🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب وقول الله تعالى: {كلوا من طيبات ما رزقناكم} :
باب: اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ”مسلمانو! کھاؤ ان پاکیزہ چیزوں کو جن کی ہم نے تمہیں روزی دی ہے“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5374
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:" مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ طَعَامٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ حَتَّى قُبِضَ".
ہم سے یوسف بن عیسیٰ مروزی نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن فضیل نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے، ان سے ابوحازم (سلمہ بن اشجعی) نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر کبھی ایسا زمانہ نہیں گزرا کہ کچھ دن برابر انہوں نے پیٹ بھر کے کھانا کھایا ہو اور اسی سند سے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: 5374]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥سلمان مولى عزة، أبو حازم
Newسلمان مولى عزة ← أبو هريرة الدوسي
ثقة
👤←👥الفضيل بن غزوان الضبي، أبو الفضل
Newالفضيل بن غزوان الضبي ← سلمان مولى عزة
ثقة
👤←👥محمد بن الفضيل الضبي، أبو عبد الرحمن
Newمحمد بن الفضيل الضبي ← الفضيل بن غزوان الضبي
صدوق عارف رمي بالتشيع
👤←👥يوسف بن عيسى الزهري، أبو يعقوب
Newيوسف بن عيسى الزهري ← محمد بن الفضيل الضبي
ثقة
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 5374 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5374
حدیث حاشیہ:
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل خانہ نے کبھی گندم کی روٹی سے مسلسل تین دن تک پیٹ نہیں بھرا۔
(صحیح مسلم، الزھد، حدیث: 7444 (2970)
اس سے معلوم ہوا کہ مطلق طور پر سیر ہونے کی نفی نہیں بلکہ مسلسل تین دن گندم کی روٹی سے سیر ہونے کی نفی ہے۔
اس کا سبب غالباً کھانے پینے کی چیزوں کی کمی ہے۔
بعض اوقات ایسا بھی ہوتا تھا کہ کھانا وغیرہ تو موجود ہوتا لیکن وہ دوسروں کو دے دیتے تھے اور اپنی ضروریات پر دوسروں کی ضروریات کو ترجیح دیتے تھے۔
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے رخصت ہو گئے لیکن کبھی آپ نے جو کی روٹی سیر ہو کر نہ کھائی۔
(صحیح البخاري، الأطعمة، حدیث: 5414، و فتح الباري: 643/9)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5374]

Sahih Bukhari Hadith 5374 in Urdu