🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

36. بَابُ النَّظَرِ إِلَى الْمَرْأَةِ قَبْلَ التَّزْوِيجِ:
باب: باب: نکاح سے پہلے عورت کو دیکھنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5125
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رَأَيْتُكِ فِي الْمَنَامِ يَجِيءُ بِكِ الْمَلَكُ فِي سَرَقَةٍ مِنْ حَرِيرٍ، فَقَالَ لِي: هَذِهِ امْرَأَتُكَ، فَكَشَفْتُ عَنْ وَجْهِكِ الثَّوْبَ، فَإِذَا أَنْتِ هِيَ، فَقُلْتُ: إِنْ يَكُ هَذَا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ يُمْضِهِ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد عروہ بن زبیر نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ (نکاح سے پہلے) میں نے تمہیں خواب میں دیکھا کہ ایک فرشتہ (جبرائیل علیہ السلام) ریشم کے ایک ٹکڑے میں تمہیں لپیٹ کر لے آیا ہے اور مجھ سے کہہ رہا ہے کہ یہ تمہاری بیوی ہے۔ میں نے اس کے چہرے سے کپڑا ہٹایا تو وہ تم تھیں۔ میں نے کہا کہ اگر یہ خواب اللہ کی طرف سے ہے تو وہ اسے خود ہی پورا کر دے گا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 5125]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں خواب میں دیکھا کہ فرشتہ تمہیں ایک ریشمی کپڑے میں لپیٹ کر لایا اور مجھے کہا: یہ آپ کی بیوی ہے۔ میں نے تمہارے چہرے سے نقاب الٹا تو وہ تم ہی تھیں۔ میں نے (اپنے دل میں) کہا: اگر یہ واقعی اللہ کی طرف سے ہے تو وہ اسے ضرور پورا کرے گا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 5125]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5126
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ،" أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، جِئْتُ لِأَهَبَ لَكَ نَفْسِي، فَنَظَرَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَعَّدَ النَّظَرَ إِلَيْهَا وَصَوَّبَهُ ثُمَّ طَأْطَأَ رَأْسَهُ، فَلَمَّا رَأَتِ الْمَرْأَةُ أَنَّهُ لَمْ يَقْضِ فِيهَا شَيْئًا جَلَسَتْ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: أَيْ رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ لَمْ تَكُنْ لَكَ بِهَا حَاجَةٌ فَزَوِّجْنِيهَا، فَقَالَ: هَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَيْءٍ؟ قَالَ: لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: اذْهَبْ إِلَى أَهْلِكَ، فَانْظُرْ هَلْ تَجِدُ شَيْئًا، فَذَهَبَ ثُمَّ رَجَعَ، فَقَالَ: لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا وَجَدْتُ شَيْئًا، قَالَ: انْظُرْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ، فَذَهَبَ ثُمَّ رَجَعَ، فَقَالَ: لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَا خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ، وَلَكِنْ هَذَا إِزَارِي، قَالَ سَهْلٌ: مَا لَهُ رِدَاءٌ فَلَهَا نِصْفُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا تَصْنَعُ بِإِزَارِكَ إِنْ لَبِسْتَهُ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهَا مِنْهُ شَيْءٌ، وَإِنْ لَبِسَتْهُ لَمْ يَكُنْ عَلَيْكَ مِنْهُ شَيْءٌ، فَجَلَسَ الرَّجُلُ حَتَّى طَالَ مَجْلِسُهُ ثُمَّ قَامَ، فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُوَلِّيًا، فَأَمَرَ بِهِ فَدُعِيَ، فَلَمَّا جَاءَ، قَالَ: مَاذَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ؟ قَالَ: مَعِي سُورَةُ كَذَا وَسُورَةُ كَذَا وَسُورَةُ كَذَا عَدَّدَهَا، قَالَ: أَتَقْرَؤُهُنَّ عَنْ ظَهْرِ قَلْبِكَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: اذْهَبْ فَقَدْ مَلَّكْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے ابوحازم سلمہ بن دینار نے، ان سے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے کہ ایک خاتون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں آپ کی خدمت میں اپنے آپ کو ہبہ کرنے آئی ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف دیکھا اور نظر اٹھا کر دیکھا، پھر نظر نیچی کر لی اور سر کو جھکا لیا۔ جب خاتون نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں فرمایا تو بیٹھ گئیں۔ اس کے بعد آپ کے صحابہ میں سے ایک صاحب کھڑے ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اگر آپ کو ان کی ضرورت نہیں تو ان کا نکاح مجھ سے کرا دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تمہارے پاس کوئی چیز ہے؟ انہوں نے عرض کی کہ نہیں یا رسول اللہ، اللہ کی قسم! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے گھر جاؤ اور دیکھو شاید کوئی چیز مل جائے۔ وہ گئے اور واپس آ کر عرض کی کہ نہیں یا رسول اللہ! میں نے کوئی چیز نہیں پائی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور دیکھ لو، اگر ایک لوہے کی انگوٹھی بھی مل جائے۔ وہ گئے اور واپس آ کر عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے لوہے کی انگوٹھی بھی نہیں ملی، البتہ یہ میرا تہمد ہے۔ سہل رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ان کے پاس چادر بھی نہیں تھی (ان صحابی نے کہا کہ) ان خاتون کو اس تہمد میں سے آدھا عنایت فرما دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تمہارے تہمد کا کیا کرے گی اگر تم اسے پہنو گے تو اس کے لیے اس میں سے کچھ باقی نہیں رہے گا۔ اس کے بعد وہ صاحب بیٹھ گئے اور دیر تک بیٹھے رہے پھر کھڑے ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں واپس جاتے ہوئے دیکھا اور انہیں بلانے کے لیے فرمایا، انہیں بلایا گیا۔ جب وہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا کہ تمہارے پاس قرآن مجید کتنا ہے۔ انہوں نے عرض کیا فلاں فلاں سورتیں۔ انہوں نے ان سورتوں کو گنایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم ان سورتوں کو زبانی پڑھ لیتے ہو۔ انہوں نے ہاں میں جواب دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ جاؤ میں نے اس خاتون کو تمہارے نکاح میں اس قرآن کی وجہ سے دیا جو تمہارے پاس ہے۔ ان سورتوں کو اس سے یاد کرا دو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 5126]
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی: اللہ کے رسول! میں آپ کی خدمت میں خود کو ہبہ کرنے کے لیے آئی ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف دیکھا اپنی نظر کو اس کی طرف اونچا کیا، پھر اسے نیچا کر لیا پھر سر مبارک جھکا لیا۔ جب خاتون نے دیکھا کہ آپ نے اس کے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کیا تو وہ بیٹھ گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ایک صاحب کھڑے ہوئے اور عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر آپ کو اس کی ضرورت نہیں تو اس کا نکاح میرے ساتھ کر دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تیرے پاس کوئی چیز ہے؟ اس نے عرض کی: اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! میرے پاس کچھ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے گھر جاؤ شاید کوئی چیز مل جائے۔ وہ دوبارہ گیا اور واپس آ کر کہا: اللہ کے رسول! مجھے لوہے کی انگوٹھی بھی نہیں ملی لیکن میرا تہبند حاضر ہے۔ حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس کے پاس اوڑھنے کی چادر بھی نہ تھی۔ اس آدمی نے کہا: اس خاتون کو اس تہبند سے نصف دے دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ تیرے تہبند کو کیا کرے گی؟ اگر تو اسے پہنے گا تو اس کے لیے کچھ نہیں بچے گا اور اگر وہ اسے پہنے گی تو اس سے تجھ پر کچھ نہیں ہوگا۔ اس کے بعد وہ بیٹھ گیا اور دیر تک وہاں براجمان رہا، پھر اٹھ کر چلا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس جاتے ہوئے دیکھا۔ آخرکار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور اسے بلا لیا گیا۔ جب وہ حاضرِ خدمت ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تجھے کچھ قرآن یاد ہے؟ اس نے عرض کی: فلاں فلاں اور فلاں سورت مجھے یاد ہے، اس نے ان سورتوں کو شمار کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم ان سورتوں کو زبانی پڑھ لیتے ہو؟ اس نے کہا: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ، میں نے اس قرآن کے بدلے جو تمہیں یاد ہے اس خاتون کا عقد تجھ سے کر دیا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 5126]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں