🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
32. باب نهي رسول الله صلى الله عليه وسلم عن نكاح المتعة آخرا:
باب: آخر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح متعہ سے منع کر دیا تھا (اس لیے اب متعہ حرام ہے)۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5116
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ سُئِلَ عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ، فَرَخَّصَ، فَقَالَ لَهُ مَوْلًى لَهُ: إِنَّمَا ذَلِكَ فِي الْحَالِ الشَّدِيدِ، وَفِي النِّسَاءِ قِلَّةٌ أَوْ نَحْوَهُ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: نَعَمْ".
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر محمد بن جعفر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے بیان کیا، ان سے ابوجمرہ نے بیان کیا، کہا میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، ان سے عورتوں کے ساتھ نکاح متعہ کرنے کے متعلق سوال کیا گیا تھا تو انہوں نے اس کی اجازت دی، پھر ان کے ایک غلام نے ان سے پوچھا کہ اس کی اجازت سخت مجبوری یا عورتوں کی کمی یا اسی جیسی صورتوں میں ہو گی؟ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ ہاں۔ (نوٹ: یہ حرمت سے قبل کی بات ہے بعد میں ہر حالت میں ہر شخص کے لیے متعہ حرام قرار دیا گیا جو قیامت تک کے لیے ہے)۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5116]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥نصر بن عمران الضبعي، أبو جمرة
Newنصر بن عمران الضبعي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة ثبت
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← نصر بن عمران الضبعي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥محمد بن جعفر الهذلي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newمحمد بن جعفر الهذلي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر
Newمحمد بن بشار العبدي ← محمد بن جعفر الهذلي
ثقة حافظ
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 5116 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5116
حدیث حاشیہ:
یہ حرمت سے قبل کی بات ہے بعد میں ہر حالت میں ہر شخص کے لئے متعہ حرام قرار دے دیا گیا جو قیامت تک کے لئے حرام ہے۔
أن التحریم و الإباحة کانتا مرتین فکانت حلالة قبل خیبر ثم حرمت یوم خیبرثم أبیحت یوم أوطاس ثم حرمت یومئذ بعد ثلاثة أیام تحریما موبدا إلی یوم القیٰمة و استمر التحریم کما في روایة مسلم عن سبرة الجهني أنه کان مع رسول اللہ صلی اللہ علیه وسلم فقال یا أیھا الناس إنی قد کنت اٰذنت لکم في الاستمتاع من النساء و إن اللہ قد حرم ذالك إلی یوم القیٰمة فمن کان عند ہ منھن شيئ فلیخل سبیله فلعل علیا لم یبلغه الإباحة یوم أوطاس لقلتھا کما روی مسلم رخص رسول اللہ صلی اللہ علیه و سلم عام أوطاس في المتعة ثلاثا ثم نهی عنھا (حاشیۃ بخاری)
یعنی متعہ کی حرمت اور اباحت دو مرتبہ ہوئی ہے خیبر سے پہلے متعہ حلال تھا پھر خیبر میں اسے حرام قرار دیا گیا پھر جنگ اوطاس میں اسے حلال کیا گیا پھر تین دن کے بعد یہ ہمیشہ قیامت تک کے لئے حرام کر دیا گیا اور یہ تحریم دائمی ہے جیسا کہ سبرہ کی روایت میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے لوگو! میں نے تم کو متعہ کی اجازت دی تھی مگر اب اسے اللہ نے قیامت تک کے لئے حرام کر دیا ہے پس جن کے پاس کوئی متعہ والی عورت ہو تواسے فوراً نکال دو پس شاید علی رضی اللہ عنہ کو یوم اوطاس کی حلت اور دوبارہ حرمت کا علم نہیں ہوسکا کیونکہ یہ حلت صرف تین دن رہی بعد میں حرام مطلق ہونے کا اعلان کر دیا گیا۔
اب متعہ قیامت تک کے لئے کسی بھی حالت میں حلال نہیں ہے آج کے بعض متجدد اپنی تجدد پسند ی چمکانے کے لئے متعہ کی حرمت میں کچھ موشگافیاں کرتے ہیں جو محض اباطیل ہیں۔
شیعہ حضرات کو چھوڑ کر اہل سنت و الجماعت کے جملہ فرقے اس پر اتفاق رکھتے ہیں کہ اب متعہ کے حلال ہونے کے لئے کوئی بھی صورت سامنے آ جائے مگر متعہ ہمیشہ کے لئے ہر حال میں حرام قرار دیا گیا ہے، اس کی حلت کے لئے کوئی گنجائش قطعاً نہیں ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5116]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5116
حدیث حاشیہ:
(1)
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا:
آپ کے فتوے نے بہت شہرت حاصل کر لی ہے اور اس کے متعلق شعراء نے شعر کہنے شروع کر دیے ہیں تو انھوں نے فرمایا:
میں نے تو اس طرح کا فتوی نہیں دیا بلکہ وہ تو ایک اضطراری صورت، یعنی مجبوری کی حالت میں تھا جیسا کہ مجبوری کے وقت مردار اور خنزیر کے گوشت کا کھانا جائز ہے۔
میں نے ایسے سخت حالات کے متعلق نرم گوشہ اختیار کیا تھا۔
میرے نزدیک نکاح متعہ حرام ہے۔
(السنن الکبریٰ للبیهقي: 205/7) (2)
پیش کردہ روایت سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے متعہ کی رخصت اضطراری حالت میں دی تھی، اس لیے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے نعم کہا اور خاموش ہو گئے اور غلام کو کوئی جواب نہ دیا۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے پہلے فتوے سے رجوع کر چکے تھے۔
والله أعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5116]

Sahih Bukhari Hadith 5116 in Urdu