🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
112. باب لا يخلون رجل بامرأة إلا ذو محرم، والدخول على المغيبة:
باب: محرم کے سوا کوئی غیر مرد کسی غیر عورت کے ساتھ تنہائی نہ اختیار کرے اور ایسی عورت کے پاس نہ جائے جس کا شوہر موجود نہ ہو سفر وغیرہ میں گیا ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5232
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِيَّاكُمْ وَالدُّخُولَ عَلَى النِّسَاءِ"، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَرَأَيْتَ الْحَمْوَ؟ قَالَ:" الْحَمْوُ: الْمَوْتُ".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے یزید بن ابی حبیب نے، ان سے ابوالخیر نے اور ان سے عقبہ بن عامر نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عورتوں میں جانے سے بچتے رہو اس پر قبیلہ انصار کے ایک صحابی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! دیور کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے؟ (وہ اپنی بھاوج کے ساتھ جا سکتا ہے یا نہیں؟) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دیور یا (جیٹھ) کا جانا ہی تو ہلاکت ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5232]
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خود کو اجنبی عورتوں کے پاس جانے سے دور رکھو۔ ایک انصاری نے دریافت کیا: اللہ کے رسول! دیور جیٹھ کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دیور موت ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5232]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عقبة بن عامر الجهني، أبو الأسود، أبو أسيد، أبو سعاد، أبو حماد، أبو عبس، أبو عامر، أبو عمروصحابي
👤←👥مرثد بن عبد الله اليزني، أبو الخير
Newمرثد بن عبد الله اليزني ← عقبة بن عامر الجهني
ثقة
👤←👥يزيد بن قيس الأزدي، أبو رجاء
Newيزيد بن قيس الأزدي ← مرثد بن عبد الله اليزني
ثقة فقيه وكان يرسل
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث
Newالليث بن سعد الفهمي ← يزيد بن قيس الأزدي
ثقة ثبت فقيه إمام مشهور
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء
Newقتيبة بن سعيد الثقفي ← الليث بن سعد الفهمي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
5232
إياكم والدخول على النساء فقال رجل من الأنصار يا رسول الله أفرأيت الحمو قال الحمو الموت
صحيح مسلم
5674
إياكم والدخول على النساء فقال رجل من الأنصار يا رسول الله أفرأيت الحمو قال الحمو الموت
جامع الترمذي
1171
إياكم والدخول على النساء فقال رجل من الأنصار يا رسول الله أفرأيت الحمو قال الحمو الموت
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 5232 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5232
حدیث حاشیہ:
حمو سے خاوند کے وہ رشتہ دار مراد ہیں جن کا نکاح اس عورت سے جائز ہے جیسے خاوند کا بھائی، بھتیجا، بھانجا، چچا، چچازاد بھائی، ماموں کا بیٹا وغیرہ جن سے کسی جائز صورت میں اس عورت کا نکاح ہو سکتا ہے لیکن وہ رشتہ دار مراد نہیں ہیں جو محرم ہیں جیسے خاوند کا باپ بیٹا وغیرہ ان کا تنہا ئی میں جانا جائز ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5232]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5232
حدیث حاشیہ:
(1)
حمو سے مراد وہ رشتے دار ہیں جو اس کے باپ اور بیٹوں کے علاوہ ہوں، یعنی شوہر کے بھائی، بھتیجے، بھانجے اور چچا، ماموں وغیرہ کیونکہ یہ رشتے دار عورت کے محرم نہیں ہیں۔
اگر شوہر فوت ہو جائے یا بیوی کو طلاق مل جائے تو ان کے ساتھ نکاح ہو سکتا ہے۔
(2)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان رشتے داروں کو موت قرار دیا ہے کہ عام طور پر ان سے غفلت اور سستی کی جاتی ہے، اس بنا پر خطرناک نتائج سامنے آتے ہیں۔
یہ حضرات خاوند کی عدم موجودگی میں اس کی بیوی سے خلوت کرتے ہیں تو اگر معاملہ بوس و کنار تک محدود ہو تو دین کی ہلاکت اور اگر بدکاری تک نوبت پہنچ جائے تو جان کی ہلاکت ہے۔
اس میں عورت کی بھی ہلاکت ہے کہ شوہر کو پتا چلنے کے بعد وہ اسے طلاق دے دے گا یا غیرت میں آ کر قتل کر دے گا۔
(3)
غور و فکر کرنے سے یہ حدیث مذکورہ بالا دونوں مسائل کے لیے دلیل بن سکتی ہے۔
والله المستعان
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5232]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5674
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم عورتوں کے پاس جانے سے بچو۔ تو ایک انصاری آدمی نے دریافت کیا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! دیور کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دیور موت ہے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5674]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
الحمو:
خاوند کا قریبی رشتہ دار،
مثلا بھائی،
چچازاد،
ماموں زاد،
بھتیجا،
چچا،
کیونکہ بقول امام نووی رحمہ اللہ اہل لغت کے نزدیک بالا تفاق،
احماء،
حمو کی جمع ہے۔
)
سے مراد عورت کے خاوند کے رشتہ دار ہیں،
مثلاً اس کا چچا،
بھائی،
بھتیجا وغیر ہم ہے اور اختان سے مراد،
بیوی کے اقارب ہیں اور اصھار کا اطلاق،
دونوں کے عزیزواقارب پر ہوتا ہے اور یہاں حمو سے مراد خاوند کے باپ اور بیٹے کے علاوہ عزیزواقارب ہیں،
کیونکہ خاوند کا باپ اور بیٹا تو محرم ہیں۔
فوائد ومسائل:
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حمو کو موت قرار دیا ہے،
کیونکہ عام طور پر اس کا عورت کے پاس تنہائی میں ملنا بیٹھنا معیوب خیال نہیں کیا جاتا اور اس کی آڑ میں بسا اوقات ان دونوں میں جنسی تعلقات استوار ہو جاتے ہیں،
جو انسان یعنی مرد اور عورت کے دین کی موت ہے،
اور اگر پتہ چل جائے تو عورت کے لیے رجم کا باعث ہے اور حمو شادی شدہ ہو تو اس کو بھی سنگسار کیا جائے گا اور خاوند غیرت میں آ کر،
ان کو قتل بھی کر سکتا ہے،
یا وہ بیوی کو طلاق دے دے گا،
اس لیے اس سے تنہائی یا خلوت زیادہ خطرناک ہے،
اس لیے حمو کی تنہائی کو معمولی خیال نہیں کرنا چاہیے،
بدقسمتی سے آج ان ہدایات کو اہمیت نہیں دی جاتی،
جس کی بنا پر افسوسناک تعلقات ظہور پذیر ہو رہے ہیں،
بھائی،
بھائی کی بیوی سے تعلقات استوار کر لیتا ہے،
دوست،
دوست کی بیوی کو لے اڑتا ہے،
اس طرح خاندان تباہ ہو رہے ہیں۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5674]

Sahih Bukhari Hadith 5232 in Urdu