صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
36. باب النظر إلى المرأة قبل التزويج:
باب: باب: نکاح سے پہلے عورت کو دیکھنا۔
حدیث نمبر: 5125
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رَأَيْتُكِ فِي الْمَنَامِ يَجِيءُ بِكِ الْمَلَكُ فِي سَرَقَةٍ مِنْ حَرِيرٍ، فَقَالَ لِي: هَذِهِ امْرَأَتُكَ، فَكَشَفْتُ عَنْ وَجْهِكِ الثَّوْبَ، فَإِذَا أَنْتِ هِيَ، فَقُلْتُ: إِنْ يَكُ هَذَا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ يُمْضِهِ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد عروہ بن زبیر نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ (نکاح سے پہلے) میں نے تمہیں خواب میں دیکھا کہ ایک فرشتہ (جبرائیل علیہ السلام) ریشم کے ایک ٹکڑے میں تمہیں لپیٹ کر لے آیا ہے اور مجھ سے کہہ رہا ہے کہ یہ تمہاری بیوی ہے۔ میں نے اس کے چہرے سے کپڑا ہٹایا تو وہ تم تھیں۔ میں نے کہا کہ اگر یہ خواب اللہ کی طرف سے ہے تو وہ اسے خود ہی پورا کر دے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5125]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله | صحابي | |
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق | ثقة فقيه مشهور | |
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر هشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي | ثقة إمام في الحديث | |
👤←👥حماد بن زيد الأزدي، أبو إسماعيل حماد بن زيد الأزدي ← هشام بن عروة الأسدي | ثقة ثبت فقيه إمام كبير مشهور | |
👤←👥مسدد بن مسرهد الأسدي، أبو الحسن مسدد بن مسرهد الأسدي ← حماد بن زيد الأزدي | ثقة حافظ |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 5125 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5125
حدیث حاشیہ:
(1)
امام بخاری رحمہ اللہ کا اس حدیث سے استدلال دو امر پر موقوف ہے:
٭رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما کو خواب میں دیکھا اور حضرات انبیاء علیہم السلام کے خواب برحق اور سچے ہوتے ہیں۔
اس کا خواب میں دیکھنا ایسا ہے گویا آپ نے اسے بیداری کی حالت میں دیکھا ہے۔
٭ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما کو حقیقت کے اعتبار سے دیکھا تھا، آپ کی تصویر نہیں دکھائی گئی تھی جیسا کہ واضح طور پر حدیث کے الفاظ دلالت کرتے ہیں۔
اگرچہ اس وقت سن طفولیت کا دور تھا لیکن نکاح سے پہلے اپنی منگیتر کو دیکھ لینے کا حکم اس سے ثابت ہوتا ہے۔
(فتح الباري: 227/9) (2)
نکاح سے پہلے عورت کو ایک نظر دیکھ لینے میں مصلحت یہ ہے کہ اطمینان قلب حاصل ہو جائے اور مزید رغبت کا باعث بنے۔
والله اعلم
(1)
امام بخاری رحمہ اللہ کا اس حدیث سے استدلال دو امر پر موقوف ہے:
٭رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما کو خواب میں دیکھا اور حضرات انبیاء علیہم السلام کے خواب برحق اور سچے ہوتے ہیں۔
اس کا خواب میں دیکھنا ایسا ہے گویا آپ نے اسے بیداری کی حالت میں دیکھا ہے۔
٭ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما کو حقیقت کے اعتبار سے دیکھا تھا، آپ کی تصویر نہیں دکھائی گئی تھی جیسا کہ واضح طور پر حدیث کے الفاظ دلالت کرتے ہیں۔
اگرچہ اس وقت سن طفولیت کا دور تھا لیکن نکاح سے پہلے اپنی منگیتر کو دیکھ لینے کا حکم اس سے ثابت ہوتا ہے۔
(فتح الباري: 227/9) (2)
نکاح سے پہلے عورت کو ایک نظر دیکھ لینے میں مصلحت یہ ہے کہ اطمینان قلب حاصل ہو جائے اور مزید رغبت کا باعث بنے۔
والله اعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5125]
Sahih Bukhari Hadith 5125 in Urdu
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق