صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. باب: {لم تحرم ما أحل الله لك} :
باب: اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا ”اے پیغمبر! جو چیز اللہ نے تیرے لیے حلال کی ہے اسے تو اپنے اوپر کیوں حرام کرتا ہے“۔
حدیث نمبر: 5268
حَدَّثَنَا فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَاءِ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ الْعَسَلَ وَالْحَلْوَاءَ، وَكَانَ إِذَا انْصَرَفَ مِنَ الْعَصْرِ دَخَلَ عَلَى نِسَائِهِ فَيَدْنُو مِنْ إِحْدَاهُنَّ، فَدَخَلَ عَلَى حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ فَاحْتَبَسَ أَكْثَرَ مَا كَانَ يَحْتَبِسُ، فَغِرْتُ فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ، فَقِيلَ لِي: أَهْدَتْ لَهَا امْرَأَةٌ مِنْ قَوْمِهَا عُكَّةً مِنْ عَسَلٍ، فَسَقَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُ شَرْبَةً، فَقُلْتُ: أَمَا وَاللَّهِ لَنَحْتَالَنَّ لَهُ، فَقُلْتُ لِسَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ: إِنَّهُ سَيَدْنُو مِنْكِ، فَإِذَا دَنَا مِنْكِ فَقُولِي: أَكَلْتَ مَغَافِيرَ؟ فَإِنَّهُ سَيَقُولُ لَكِ: لَا، فَقُولِي لَهُ: مَا هَذِهِ الرِّيحُ الَّتِي أَجِدُ مِنْكَ، فَإِنَّهُ سَيَقُولُ لَكِ: سَقَتْنِي حَفْصَةُ شَرْبَةَ عَسَلٍ، فَقُولِي لَهُ: جَرَسَتْ نَحْلُهُ الْعُرْفُطَ وَسَأَقُولُ ذَلِكِ، وَقُولِي أَنْتِ يَا صَفِيَّةُ ذَاكِ، قَالَتْ: تَقُولُ سَوْدَةُ: فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ قَامَ عَلَى الْبَابِ فَأَرَدْتُ أَنْ أُبَادِيَهُ بِمَا أَمَرْتِنِي بِهِ فَرَقًا مِنْكِ، فَلَمَّا دَنَا مِنْهَا، قَالَتْ لَهُ سَوْدَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَكَلْتَ مَغَافِيرَ؟ قَالَ: لَا، قَالَتْ: فَمَا هَذِهِ الرِّيحُ الَّتِي أَجِدُ مِنْكَ، قَالَ: سَقَتْنِي حَفْصَةُ شَرْبَةَ عَسَلٍ، فَقَالَتْ: جَرَسَتْ نَحْلُهُ الْعُرْفُطَ، فَلَمَّا دَارَ إِلَيَّ قُلْتُ لَهُ نَحْوَ ذَلِكَ، فَلَمَّا دَارَ إِلَى صَفِيَّةَ، قَالَتْ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ، فَلَمَّا دَارَ إِلَى حَفْصَةَ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا أَسْقِيكَ مِنْهُ؟ قَالَ: لَا حَاجَةَ لِي فِيهِ، قَالَتْ: تَقُولُ سَوْدَةُ: وَاللَّهِ لَقَدْ حَرَمْنَاهُ، قُلْتُ لَهَا: اسْكُتِي".
ہم سے فروہ بن ابی المغراء نے بیان کیا، کہا ہم سے علی بن مسہر نے، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شہد اور میٹھی چیزیں پسند کرتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز سے فارغ ہو کر جب واپس آتے تو اپنی ازواج کے پاس واپس تشریف لے جاتے اور بعض سے قریب بھی ہوتے تھے۔ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے اور معمول سے زیادہ دیر ان کے گھر ٹھہرے۔ مجھے اس پر غیرت آئی اور میں نے اس کے بارے میں پوچھا تو معلوم ہوا کہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو ان کی قوم کی کسی خاتون نے انہیں شہد کا ایک ڈبہ دیا ہے اور انہوں نے اسی کا شربت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پیش کیا ہے۔ میں نے اپنے جی میں کہا: اللہ کی قسم! میں تو ایک حیلہ کروں گی، پھر میں نے سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے پاس آئیں گے اور جب آئیں تو کہنا کہ معلوم ہوتا ہے آپ نے مغافیر کھا رکھا ہے؟ ظاہر ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے جواب میں انکار کریں گے۔ اس وقت کہنا کہ پھر یہ بو کیسی ہے جو آپ کے منہ سے معلوم کر رہی ہوں؟ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کہیں گے کہ حفصہ نے شہد کا شربت مجھے پلایا ہے۔ تم کہنا کہ غالباً اس شہد کی مکھی نے مغافیر کے درخت کا عرق چوسا ہو گا۔ میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی کہوں گی اور صفیہ تم بھی یہی کہنا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ سودہ رضی اللہ عنہ کہتی تھیں کہ اللہ کی قسم! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جونہی دروازے پر آ کر کھڑے ہوئے تو تمہارے خوف سے میں نے ارادہ کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ بات کہوں جو تم نے مجھ سے کہی تھی۔ چنانچہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سودہ رضی اللہ عنہا کے قریب تشریف لے گئے تو انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! کیا آپ نے مغافیر کھایا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں۔ انہوں نے کہا، پھر یہ بو کیسی ہے جو آپ کے منہ سے محسوس کرتی ہوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حفصہ نے مجھے شہد کا شربت پلایا ہے۔ اس پر سودہ رضی اللہ عنہ بولیں اس شہد کی مکھی نے مغافیر کے درخت کا عرق چوسا ہو گا۔ پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے تو میں نے بھی یہی بات کہی اس کے بعد جب صفیہ رضی اللہ عنہا کے یہاں تشریف لے گئے تو انہوں نے بھی اسی کو دہرایا۔ اس کے بعد جب پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حفصہ رضی اللہ عنہا کے یہاں تشریف لے گئے تو انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ شہد پھر نوش فرمائیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ اس پر سودہ بولیں، واللہ! ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو روکنے میں کامیاب ہو گئے، میں نے ان سے کہا کہ ابھی چپ رہو۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5268]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شہد اور میٹھی چیز بہت پسند کرتے تھے۔ اور جب نمازِ عصر سے فراغت کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس آتے تو اپنی ازواج کے پاس تشریف لے جاتے اور بعض کے قریب بھی ہوتے تھے۔ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے اور ان کے ہاں معمول سے زیادہ کچھ وقت قیام کیا۔ مجھے اس پر غیرت آئی تو میں نے اس کے متعلق پوچھا۔ مجھے بتایا گیا کہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کو ان کی رشتہ دار خاتون نے شہد کا ڈبہ دیا ہے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس میں سے کچھ پلایا ہے۔ میں نے (اپنے دل میں) کہا: اللہ کی قسم! ہم اس کی روک تھام کے لیے کوئی حیلہ کرتی ہیں۔ چنانچہ میں نے حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا سے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم عنقریب تمہارے پاس تشریف لائیں گے، جب تمہارے قریب آئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنا: کیا آپ نے «مَغَافِيْرَ» (مغافیر) کھا رکھا ہے؟ (ظاہر ہے کہ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے جواب میں انکار کریں گے، اس وقت کہنا: پھر یہ ناگوار سی بو کیسی ہے جو آپ سے محسوس ہو رہی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں گے کہ حفصہ نے مجھے شہد کا شربت پلایا ہے۔ اس پر کہنا: شاید مکھی نے «مَغَافِيْرَ» (مغافیر) کے درخت کا رس چوسا ہے۔ میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی عرض کروں گی اور اے صفیہ رضی اللہ عنہا! تم نے بھی یہی کہنا ہوگا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں: اللہ کی قسم! ابھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دروازے پر قدم رکھا تھا تو تمہاری ہیبت کی وجہ سے میں نے ارادہ کیا کہ میں وہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہہ دوں جو تم نے مجھے کہی تھی، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کے قریب ہوئے تو انہوں نے عرض کی: کیا آپ نے «مَغَافِيْرَ» کھایا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ انہوں نے کہا: پھر یہ ناگوار سی بو کیسی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے تو حفصہ نے شہد کا شربت پلایا ہے۔“ حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نے پھر کہا: شاید شہد کی مکھی نے «مَغَافِيْرَ» کے درخت کا رس چوسا ہوگا۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں نے بھی اسی طرح کہا۔ جب حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے تو انہوں نے بھی اسی بات کو دہرایا۔ اس کے بعد جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے گئے تو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! کیا میں آپ کو وہ شہد نہ پلاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کی قسم! ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو روکنے میں کامیاب ہو گئی ہیں۔ میں نے ان سے کہا: ابھی خاموش رہو۔“ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5268]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
5268
| جرست نحله العرفط فلما دار إلي قلت له نحو ذلك فلما دار إلى صفية قالت له مثل ذلك فلما دار إلى حفصة قالت يا رسول الله ألا أسقيك منه قال لا حاجة لي فيه قالت تقول سودة والله لقد حرمناه قلت لها اسكتي |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 5268 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5268
حدیث حاشیہ:
کہیں بات کھل نہ جائے اور حفصہ رضی اللہ عنہا تک پہنچ نہ جائے۔
حضرت سودہ رضی اللہ عنہ حالانکہ عمر میں عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہیں بڑی بلکہ بوڑھی تھیں مگر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے ڈرتی رہتی تھیں کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عنایت اور محبت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر بہت تھی۔
ہر ایک بیوی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کے خلاف کرنے سے ڈرتی تھی کہ کہیں آنحضرت کو ہم سے خفا نہ کر دیں۔
سوکنوں میں ایسا جلاپا فطری ہوتا ہے۔
اللہ پاک ازواج مطہرات کے ایسے حالات کو معاف کرنے والا ہے۔
واللہ ھو الغفور الرحیم۔
کہیں بات کھل نہ جائے اور حفصہ رضی اللہ عنہا تک پہنچ نہ جائے۔
حضرت سودہ رضی اللہ عنہ حالانکہ عمر میں عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہیں بڑی بلکہ بوڑھی تھیں مگر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے ڈرتی رہتی تھیں کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عنایت اور محبت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر بہت تھی۔
ہر ایک بیوی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کے خلاف کرنے سے ڈرتی تھی کہ کہیں آنحضرت کو ہم سے خفا نہ کر دیں۔
سوکنوں میں ایسا جلاپا فطری ہوتا ہے۔
اللہ پاک ازواج مطہرات کے ایسے حالات کو معاف کرنے والا ہے۔
واللہ ھو الغفور الرحیم۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5268]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5268
حدیث حاشیہ:
(1)
ازواج مطہرات رضی اللہ عنہم کے دو گروپ تھے:
ایک گروپ میں حضرت عائشہ، حضرت سودہ، حضرت حفصہ اور حضرت صفیہ رضی اللہ عنہما تھیں۔
اس گروپ کی کمان حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما کے پاس تھی۔
دوسرے گروپ میں حضرت زینب بنت جحش، حضرت ام سلمہ اور دوسری ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن تھیں۔
اس کی قیادت حضرت زینب کرتی تھیں۔
بعض اوقات رقابت اور طبعی غیرت کی وجہ سے باہمی حیلہ سازی ہوتی رہتی تھی۔
مذکورہ واقعہ بھی اس قسم کی طبعی غیرت کا نتیجہ ہے۔
(2)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا مقام سب سے اعلیٰ تھا۔
یہی وجہ ہے کہ دیگر ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن ان سے خائف رہتی تھیں۔
(3)
امام بخاری رحمہ اللہ نے اس واقعے سے ثابت کیا ہے کہ مذکورہ واقعہ تحریم شہد سے متعلق ہے، اپنے آپ پر عورت حرام کر لینے کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
عورت کو خود پر حرام کرلینا اور نوعیت رکھتا ہے جبکہ کھانا حرام کرنا ایک دوسری نوعیت رکھتا ہے۔
ان میں ایک کو دوسرے پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔
اگر کوئی خاوند، بیوی کو اپنے آپ پر حرام کرتا ہے تو اس کی نیت کو دیکھا جائے گا اور کھانا حرام کرنے سے قسم کا کفارہ دینا پڑے گا۔
والله اعلم. (4)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے سدی کے حوالے سے لکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے گھر سے شہد نوش کیا تھا لیکن یہ روایت مرسل اور شاذ ہونے کی وجہ سے مرجوح ہے۔
(فتح الباري: 467/9)
(1)
ازواج مطہرات رضی اللہ عنہم کے دو گروپ تھے:
ایک گروپ میں حضرت عائشہ، حضرت سودہ، حضرت حفصہ اور حضرت صفیہ رضی اللہ عنہما تھیں۔
اس گروپ کی کمان حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما کے پاس تھی۔
دوسرے گروپ میں حضرت زینب بنت جحش، حضرت ام سلمہ اور دوسری ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن تھیں۔
اس کی قیادت حضرت زینب کرتی تھیں۔
بعض اوقات رقابت اور طبعی غیرت کی وجہ سے باہمی حیلہ سازی ہوتی رہتی تھی۔
مذکورہ واقعہ بھی اس قسم کی طبعی غیرت کا نتیجہ ہے۔
(2)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا مقام سب سے اعلیٰ تھا۔
یہی وجہ ہے کہ دیگر ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن ان سے خائف رہتی تھیں۔
(3)
امام بخاری رحمہ اللہ نے اس واقعے سے ثابت کیا ہے کہ مذکورہ واقعہ تحریم شہد سے متعلق ہے، اپنے آپ پر عورت حرام کر لینے کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
عورت کو خود پر حرام کرلینا اور نوعیت رکھتا ہے جبکہ کھانا حرام کرنا ایک دوسری نوعیت رکھتا ہے۔
ان میں ایک کو دوسرے پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔
اگر کوئی خاوند، بیوی کو اپنے آپ پر حرام کرتا ہے تو اس کی نیت کو دیکھا جائے گا اور کھانا حرام کرنے سے قسم کا کفارہ دینا پڑے گا۔
والله اعلم. (4)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے سدی کے حوالے سے لکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے گھر سے شہد نوش کیا تھا لیکن یہ روایت مرسل اور شاذ ہونے کی وجہ سے مرجوح ہے۔
(فتح الباري: 467/9)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5268]
Sahih Bukhari Hadith 5268 in Urdu
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق