علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. باب: {لم تحرم ما أحل الله لك} :
باب: اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا ”اے پیغمبر! جو چیز اللہ نے تیرے لیے حلال کی ہے اسے تو اپنے اوپر کیوں حرام کرتا ہے“۔
حدیث نمبر: 5266
حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ صَبَّاحٍ، سَمِعَ الرَّبِيعَ بْنَ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ:" إِذَا حَرَّمَ امْرَأَتَهُ لَيْسَ بِشَيْءٍ، وَقَالَ: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ سورة الأحزاب آية 21".
مجھ سے حسن بن الصباح نے بیان کیا، انہوں نے ربیع بن نافع سے سنا کہ ہم سے معاویہ بن سلام نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے، ان سے یعلیٰ بن حکیم نے، ان سے سعید بن جبیر نے، انہوں نے انہیں خبر دی کہ انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ اگر کسی نے اپنی بیوی کو اپنے اوپر حرام کہا تو یہ کوئی چیز نہیں اور فرمایا کہ تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی عمدہ پیروی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5266]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
5266
| حرم امرأته ليس بشيء وقال لقد كان لكم في رسول الله أسوة حسنة |
صحيح مسلم |
3677
| إذا حرم الرجل عليه امرأته فهي يمين يكفرها وقال لقد كان لكم في رسول الله أسوة حسنة |
بلوغ المرام |
923
| لقد كان لكم في رسول الله اسوة حسنة |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 5266 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5266
حدیث حاشیہ:
بعض اہل سیر نے آیت باب کا شان نزول حضرت ماریہ کے واقعہ کو بتایا ہے جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنے اوپر حرام کر لیا تھا۔
بعض اہل سیر نے آیت باب کا شان نزول حضرت ماریہ کے واقعہ کو بتایا ہے جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنے اوپر حرام کر لیا تھا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5266]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5266
حدیث حاشیہ:
(1)
ایک حدیث میں ہے کہ جب کوئی مرد اپنی بیوی کو اپنے آپ پر حرام قرار دے دے تو وہ قسم شمار ہوگی اور اس کا کفارہ ادا کرنا ہوگا۔
(صحیح مسلم، الطلاق، حدیث: 3676 (1473) (2)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ارشاد کا مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ جب انسان نے اپنی بیوی کو حرام قرار دیتے وقت کوئی نیت کی ہو تو اس وقت اس کی کوئی حیثیت نہیں۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی لونڈی کو اپنے نفس پر حرام کرلیا تو مذکورہ آیت نازل ہوئی۔
(سنن النسائي، عشرة النساء، حدیث: 3411)
اس کے متعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے:
”اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے تمھاری قسموں کا کھول دینا مقرر کر دیا ہے۔
“ (التحریم: 2)
یعنی قسم کا کفارہ دے دیا جائے۔
بعض حضرات کے نزدیک قسم کا کفارہ بھی اس وقت ہوگا جب کسی چیز کو حرام قرار دیتے وقت قسم اٹھائی ہو، بصورت دیگر حرام کرلینا ایک لغوحرکت ہوگی جس پر کوئی کفارہ نہیں ہے۔
والله اعلم
(1)
ایک حدیث میں ہے کہ جب کوئی مرد اپنی بیوی کو اپنے آپ پر حرام قرار دے دے تو وہ قسم شمار ہوگی اور اس کا کفارہ ادا کرنا ہوگا۔
(صحیح مسلم، الطلاق، حدیث: 3676 (1473) (2)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ارشاد کا مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ جب انسان نے اپنی بیوی کو حرام قرار دیتے وقت کوئی نیت کی ہو تو اس وقت اس کی کوئی حیثیت نہیں۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی لونڈی کو اپنے نفس پر حرام کرلیا تو مذکورہ آیت نازل ہوئی۔
(سنن النسائي، عشرة النساء، حدیث: 3411)
اس کے متعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے:
”اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے تمھاری قسموں کا کھول دینا مقرر کر دیا ہے۔
“ (التحریم: 2)
یعنی قسم کا کفارہ دے دیا جائے۔
بعض حضرات کے نزدیک قسم کا کفارہ بھی اس وقت ہوگا جب کسی چیز کو حرام قرار دیتے وقت قسم اٹھائی ہو، بصورت دیگر حرام کرلینا ایک لغوحرکت ہوگی جس پر کوئی کفارہ نہیں ہے۔
والله اعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5266]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 923
طلاق کا بیان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب شوہر اپنی بیوی کو حرام قرار دے تو یہ کوئی چیز نہیں اور فرمایا تمہارے لئے یقیناَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بہترین نمونہ ہے۔ (بخاری) اور مسلم میں ہے کہ جب مرد نے اپنی بیوی کو حرام قرار دے لیا تو وہ قسم شمار ہو گی۔ اس کا کفارہ ادا کرنا پڑے گا۔ «بلوغ المرام/حدیث: 923»
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب شوہر اپنی بیوی کو حرام قرار دے تو یہ کوئی چیز نہیں اور فرمایا تمہارے لئے یقیناَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بہترین نمونہ ہے۔ (بخاری) اور مسلم میں ہے کہ جب مرد نے اپنی بیوی کو حرام قرار دے لیا تو وہ قسم شمار ہو گی۔ اس کا کفارہ ادا کرنا پڑے گا۔ «بلوغ المرام/حدیث: 923»
تخریج:
«أخرجه البخاري، الطلاق، باب "لم ترحم ما أحل الله لك"، حديث:5266، ومسلم، الطلاق، باب وجوب الكفارة علي من حرم امرأته ولم ينو الطلاق، حديث:1473.» تشریح:
1. اس حدیث میں مرد کے اپنی بیوی کو اپنے اوپر حرام کرنے کو ”کچھ بھی نہیں“ سے ذکر کیا گیا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ نہ یہ رجعی طلاق ہے اور نہ بائن اور نہ ظہار‘ بلکہ یہ قسم ہے جس کا کفارہ دیا جائے گا جیسا کہ مسلم کی حدیث میں ہے۔
2. صحیح بخاری میں بھی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ مرد پر قسم کا کفارہ ہوگا۔
3.اس مسئلے کے بارے میں اہل علم کے تیرہ اقوال منقول ہیں۔
ان میں سے راجح قول یہی ہے۔
«أخرجه البخاري، الطلاق، باب "لم ترحم ما أحل الله لك"، حديث:5266، ومسلم، الطلاق، باب وجوب الكفارة علي من حرم امرأته ولم ينو الطلاق، حديث:1473.»
1. اس حدیث میں مرد کے اپنی بیوی کو اپنے اوپر حرام کرنے کو ”کچھ بھی نہیں“ سے ذکر کیا گیا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ نہ یہ رجعی طلاق ہے اور نہ بائن اور نہ ظہار‘ بلکہ یہ قسم ہے جس کا کفارہ دیا جائے گا جیسا کہ مسلم کی حدیث میں ہے۔
2. صحیح بخاری میں بھی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ مرد پر قسم کا کفارہ ہوگا۔
3.اس مسئلے کے بارے میں اہل علم کے تیرہ اقوال منقول ہیں۔
ان میں سے راجح قول یہی ہے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 923]
Sahih Bukhari Hadith 5266 in Urdu
سعيد بن جبير الأسدي ← عبد الله بن العباس القرشي