھ لیا کرے قیامت کے دن پرورد گار فرمائے گا میرے بندے! جنت میں داخل ہو جا جو تیرے داہنے طرف ہے۔
اس سورت کے تین بار پڑھ لینے سے پور ے قرآن مجید کے ختم کا ثواب مل جاتا ہے۔
اس سورت سے خصوصی محبت اور اس کا ورد وظیفہ ترقیات دارین کے لئے اکسیر کا درجہ رکھتا ہے کیونکہ اس میں توحید خالص کابیان اور جملہ اقسام شرک کی مذمت اور عقائد باطلہ کی بیخ کنی ہے۔
تشریح:
یہ حدیث آگے موصولا ً مذکور ہوگی اس میں یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو فوج کا سردار بنا کر بھیجا وہ اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھاتا اور ہر رکعت میں قراءت ﴿ قُل ھُوَ اللہُ أَحَد﴾ پر ختم کرتا۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا کہ اس سے کہہ دو کہ اللہ پاک بھی اس سے محبت رکھتا ہے۔
دوسری روایت میں ہے کہ ﴿ قُل ھُوَ اللہُ أَحَد﴾ کی محبت نے تجھ کو جنت میں داخل کر دیا ہے۔
تیسری حدیث میں ہے جو شخص سوتے وقت سو بار ﴿ قُل ھُوَ اللہُ أَحَد﴾ کو پڑھ لیا کرے قیامت کے دن پرورد گار فرمائے گا میرے بندے! جنت میں داخل ہو جا جو تیرے داہنے طرف ہے۔
اس سورت کے تین بار پڑھ لینے سے پور ے قرآن مجید کے ختم کا ثواب مل جاتا ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5014]
Sahih Bukhari Hadith 5014 in Urdu
أبو سعيد الخدري ← قتادة بن النعمان الأنصاري