صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. باب من طلق وهل يواجه الرجل امرأته بالطلاق:
باب: طلاق دینے کا بیان اور کیا طلاق دیتے وقت عورت کے منہ در منہ طلاق دے؟
حدیث نمبر: 5255
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَسِيلٍ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ، عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى انْطَلَقْنَا إِلَى حَائِطٍ يُقَالُ لَهُ: الشَّوْطُ، حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى حَائِطَيْنِ فَجَلَسْنَا بَيْنَهُمَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اجْلِسُوا هَا هُنَا، وَدَخَلَ وَقَدْ أُتِيَ بِالْجَوْنِيَّةِ، فَأُنْزِلَتْ فِي بَيْتٍ فِي نَخْلٍ فِي بَيْتِ أُمَيْمَةَ بِنْتِ النُّعْمَانِ بْنِ شَرَاحِيلَ وَمَعَهَا دَايَتُهَا حَاضِنَةٌ لَهَا، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: هَبِي نَفْسَكِ لِي، قَالَتْ: وَهَلْ تَهَبُ الْمَلِكَةُ نَفْسَهَا لِلسُّوقَةِ؟ قَالَ: فَأَهْوَى بِيَدِهِ يَضَعُ يَدَهُ عَلَيْهَا لِتَسْكُنَ، فَقَالَتْ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ، فَقَالَ: قَدْ عُذْتِ بِمَعَاذٍ، ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا، فَقَالَ: يَا أَبَا أُسَيْدٍ، اكْسُهَا رَازِقِيَّتَيْنِ وَأَلْحِقْهَا بِأَهْلِهَا".
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن غسیل نے بیان کیا، ان سے حمزہ بن ابی اسید نے اور ان سے ابواسید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ باہر نکلے اور ایک باغ میں پہنچے جس کا نام ”شوط“ تھا۔ جب وہاں جا کر اور باغوں کے درمیان پہنچے تو بیٹھ گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ یہیں بیٹھو، پھر باغ میں گئے، جونیہ لائی جا چکی تھیں اور انہیں کھجور کے ایک گھر میں اتارا۔ اس کا نام امیمہ بنت نعمان بن شراحیل تھا۔ ان کے ساتھ ایک دایہ بھی ان کی دیکھ بھال کے لیے تھی۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس گئے تو فرمایا کہ اپنے آپ کو میرے حوالے کر دے۔ اس نے کہا کیا کوئی شہزادی کسی عام آدمی کے لیے اپنے آپ کو حوالہ کر سکتی ہے؟ بیان کیا کہ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا شفقت کا ہاتھ ان کی طرف بڑھا کر اس کے سر پر رکھا تو اس نے کہا کہ میں تم سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے اسی سے پناہ مانگی جس سے پناہ مانگی جاتی ہے۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ ابواسید! اسے دو رازقیہ کپڑے پہنا کر اسے اس کے گھر پہنچا آؤ۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5255]
حضرت ابو اسید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ باہر نکلے، چلتے چلتے ہم ایسے باغ میں پہنچ گئے جسے شوط کہا جاتا تھا۔ ہم اس کے در و دیوار کے درمیان جا کر بیٹھ گئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ یہاں بیٹھ جاؤ۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اندر تشریف لے گئے، وہاں جونیہ لائی گئی تھی۔ اسے ایک گھر میں بٹھایا گیا جو کھجوروں کے جھنڈ میں تھا اور وہ امیمہ بنت نعمان بن شرجیل کا تھا۔ اس کے ساتھ دیکھ بھال کے لیے ایک دایہ بھی تھی۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اپنے آپ کو میرے حوالے کر دے۔“ اس نے جواب دیا: ”کیا کوئی شہزادی اپنے آپ کو ایک عام آدمی کے حوالے کر سکتی ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور اس کے سر پر رکھا تاکہ اسے سکون حاصل ہو۔ اس نے کہا: «أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ» ”میں تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «لَقَدْ عُذْتِ بِمَعَاذٍ» ”تو نے ایسی ذات سے پناہ مانگی ہے جس کے ذریعے سے پناہ مانگی جاتی ہے۔“ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر ہمارے پاس تشریف لے آئے اور فرمایا: ”اے ابو اسید! اسے دو رازقیہ کپڑے پہنا کر اس کے گھر والوں کے پاس پہنچا دو۔“ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5255]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥مالك بن ربيعة الساعدي، أبو أسيد | صحابي | |
👤←👥حمزة بن أبي أسيد الأنصاري، أبو مالك حمزة بن أبي أسيد الأنصاري ← مالك بن ربيعة الساعدي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥عبد الرحمن بن الغسيل، أبو سليمان عبد الرحمن بن الغسيل ← حمزة بن أبي أسيد الأنصاري | صدوق فيه لين | |
👤←👥الفضل بن دكين الملائي، أبو نعيم الفضل بن دكين الملائي ← عبد الرحمن بن الغسيل | ثقة ثبت |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
5255
| عذت بمعاذ ثم خرج علينا فقال يا أبا أسيد اكسها رازقيتين وألحقها بأهلها |
Sahih Bukhari Hadith 5255 in Urdu
حمزة بن أبي أسيد الأنصاري ← مالك بن ربيعة الساعدي